ایران کاسعودی عرب کوانتباہ؛صبروتحمل کی حکمتِ عملی زیادہ دیرنہیں چل سکتی!

265

ایران کے انٹیلی جنس وزیرنے سعودی عرب کوخبردارکیا ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ان کا ملک صبروتحمل کی حکمت عملی کو جاری رکھے گا۔ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق وزیربرائے سراغرسانی اسماعیل خطیب نے کہا کہ ’’سعودی عرب کے معاملے میں،میں کہتا ہوں کہ ہمارے پڑوس کی وجہ سے ہماری اور خطے کے دیگرممالک کی قسمت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ایران کے نقطہ نظر سے خطے کے ممالک میں کوئی بھی عدم استحکام متعدی ہے اورایران میں کوئی بھی عدم استحکام خطے کے ممالک میں متعدی ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت تہران میں ستمبر کے وسط میں اخلاقی پولیس کے زیرحراست نوجوان خاتون مہسا امینی کی پُراسرارموت کے ردعمل میں ملک گیرمظاہرے جاری ہیں۔ایرانی حکومت نے بیرونی ممالک پربدامنی پھیلانے اور مظاہرین کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام عاید کیاہے جبکہ وہ خود ان مظاہرین کو’’فسادی‘‘ قراردیتی ہے۔

وزیرنے مزیدکہا کہ’’ایران نے اب تک مضبوط عقلیت کے ساتھ تزویراتی صبروتحمل کواپنایا ہے لیکن مخاصمت کے تسلسل کی صورت میں اس تزویراتی صبرکے تسلسل کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگرایران نے ان ممالک کو بدلہ دینے اور سزا دینے کی پالیسی اختیارکی تو شیشے کے محلات منہدم ہوجائیں گے اوران ممالک کو استحکام نظر نہیں آئے گا‘‘۔

حالیہ دنوں میں یہ دوسراموقع ہے جب کسی ایرانی عہدہ دارنے سعودی قیادت کے حوالے سے’’شیشے کے محلات‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ چند ہفتے قبل ایران نے سعودی عرب کوملفوف دھمکی دی تھی اور انتباہ جاری کیا تھاجب ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈر حسین سلامی نے کہاتھا کہ سعودی رہنماؤں کو اسرائیل پرانحصارنہیں کرناچاہیے اور یہ کہ سعودی رہنما ’شیشے کے محلات‘ میں رہتے ہیں۔

اب انٹیلی جنس وزیرکایہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے امریکاکے ساتھ کچھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا ہے۔اس میں مملکت میں اہداف پرایران کی طرف سے ’’آنے والے حملے‘‘پرخبردار کیا گیا تھا۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا تھاکہ سعودی عرب، امریکا اورخطے کے دیگرہمسایہ ممالک نے اپنی فوجی فورسز کے لیے الرٹ کی سطح بڑھا دی ہے۔امریکا نے سعودی عرب کے خلاف ایرانی خطرے پر تشویش کا اظہار کیا تھااور کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ ایران کو جواب دینے سے نہیں ہچکچائے گا۔

امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہمیں خطرے کی تصویرپر تشویش ہے اور ہم سعودی عرب کے ساتھ فوجی اور انٹیلی جنس چینلز کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں۔ہم خطے میں اپنے مفادات اورشراکت داروں کے دفاع میں کسی اقدام سے نہیں ہچکچائیں گے‘‘۔