ایس آئی او کی مداخلت کے بعد تبلیغی جماعت کی شبیہ کو داغدار کرنے والے بیان کو ایم بی بی ایس کی نصابی کتاب سے ہٹایا جائے گا۔

"ایسینشیل آف میڈیکل مائکروبیولوجی" نامی کتاب کے مصنفین نے معذرت کی اور اپنی کتاب میں چھپی ہوئی کورونا کے پھیلاؤ کے ساتھ تبلیغی جماعت کے کردار میں تبدیلی کی یقین دہانی کرائی۔ مذکورہ کتاب ایم بی بی ایس کے نصاب کے دوسرے سال کی حوالہ جاتی کتاب ہے۔

مذکورہ کتاب کے سائنس سیکشن کے (epidemiology) سیکشن میں واقعات کو غلط بیانی سے پیش کرنے کا معاملہ اجاگر ہونے کے بعد ایس آئی او نے جے پی پبلشنگ سے بات کی اور ان لائنوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ جس کے بعد مصنفین ڈاکٹر اپروبا شاستری اور ڈاکٹر سندھیا بھٹ کی طرف سے وضاحت جاری کی گئی ہے۔

کتاب کے تیسرے ایڈیشن میں ایک باب شامل ہے جس طرح ہندوستان میں COVID-19 پھیل گیا ، جس میں مصنف نے بتایا ہے کہ تبلیغی جماعت کا اجتماع COVID-19 کے پھیلاؤ کے لئے ایک اہم محرک عنصر تھا۔ تاہم ایسا کوئی معاملہ نہیں ہوا ہے جو اس طرح کے دعوے کی تصدیق کرتا ہو۔ حالانکہ اس وقت ہندوستان میں دیگر بہت سے بڑے سماجی و سیاسی واقعات اور اجتماعات ہوئے لیکن تبلیغی جماعت کو مختلف ذرائع ابلاغ اور گروپوں نے نشانہ بنایا اور اس کی شبیہ کو داغدار کرنے کی کوشش کی۔

سپریم کورٹ اور مختلف اعلیٰ عدالتوں نے تبلیغی جماعت کے تناظر میں اس طرح کی غلط بیانی کی مذمت کی ہے۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے متعلقہ عہدیداروں سے کہا کہ وہ اس نقصان کی بھرپائی کرے۔ اسی کے تحت ایس آئی او نے مصنفین کی طرف سے کی گئی غلطی پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی کتاب کے مذکورہ مواد کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا کیونکہ اس سے معاشرے میں مسلم سماج کی امیج خراب ہوئی ہے۔ ایس آئی او جنوبی مہاراشٹر کے سیکریٹری رافد شہاب نے کہا "پبلشرز اور مصنفین مذکورہ معاملہ کے لیے ذمہ دار ہیں۔ انہیں اپنا کام ایمانداری اور تحقیق کے ساتھ کرنا چاہئے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کتنی آسانی سے غلط خبریں ہمارے معاشرے کی برین واشنگ کرسکتی ہیں۔"

مصدق ال معید
جوائنٹ سکریٹری
ایس آئی او جنوبی مہاراشٹر
۔ 7972471787