ایس ڈی پی آئی کرناٹک ریاستی ورکنگ کمیٹی اجلاس میں وقف بورڈ انتخابات کروانے کا مطالبہ

0 22

کئی اہم قرارداد منظور

بنگلور ۔( پریس ریلیز )۔سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI)ریاست کرناٹک شاخہ کے ریاستی ورکنگ کمیٹی اجلاس 30دسمبر 2018کو بنگلور میں واقع پارٹی دفتر میں منعقد کیا گیا۔ ریاستی صدر الیاس محمد تمبے نے اجلاس کی صدارت کی جس میں ریاستی ورکنگ کمیٹی اراکین اور تمام اضلاع کے صدر موجود تھے۔ اجلاس میں مندرجہ ذیل قرار داد منظور کئے گےء۔ 1)۔فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں بگاڑ پیدا کرنے والی چند میڈیا کی مذمت ؛ کرناٹک میں چند ٹی وی چینلس اور اخبارات ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ میڈیا امن و امان قائم کرنے کی اپنی ذمہ داری کو نبھانے کے بجائے ریاست کے عوام میں آپسی رنجش پیدا کررہی ہے۔ایسی کچھ میڈیا ہاؤس جو کچھ سیاستدانوں کی ملکیت ہے وہ گزشتہ 5سالوں سے اس طرح کی شرانگیزی میں ملوث ہیں۔

ایس ڈی پی آئی نے اپنے قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس طرح کے بری ذہنیت کے میڈیا ہاؤسس کی شناخت کرکے ان پر سخت کارروائی کرے۔2)۔ہبلی ۔ انکولہ ریلوے پراجکٹ منسوخی قابل مذمت : ہبلی ۔ انکولہ ریلوے پراجکٹ کو منسوخ کرنے کا مرکزی حکومت کا فیصلہ قابل مذمت ہے کیونکہ اس منصوبے سے ساحلی علاقہ شمالی کرناٹک سے منسلک ہوگا۔یہ ریلوے لائن اس علاقے کے لوگوں کے تجارتی سرگرمیوں کے لیے بے حد ضروری اور فائدہ مند ہے۔ماحولیات کی تباہی کا وجہ بتا کر اس منصوبے کو منسوخ کرنا صحیح نہیں ہے۔ایس ڈی پی آئی نے اس تعلق سے اپنے قرارداد میں کرناٹک کے تمام رکن پارلیمان اور کننڈگاسے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ مرکزی حکومت کے اس طرح کی امتیازی پالیسی کو فوری طور پر روکنے کیلئے مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالیں۔

3)۔ پولیس آفیسر مدھوکر شیٹی کے موت کی تحقیقات ضروری : پولیس انسپکٹر مدھوکر شیٹی کا نام ان کے ایمانداری اور فرض شناسی کے لیے ہندوستان بھر میں مشہور ہے۔ان کی موت کے پیچھے کئی شک و شبہات ہیں اور عوام مطالبہ کررہے ہیں کہ ان کی موت کی بابت سے مناسب تحقیقات ضروری ہے۔پولیس آفیسر مدھوکر شیٹی نے غیر متعصبانہ طور پر اپنی خدمات انجام دیتے تھے خاص طور پر وہ بدعنوانی اور فرقہ واریت کے خلاف سخت اقدامات اٹھاتے تھے۔وہ ایک لوک آیوکتہ ایس پی کے طور پر موثر اور ایماندار تھے اور عوام میں بے حد مقبول تھے۔ایس ڈی پی آئی ان کی موت کو ملک کے لیے ناقابل تلافی خسارہ قرار دیتی ہے۔ 4)۔وقف بورڈ کے انتخابات فوری طور پر کروائے جائیں اور وقف بدعنوانیوں کی تحقیقات کرایا جائے : کرناٹک وقف بورڈ گزشتہ 20ماہ سے غیر فعال ہے کیونکہ اس کے آفس بیئررس کو منتخب کرنے کیلئے انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ ریاستی حکومت معمولی بہانے بنا کر انتخابات کو ملتوی کرتی آرہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی حکومت کو اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتی ہے کہ وہ وقف بورڈ میں ایماندار اور مخلص آفس بیئررس منتخب کرے۔ایس ڈی پی آئی نے اس تعلق سے قرار داد منظور کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وقف جائیداد وں میں ہوئے تمام گھوٹالے، غیر قانونی مقبوضہ جات ، وقف جائیداد کو درپیش خطرات کے تعلق سے تحقیقات کرے اور خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ 6)۔سلواڑی مندر میں زہریلا پرساد کھا کر ہوئے اموات : چامراج نگر ضلع کے سلواڑی مارما مندر میں زہریلا پرساد کھانے کے بعد 16افراد کی اموات ہوئی اور کئی لوگ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قرارد اد کے ذریعے ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس معاملہ میں تحقیقات کرکے مجرموں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرے۔نیزایس ڈی پی آئی مطالبہ کرتی ہے کہ متاثرین کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