مسافر بردار طیارے تو آپ نے بہت دیکھے ہوں گے مگر سیلیریا 500 ایل جیسا طیارہ کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔

کسی لمبے انڈے کی شکل کا یہ طیارہ اپنے منفرد ایرو ڈائنامکس کی وجہ سے اپنی توجہ کھینچ لیتا ہے۔

اس کی منفرد ساخت کی وجہ سے ہوا طیارے کی سطح سے بہت ہموار انداز سے گزر جاتی ہے جس کے باعث اس کی پرواز کے لیے پاور کی کم ضرورت ہوتی ہے اور اس کا مطلب کم ایندھن کا استعمال بھی ہے۔

اوٹو ایوی ایشن کمپنی نے اسے تیار کیا ہے اور اس کے سی ای او ولیم اوٹو جونیئر نے بتایا کہ اس ڈیزائن کی وجہ سے دیگر ٹربو پروپ طیاروں کے مقابلے میں اس کی افادیت 4 سے 5 گنا زیادہ ہے جبکہ جیٹ ایئر کرافٹ سے 7 سے 8 گنا افادیت رکھتا ہے۔
اوٹو ایوی ایشن نے بتایا کہ اس طیارے کی پرواز کی فی گھنٹہ لاگت 328 ڈالرز ہے جبکہ بزنس طیاروں میں یہ خرچہ 2100 ڈالرز فی گھنٹہ ہے جبکہ ایندھن کی بچت 18 سے 25 گیلن ہے۔

اس طیارے میں 6 مسافر سفر کرسکتے ہیں جبکہ یہ 460 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 4500 میل تک سفر کرسکتا ہے۔فی الحال یہ ایک پروٹوٹائپ ماڈل ہے جس کا خیال ولیم اوٹو سنیئر نے پیش کیا اور اس کی ساخت کو لومینر فلو کا نام دیا گیا ہے۔
اس کا مطلب ہوا میں کسی سیال کے بہاؤ ہوتا ہے جس کو ہوا کے مخالف بہتے ہوئے بھی کسی قسم کے مسئلے کا سامنا نہیں ہوتا۔

انڈے جیسی ساخت کے ذریعے لومینر فلو کو حاصل کیا گیا ہے تاکہ وہ ہوا میں ہموار طریقے سے سفر کرسکے۔مگر جب لومینر فلو اتنا اچھا کام کرتا ہے تو تمام طیاروں کو ایسے ڈیزائن کیوں نہیں کیا جاتا؟

اس کے جواب میں ولیم اوٹو نے دیتے ہوئے کہا کہ لومینر فلو کو برقرار رکھنے کے لیے ایسا اسٹرکچر تیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں لچک، مڑنا یا ساخت بدلنا ممکن نہ ہو، یہ دھات سے نہیں ہوسکتا بلکہ ان کا امتزاج ہی واحد راستہ ہے۔

سیلیریا 500 ایل میں سنگل وی 12 ڈیزل انجن ہے جسے جرمنی کمپنی ریڈ نے ڈیزائن کیا۔کمپنی کے مطابق یہ اب تک کا سب سے ایفیسینٹ انجن ہے جو اس منفرد ساخت سے مطابقت رکھتا ہے۔اس طیارے کی پہلی پرواز 2018 میں ہوئی تھی اور اب تک اس کی 50 ٹیسٹ فلائٹس ہوچکی ہیں۔کمپنی کو توقع ہے کہ یہ طیارے 2025 تک فروخت کے لیے دستیاب ہوں گے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