راجیہ سبھا میں پی ایم مودی کے ذریعہ کسان تحریک اور زرعی قوانین سے متعلق بیان دیے جانے کے بعد کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے اس سلسلے میں مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’جب لاکھوں کسان دہلی کی سرحدوں پر بیٹھے ہیں تو ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ 206 سے زائد کسانوں نے اپنی جان گنوائی ہے اور انھیں دہلی میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے راستوں میں کیل ٹھوک دی گئی ہے۔‘‘ انھوں نے اپنی تقریر کے دوران واضح لفظوں میں یہ بھی کہا کہ ’’ملک میں ایک ماحول پیدا کیا جا رہا ہے کہ مسلمان ملک کا دشمن ہے، اور کسان بھی ملک کا دشمن ہے۔‘‘

 

 یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کے ذریعہ نکالی گئی ٹریکٹر پریڈ میں ہوئے تشدد کے تعلق سے ادھیر رنجن چودھری نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی کارکردگی پر سوال کھڑے کیے۔ انھوں نے حکومت سے سوال کیا کہ امت شاہ جیسا مضبوط وزیر داخلہ ہوتے ہوئے کچھ شورش پسند افراد 26 جنوری کو لال قلعہ تک کیسے پہنچ گئے۔ اس معاملے کی اچھی طرح جانچ ہونی چاہیے۔ ادھیر رنجن نے طنز کستے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’پاکستان میں کیا ہو رہا ہے اس کی جانکاری آپ کے پاس ہے، لیکن یہاں کیا ہو رہا ہے اس کی جانکاری آپ کے پاس نہیں ہے۔ یہ کسان تحریک کو ختم کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔‘‘

 

 واضح رہے کہ پی ایم مودی نے راجیہ سبھا میں اپنی تقریر کے دوران کسانوں کے ذریعہ زرعی قوانین کی واپسی کے مطالبے کو ایک طرح سے مسترد کر دیا اور کہا کہ مسئلہ کا حل بات چیت سے ہی نکل سکتا ہے اس لیے کسانوں کو بات چیت کرنی چاہیے، اور ایم ایس پی تھا، ایم ایس پی ہے اور ایم ایس پی رہے گا۔ گویا کہ پی ایم مودی نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ ایم ایس پی کے تعلق سے سب کچھ حسب سابق ہی رہے گا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ پی ایم مودی کی اس تقریر کے جواب میں کسان لیڈر راکیش ٹکیت کا بھی بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ بات چیت کرنے کے لیے کسان تیار ہیں، لیکن جب تک مسئلہ کا حل نہیں نکلے گا کسان گھر نہیں جائیں گے۔ علاوہ ازیں راکیش ٹکیت نے ایک ٹوئٹ بھی کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’ایم ایس پی دو ریاستوں کے علاوہ نہ تھا، نہ ہے، نہ رہے گا۔ ملک کو گمراہ نہ کریں حکمران۔‘‘