ایران نے سعودی عرب مخالف دھمکیوں سے متعلق رپورٹ کو’بے بنیادالزام‘قراردے دیا

206

ایران نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے جس میں سعودی عرب پر ایران کے حملے کے بارے میں امریکا کی جانب سے شیئر کی گئی انٹیلی جنس معلومات کا حوالہ دیا گیا ہے اورکہا ہے کہ اس میں ’’بے بنیادالزامات‘‘ شامل ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصرکنعانی نے بدھ کے روز کہاکہ بعض مغربی اورصہیونی جماعتوں کی جانب سے اس طرح کی متعصبانہ خبروں کی اشاعت کا مقصد ایران کے خلاف منفی ماحول پیدا کرنا اور خطے کے ممالک کے ساتھ موجودہ مثبت رجحانات کوختم کرنا ہے۔

انھوں نے مزیدکہا کہ ایران باہمی احترام،بین الاقوامی اصولوں اورمعاہدوں کے فریم ورک کے اندررہتے ہوئے اپنے ہمسایوں کے ساتھ اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کی پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہے اور خطے میں استحکام ،سلامتی کے قیام اورفروغ کو اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعمیری بات چیت میں مضمر سمجھتا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے منگل کے روز ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ سعودی عرب نے امریکاکے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کاتبادلہ کیا ہے۔اس میں ایران کی طرف سے مملکت میں اہداف پر’’ممکنہ حملے‘‘کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب، امریکا اور خطے کے دیگر ہمسایہ ممالک نے اپنی افواج کی الرٹ کی سطح بڑھا دی ہے۔

واشنگٹن نے منگل کے روزسعودی عرب کے خلاف ایرانی خطرے پر تشویش کا اظہارکیا اور کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ جواب دینے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔

امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے کہا کہ ہمیں خطرے کی تصویرپرتشویش لاحق ہے اور ہم سعودی عرب کے ساتھ عسکری اور انٹیلی جنس چینلز کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں۔ہم خطے میں اپنے مفادات اورشراکت داروں کے دفاع میں کام کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔

ایران نے سعودی عرب کو ایک ملفوف دھمکی دی تھی اور انتباہ جاری کیا تھا۔ایران کے پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرحسین سلامی نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ سعودی رہنماؤں کو اسرائیل پرانحصار نہیں کرنا چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا تھا کہ سعودی رہ نما’’شیشے کے محلوں‘‘میں رہتے ہیں۔انھوں نے سعودی قیادت کو مخاطب ہوکرخبردار کرنے کے انداز میں کہا تھا کہ ’’آپ ایک ایسے اسرائیل پر بھروساکررہے ہیں جو ٹوٹ رہا ہے اور یہ آپ کے دور کا بھی اختتام ہوگا‘‘۔