ایسا پھل جو مرد کی قوت کو چالیس افراد کے برابر کر دیتا ہے

6,383

انسان کے دل و جسم کو تقویت دینے والی بے شمار جڑی بوٹیوں اور پھلوں کا ذکر طب نبویؐ میں ملتا ہے . تفصیلات کے مطابق ’’بہی ‘‘ ایسا پھل ہے جس کی شکل صورت سیب اور آڑو سے ملتی ہے . اس پھل کا ذکر احادیث مبارکہ میں کئی جگہ پر موجود ہے . بہی کا پھل کھانے والی خواتین کے ہاں خوبصورت بچے پیدا ہوتے ہیں جبکہ مرد کےکھانے سے چالیس افرادکے برابر طاقت آتی ہے .

بہی کے پھل میں کئی طرح کے وٹامن اور معدنیا ت شامل ہیں . بہی کا مربہ اس حوالے سے بہترین غذا ہے جو نہار منہ کھایا جائے تو دل کے عوارض سے بھی بچاتا ہے.حٖضرت طلحٰہ رضی اللہ عنہ بن عبید اللہ روایت فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ اس وقت اپنے اصحاب کی مجلس میں تھے.ان کے ہاتھ میں بہی تھا جس سے وہ کھیل رہے تھے. جب میں بیٹھ گیا تو انہوں نے اسے میری طرف کر کے فرمایا. “اے ابا ذر! یہ دل کو طاقت دیتا ہے سانس کو خوشبودار بناتا ہے اور سینہ سے بوجھ کو اتار دیتا ہے”.حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں.

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “بہی کھاؤ کیونکہ وہ دل کے دورے کو ٹھیک کر کے سینہ سے بوجھ اتار دیتا ہے”.حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک روایت فرماتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “بہی کھانے سے دل پر سے بوجھ اتر جاتا ہے.” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہی کھاؤ کہ دل کے دورے کو دور کرتاہے. اللہ نے ایسا کوئی نبی نہیں مامور فرمایا جسے جنت کا بہی نہ کھلایا ہو کیونکہ یہ فرد کی قوت کو چالیس افراد کے برابر کر دیتا ہے”.نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اپنی حاملہ عورتوں کو بہی کھلایا کرو کیونکہ یہ دل کی بیماریوں کو ٹھیک کرتا ہے اور لڑکے کو حسین بناتا ہے”.حضرت عوف رضی اللہ عنہ بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” بہی کھاؤ کہ یہ دل کے دورے کو ٹھیک کرتا اور دل کو مضبوط کرتا ہے”.بہی کو نہار مُنہ کھانا چاہیٔ بہی کو عربی میں سفر جل کہتے ہیں۔اسکی سب سے زیادہ کاشت ترکی میں ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی پہاڑی علاقوں میں دستیاب ہے۔تاہم پاکستان کے سوا دیگر ممالک میں اسکی کاشت تجارتی پیمانے پر ہوتی ہے۔ اطبا کا کہنا ہے کہ بہی کا مزاج بارد یابس ہے اور ذائقہ کے اعتبار سے اس کا مزاج بھی بدلتا رہتا ہے مگر تمام بہی سرد اور قابض ہوتی ہیں‘ معدہ کے لئے موزوں ہے‘ شیریں بہی میں برودت و یبوست کم ہوتی اور زیادہ معتدل ہوتی ہے ۔

ترش بہی کھانے سے قبض اور خشکی پید اہوتی ہے۔ بہی کی ساری قسمیں تشنگی کو بجھادیتی ہیں اور قے کو روکتی ہیں۔ پیشاب آوراور پاخانہ بستہ کرتی ہے‘آنتوں کے زخم کے لئے نافع ہے۔ اس کا مربہ معدہ اور جگر کو تقویت پہنچاتا ‘دل کو مضبوط کرتا اور سانسوں کو خوشگوار بناتا ہے۔نہار منہ کھانے کی ہدایت کی اور دل کی مختلف بیماریوں کیلئےاسے اکسیر قرار دیا۔

محدثین کے مشاہدات۔

بہی (سفر جل) کےفوائد کے سلسلے میں احادیث میں دو اہم اشارات نظر آتے ہیں۔ ، تجم الفواد اور ابطخائ اس کی تشریح مین ؐمحدث ابو عبید کہتے ہین جیسے آسمان پر بادل آتے ہیں اور پردہ پڑجاتا ہے اسی طرح بطخائ دل کی وہ کیفیت ہے جس میں دل کے پردے دھند لے ہو جاتے ہیں اور ان مین پانی پڑ جاتا ہے یہ Pericardit کی مکمل کیفیت ہے۔

