ایردوآن کی ایجیئن کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر یونان کو سنگین نتائج کی دھمکی

178

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ہفتے کے روز یونان کو خبردار کیا ہےکہ اگراس نے ایجیئن پر ترک طیاروں کو’’ہراساں‘‘کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو اسے’’بھاری قیمت‘‘چکاناپڑے گی۔ایردوآن نے بحیرہ اسود کے علاقے میں ایک ریلی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ارے یونان، تاریخ پرایک نظرڈالو۔اگرآپ مزید آگے بڑھیں گے تو آپ کو بھاری قیمت ادا کرناپڑے گی‘‘۔

ترکی نے حالیہ مہینوں میں ایتھنز کی جانب سے اشتعال انگیزکارروائیوں کی شکایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات امن کی کوششوں کو کمزور کرتے ہیں۔نیٹو کے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان طویل عرصے سے سمندری اور فضائی حدود کے تنازعات ہیں جس کی وجہ سے روزانہ فضائیہ کے گشت ترکی کی ساحلی پٹی کے قریب واقع یونانی جزائر کے ارد گرد ہوتے ہیں۔

دوسری جانب ایتھنزنےانقرہ پر یونانی جزائر پر پروازیں کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔ترکی کا کہنا ہے کہ یونان پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد دست خط شدہ امن معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بحیرہ ایجیئن کے جزائر پرفوجی تعینات کر رہا ہے۔

ترک صدر ایردوآن نے یونان پران جزائر پر’’قبضہ‘‘کرنے کا الزام لگایا ہے۔انھوں نے سنہ 1922 میں ایجیئن کے ساحل پرترک افواج کے شہر میں داخل ہونے کے بعد یونانی قبضے کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس یونان کو بتانے کے لیے صرف ایک لفظ ہے:’’ازمیر (یونانی زبان میں سمرنا) کو مت بھولیں‘‘۔