ایشیا کپ: نسیم شاہ نے دو گیندوں پر افغانستان اور انڈیا کو باہر کر دیا

2,045

پاکستان نے ایشیا کپ کے ایک اہم میچ میں ایک بار پھر آخری اوور میں افغانستان کو شکست دے کر دو ٹیموں کو فائنل کی دوڑ سے باہر کر دیا۔

نسیم شاہ نے افغانستان کے خلاف میچ کی آخری اوور میں دو چھکے لگا کر پاکستان کو فتح دلوائی (اے ایف پی)

پاکستان نے ایشیا کپ کے ایک اہم میچ میں ایک بار پھر آخری اوور میں افغانستان کو شکست دے کر دو ٹیموں کو فائنل کی دوڑ سے باہر کر دیا۔

پچھلی بار جب یہ دونوں ٹیمیں ٹی ٹوئنٹی میچ میں آمنے سامنے آئی تھیں تو آصف علی وہ کھلاڑی تھے جو افغانستان اور جیت کے درمیان حائل ہو گئے تھے۔

مگر اس بار بولر بھی الگ تھے اور بلے باز بھی۔

اس صورتحال کو افغان کپتان نے بھی صرف ایک جملے میں بیان کیا: ’وہی کہانی ہے کہ ہم میچ کو فنش نہیں کر پائے۔‘

خیر میچ کی طرف آتے ہیں اور ہوا کچھ یوں کہ پاکستان ایک بار پھر میچ کو آخری اوور تک لے گیا جہاں اسے جیتنے اور فائنل میں رسائی حاصل کرنے کے لیے 11 رنز درکار تھے۔

اور کریز پر کوئی بھی اوپر کے نمبر پر کھیلنے والا بلے باز موجود نہیں تھا۔ یہ 11 رنز فاسٹ بولر نسیم شاہ اور محمد حسنین کو بنانے تھے۔

اگر آپ کو یاد ہو تو انڈیا کے خلاف ایشیا کپ کے پہلے میچ کے بعد کپتان بابر اعظم نے کہا تھا کہ ’نسیم شاہ نے اچھا آغاز فراہم کیا تھا۔‘ مگر اس بار نسیم شاہ نے بابر اعظم سے یہ بھی کہلوا دیا کہ ’نسیم شاہ نے اچھا فنش کیا۔‘

افغانستان کی طرف سے آخری اوور کرانے فضل الحق فاروقی آئے جو پہلے ہی بابر اعظم، محمد نواز اور خوشدل شاہ کو آؤٹ کر چکے تھے اور سامنے کوئی پراپر بلے باز بھی نہیں تھا۔

مگر نسیم شاہ نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا اور اوور کی پہلی دو گیندوں پر دو چھکے لگا کر افغانستان کے ساتھ ساتھ انڈیا کو بھی ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔

اس بارے میں جب نسیم شاہ سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں بیٹنگ کی پریکٹس تو کرتا ہوں، اور اندازہ تھا کہ بولر وکٹ میں گیند کرائے گا۔‘

نسیم شاہ نے کہا کہ ’یقین تھا کہ میں مار سکتا ہوں۔ سب بھول گئے کہ میں بولر بھی ہوں۔‘

گذشتہ کچھ عرصے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان میچ کسی حد تک وہی اہمیت اور شدت اختیار کر گئے ہیں جو پاکستان اور انڈیا کے میچوں کی ہوتی ہے۔

اور ایسا آج کے میچ میں بھی دکھائی دیا۔ شارجہ کا میدان پاکستانی اور افغان شائقین سے بھرا پڑا تھا اور افغانستان کم سکور پر آؤٹ ہونے کے باوجود پاکستان کو مسلسل جیت کے قریب پہنچنے سے روک رہا تھا۔

پاکستان نے 130 کے ہدف کے تعاقب میں اننگز کا آغاز کیا تو ایشیا کپ میں مسلسل ناکام رہنے والے کپتان بابر اعظم پھر سے ناکام رہے اور پہلے اوور کی دوسری گیند پر بنا کوئی رنز بنائے آؤٹ ہو گئے۔

بس پھر کیا تھا ایشیا کپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے مگر فٹنس مسائل سے دوچار محمد رضوان کے کریز پر ہونے کے باوجود پاکستان دباؤ میں دکھائی دینے لگا اور 18 کے مجموعی سکور پر فخر زمان آؤٹ ہوئے اور 87 کے مجموعی سکور پر محمد رضوان کے ساتھ ساتھ افتخار احمد بھی پویلین لوٹ چکے تھے۔

پاکستان نے ایسی ہی صورتحال میں انڈیا کے خلاف میچ میں محمد نواز کو اوپر کے نمبر پر بیٹنگ کے لیے بھیجنے کا تجربہ کیا تھا جو کامیاب ثابت ہوا تھا اور افغانستان کے خلاف بھی ایسا ہی تجربہ کیا گیا مگر اس بار نائب کپتان شاداب خان کو بھیجا گیا اور انہوں نے بھی مایوس نہیں کیا۔

ایشیا کپ میں مسلسل اپنی بولنگ سے مخالف ٹیموں کو مشکل میں ڈالنے والے شاداب خان نے اس بار اپنی بیٹنگ کے جوہر دکھائے اور ایک اہم موقع پر 26 گیندوں پر تین چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 36 رنز کی اننگز کھیلی۔

دوسری جانب افغان کپتان نے ایک بار پھر ’غلط‘ فیصلہ کیا اور جب پاکستان دباؤ میں تھا اور وکٹیں گر رہی تھیں تو انہوں نے سٹار بولر راشد خان کے دو اوور روک لیے۔

ذیشان علی zhzeeshan