عام طور پر فواد کے معنی دل کا دورہ ہے۔ جو کے دلیا کے فوائد میں حضرت عائشہؓ کی روایت میں فواد کا لفظ اکثر جگہ استعمال ہوا ہے۔ جس کا عمومی مفہوم دل کا دورہ یا دل پر بوجھ سمجھ میں آتا ہے۔

جب یہ لفظ تجم الفواد کی صورت میں سفر جل کے بارے میں مذکور ہوا تو حافظ ابن القیمؒ اس کی تشریح میں کہتے ہیں کہ یہ دل سے سدوں کو نکا لتا ہے۔ اس کی نالیوں سے رکاوٹ کو دور کرتا ہے اور انہیں وسیع کرتا ہے۔ اس سے دل کی وہ کیفیات بھی مراد ہیں کہ جب وہاں پر پانی اکٹھا ہوکر دل کی کارکردگی کو متاثر کرے۔

ان حضرات نے یہ مشاہدات اس وقت کیئے جب لوگ اس امر سے بھی واقف نہ تھے کہ دل کو کونسی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔

تاریخِ طب میں دل کے دورے کی پہلی تشخیص ابودائود کی روایت کے مطابق سعدؓ بن ابی وقاص کی بیماری میں نہ صرف کی گئی بلکہ مریض کا چند دنوں میں مکمل علاج بھی کیا گیا۔

ان احادیث میں نبیﷺ نے دل کے دورے کے علاوہ دوسری بیماریوں کے بارے میں اظہارِ خیال فرماتے ہوئے ان کیفیات اور علامات کاذکر فرمایا جن کے بارے مین علم الامراض کے ماہرین کو بیسویں صدی کے نصف کے قریب جا کر واقفیت ہوئی۔

https://amzn.to/3bJuMw6
ابن القیمؒ نے جن علامات کا ذکر کیا ہے وہCardiac Infraction کے علاوہ Pericarditis اور Endocarditis کا ایک مکمل بیان ہے۔

دل کے مریضوں کو جب کبھی دل کا دورہ پڑتا ہے تو اس کی ابتدا چھاتی میں بوجھ کی کیفیت سے ہوتی ہے اور اس غرض کیلئے مریضوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ Angised یا Isordil کی گولی ہر وقت پاس رکھیں ، جیسے ہی بوجھ محسوس ہو زبان کے نیچے گولی رکھ لیں ۔ مگر نبیﷺ اسی صورتِ حال کا بہتر علاج یہ فرماتے ہیں کہ گولیاں کھانے کی بجائے بہی جیسا لذیز پھل کھالیا جائے۔

جدید مشاہدات

یورپ میں بہی کا جوس بڑا مقبول ہے۔ quince juice اور squash کے نام سے بکنے والا یہ مشروب مفرح ، مصلح کبد اور پیاس کی شدت کم کرنے والا قرار دیا گیا ہے۔بہی کے بارے میں مغربی ممالک میں جو تحقیق ہوئی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ دل و دماغ اور معدہ کو طاقت دیتا ہے۔ ۔ اسہال اور پیچش میں مفید ہےخشک پھل کا گودا ایک ماشہ نہار منہ پیچش کیلئے اکسیر ہے۔ اس سے زیادہ مقدار سے قے آسکتی ہے۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بیماری اگر پرانی ہو تو خشک پھل کا سفوف زیادہ مفید ہے۔ جبکہ نئی بیماری میں شربت یا جوشاندہ مفید ہوتے ہیں

سفرِ جل (بہی) کے درخت کی چھال، جڑوں کی چھال،اور پتوں کا جوشاندہ دماغی امراض خاص طور پر مالیخولیا اور ہسٹیریا میں مفید قرار دیا گیا ہے۔ اسی جوشاندہ کے استعمال سے اختلاجِ قلب کو بھی فائدہ بتایا جاتا ہے۔

بنگال میں بہی کی جڑوں کا جوشاندہ تیسرے اور چوتھے کے بخار (ملیریا) کیلئیے ایک مشہور دوائی ہے۔
اس کے پتوں کو کوٹ کر مرہم سوزش والے حصوں پر لگانے سے فوری سکون ملتا ہے۔

