ایران کے سرکاری ٹیلی گرام چینل نے سعودی عرب پر جعلی حملے کی ویڈیو پوسٹ کردی

347

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) سے وابستہ ٹیلی گرام چینل نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پرجعلی حملے کی ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے۔اس سے پہلے امریکا نے سعودی عرب کے خلاف ایران کی طرف سے خطرات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیاتھا۔

پاسداران انقلاب سے وابستہ ٹیلی گرام چینل کے صارفین کی تعداد350,000 سے زیادہ ہے۔ان میں بڑی تعداد میں لوگ بدھ کو پوسٹ کی گئی یہ ویڈیو دیکھ چکے ہیں۔اس میں سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات پر جعلی ڈرون حملے کو دکھایا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے منگل کوکہا تھا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف خطرات پرتشویش لاحق ہے۔

امریکی اخباروال اسٹریٹ جرنل نے سب سے پہلے یہ خبر شائع کی تھی کہ سعودی عرب نے امریکا کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا ہے۔اس میں ایران کی طرف سے مملکت کے خلاف ممکنہ حملے کے بارے میں خبردارکیا گیا تھا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بدھ کو ایک بیان میں اس رپورٹ کو مسترد کردیا تھا اور کہا کہ سعودی عرب کے خلاف ایرانی دھمکیوں کی خبریں ’’بے بنیاد الزامات‘‘پرمبنی ہیں۔تاہم مذکورہ رپورٹ کی اشاعت سے قبل سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی نے سعودی عرب کو ملفوف انداز میں دھمکی دی تھی اورکہا تھا کہ محتاط رہیں، ہم آپ کے لیے آئیں گے‘‘۔

انھوں نے الریاض پرالزام عاید کیا کہ وہ ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کو ہوا دے رہا ہے۔قبل ازیں 17 اکتوبر کوحسین سلامی نے سعودی عرب پر ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے اور اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعے ایرانی نوجوانوں کو "اکسانے” کا الزام عایدکیا تھا اور مملکت کو’’محتاط رہنے‘‘کا انتباہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ ایرانی کردخاتون بائیس سالہ مہسا امینی کی پولیس کے زیرحراست ہلاکت کے بعد ملک گیراحتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔16 ستمبر سے جاری اس احتجاجی تحریک نے ایران کوہلاکررکھ دیا ہے۔مظاہرین ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اورنظام کی تبدیلی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اوسلو میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) نے بدھ کے روز بتایا کہ مظاہروں میں 40 بچّوں اور 24 خواتین سمیت 277 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ایران کےسپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای نے ان مظاہروں کا الزام غیرملکی طاقتوں بالخصوص امریکا اور اسرائیل پرعاید کیا ہے۔ایران کے دوسرے لیڈر بھی غیرملکی طاقتوں ہی کو ان مظاہروں کا موردالزام ٹھہرارہے ہیں۔