ایران میں دو ہم جنس پرست کارکنوں کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی

711

حقوق انسانی کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ ایران میں دو ایل جی بی ٹی کارکنوں کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

ہینگا آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ارمیا کی ایک عدالت نے 31 سالہ زہرہ صدیقی ہمدانی اور 24 سالہ الہام چوبدار کو ’دنیا میں اخلاقی بگاڑ‘ پیدا کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔

ہینگا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ نے ان پر ہم جنس پرستی اور مسیحیت کو فروغ دینے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مخالف میڈیا سے بات کرنے کا الزام لگایا ہے۔

ان کارکنوں کو بظاہر ارمیا سینٹرل جیل میں فیصلے کے بارے میں بتایا گیا۔ ایران کی عدلیہ کی جانب سے ایل جی بی ٹی کارکنوں کو دی جانے والی سزا کے بارے میں کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ بہت سے ایرانی شہری سوشل میڈیا کے ذریعے ان کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ہینگا نے کہا کہ صدیقی ہمدانی کا، جنھیں سارہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، تعلق ایران کے صوبے مغربی آذربائیجان کی کرد اقلیت سے ہے۔ اس صوبے کی سرحد ترکی اور عراق سے ملتی ہے۔

حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پہلے سارہ صدیقی ہمدانی کو ’غیر روایتی‘ حقوق ورکر لکھا جنھیں صرف اس کے حقیقی یا سمجھے جانے والے جنسی رجحانات اور صنفی شناخت کے ساتھ ساتھ ان کی سوشل میڈیا پوسٹس اور ایل جی بی ٹی کے دفاع میں بیانات کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا۔

اس میں بتایا گیا ہے کہ انھیں اکتوبر 2021 میں پاسداران انقلاب اسلامی نے ترکی میں پناہ کی غرض سے داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سارہ صدیقی ہمدانی کو 53 دنوں کے لیے لاپتہ کیا گیا، جس کے دوران آئی آر جی سی کے ایک ایجنٹ نے مبینہ طور پر ان سے ’زبانی بدسلوکی‘ کی اور انھیں سخت تفتیش کی جس کے دوران انھیں پھانسی دینے یا نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی گئیں اور ان کے دو بچوں کو ان کی تحویل سے لے لیا گیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ زہرہ صدیقی ہمدانی پر، جن کا نام سارہ بھی ہے، ہم جنس پرستی کو فروغ دینے اور ایران حکومت مخالف میڈیا کے ساتھ بات کے ذریعے ’دنیا میں اخلاقی بگاڑ‘ پیدا کرنے کے الزامات بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم میں ایل جی بی ٹی کے حق میں بات کرنے کی وجہ سے لگائے گئے تھے۔

مئی 2021 میں بی بی سی کی دستاویزی فلم میں زہرہ صدیقی ہمدانی نے عراق کے نیم خودمختار کردستان میں ہم جنس پرستوں کے ساتھ ناروا سلوک کی شکایت کی تھی۔

ایرانی قانون کے تحت ہم جنسوں کے ساتھ جنسی تعلق ایک قابل دست اندازی جرم ہے جس کی سزا کوڑے سے لے کر سزائے موت تک ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مزید کہا کہ صدیقی ہمدانی پر مسیحیت کو فروغ دینے کا الزام صلیب والا ہار پہننے اور کئی سال قبل ایران میں ایک گھریلو چرچ میں جانے کی وجہ سے عائد کیا گیا۔

ایران میں ایسے شہری جنھیں مسیحی، زرتشتی یا یہودی تسلیم نہیں کیا جاتا وہ ایران میں کھلے عام مذہبی اظہار میں شامل نہیں ہو سکتے۔سارہ صدیقی ہمدانی نے اس سے پہلے ایران سے نکلنے کی کوشش کی تھی لیکن کامیاب نہیں ہو سکیں۔

سارہ صدیقی ہمدانی نے ایک ویڈیو ریکارڈ کی جس میں کہا کہ: ’میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ ہم ایل جی بی ٹی لوگ کتنا دباؤ برداشت کرتے ہیں۔ ہم اپنے جذبات کے اظہار کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں، لیکن ہم اپنی اصلیت تلاش کریں گے۔ امید ہے وہ دن آئے گا جب ہم سب اپنے ملک میں آزادی کے ساتھ رہ سکیں گے۔’میں ابھی آزادی کی طرف سفر کر رہی ہوں… اگر میں اس میں کامیاب نہ ہوئی تو سمجھیں میں نے اس مقصد کے لیے جان دے دی ہے۔‘ہینگو نے الہام چوبدار کے بارے میں اس زیادہ کوئی تفصیلات فراہم نہیں کہ ان کا تعلق بھی ارمیا سے ہے