بہی کا مربہ دل کے مریضوں کے علاوہ آنتوں میں السر ، التہاب، پرانی کھانسی،دمہ،، دل کے پھیلائو اور پرانی پیچش کے مریضوں کیلئے بہت فائدہ مند ہے۔

بہی کے پھل کا مربہ, جیم, شربت اور قہوہ بنایا جاتا ہے
خواتین, مردوں اور بچوں میں یکساں مفید ہے , سینے کے امراض اور پھیپھڑوں کی بیماری میں بہت کارآمد ہے , مثانے کی پتھری کو خارج کرتا ہے , جسم کا ورم ختم کرتا ہے, چہرے کو پر رونق بناتا ہے , پیٹ کے امراض اور السر میں مفید ہے, بچوں کے قد میں اضافہ کرتا ہے

اطباءکرام کے مشاہدات

.1میٹھا سفر جل ٹھنڈک پہنچاتا ہے

.2معدہ کیلئے مقوی اور مصلح ہوتا ہے۔

.3پیاس کو کم کرتا ہے۔

.4قے کو روکتا ہے۔

.5پیشاب آور ہے۔

.6پیٹ کے السر میں مفید ہے۔

.7ہرنیہ کا بہترین علاج ہے۔

.8خون پیدا کرتا ہے۔

.9دل اور جگر کو تقویت دیتا ہے۔

.10بھوک کو بڑھاتا ہے۔

.11اس کے کھانے سے جگر کے سدے کھل جاتے ہیں۔

.12جن عورتوں کو مٹی کھانے کی عادت ہو اگر وہ بہی کھائیں تو مٹی کھانے کی عادت جاتی رہے گی۔

.13زیادہ کھانے سے ہچکی آتی ہے۔

.14رعشہ، قونج اور پیچش پیدا ہوتا ہے۔

.15کھانسی کی شدت کو کم کرتا ہے۔

.16اس سے منہ کے چھالے اور گلے کے چھالے مندمل ہوجاتے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی وساطت سے پہنچا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اسے نہار منہ کھایا کرو اس کا مربہ دل کے مریضوں، پرانی کھانسی، دمہ میں بہت زیادہ مفید ہے۔

احادیث، نبویﷺ میں اس پھل کا ذکر کئ جگہ ملتا ہے

حضرت طلحہ بن عبیداللہ روایت فرماتے ہیں ۔ میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ اس وقت اپنے اصحاب کی مجلس میں تھے۔ ان کے ہاتھ میں سفرِ جل تھا جس سے وہ کھیل رہے تھے۔جب میں بیٹھ گیا تو انہوں نے اسے میری طرف کرکے فرمایا اے اباذر: یہ دل کو طاقت دیتا ہے۔ سانس کو خوشبودار بناتا ہے، اور سینے سے بوجھ کو اتار دیتا ہے۔ (ابنِ ماجہ، النسائی)

حضرت جابر بن عبداللہ روائت فرماتے ہیں ۔نبیﷺ نے فرمایا سفر جل کھائو کیونکہ وہ دل کے دورے کو ٹھیک کرکے سینہ سے بوجھ کو اتاردیتا ہے۔ (ابن السنی۔ ابو نعیم)

حضرت انس بن مالکؓ روایت فرماتے ہیں نبیﷺ نے فرمایا سفر جل کھانے سے دل سے بوجھ اتر جاتا ہے۔ انہی سے سفر جل کھانے کے صحیح وقت کی نشان دہی یوں ہوتی ہے کہ نبی ﷺﷺ نے فرمیا سفر جل کو نہار منہ کھانا چاہئے۔

نبیﷺ نے فرمایا سفر جل کھائو کہ دل کے دورے کو دور کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی نبی مامور نہیں فرمایا جسے جنت کا سفرجل نہ کھلایا ہو۔ کیونکہ یہ فرد کی قوت کو چالیس افراد کے برابر کر دیتا ہے۔

نبیﷺنے فرمایا اپنی حاملہ عورتوں کو سفر جل کھلایا کرو کیونکہ یہ دل کی بیماریوں کو ٹھیک کرتا ہے اور لڑکے کو حسین بناتا ہے۔

ان روایات میں ایک ہی پھل کی متواتر تاکید سے معلوم ہوتا ہے۔کہ سرکارِ دوعالمﷺ سفر جل کے طبی کمالات کے قائل تھے۔ انہوں نے اسے نہار منہ کھانے کی ہدایت کی اور دل کی مختلف بیماریوں کیلئےاسے اکسیر قرار دیا۔