ایران میں حجاب اتارنے والی معروف اداکارہ گرفتار

21

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق حکام نے ایک معروف اداکارہ کو سرپوش نہ اوڑھنے کی پاداش میں گرفتارکرلیا ہے۔اس خاتون نے ایک ویڈیو میں سرعام اپنا حجاب اتارا تھا۔ایران کی مذہبی قیادت کو گذشتہ دو ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری ملک گیراحتجاجی مظاہروں کا سامنا ہے۔ان مظاہروں کی قیادت خواتین ہی کررہی ہیں۔یہ کرد نژاد 22 سالہ خاتون مہساامینی کی تہران میں اخلاقی پولیس کے زیرِحراست موت کے بعد شروع ہوئے تھے۔

 

ایران کی مذہبی وسیاسی قیادت اور حکام ان مظاہروں کو ‘فسادات’ قراردیتے ہیں۔انھوں نے ملک کے مغربی دشمنوں پرالزام عایدکیا ہے کہ وہ انھیں بھڑکا رہے ہیں۔ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا کے مطابق مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی سخت ناقد ہنگامہ غازیانی کو ‘فسادات’ پراکسانے اور ان کی حمایت کرنے اور حزب اختلاف کے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

باون سالہ اداکارہ نے پہلے ہی اشارہ دیاتھا کہ انھیں عدلیہ نے طلب کیا ہے اور پھرانسٹاگرام پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ لازمی حجاب کواتاررہی ہیں۔انھوں نے ہفتے کودیرگئے لکھا:’’شاید یہ میری آخری پوسٹ ہوگی لیکن میرے ساتھ جوکچھ بھی ہو،یہ بات جان لیں کہ ہمیشہ کی طرح میں اپنی آخری سانسوں تک ایرانی عوام کے ساتھ ہوں‘‘۔

ویڈیو میں دیکھاجا سکتا ہے کہ غازیانی بغیر کچھ کہے کیمرے کے سامنے ہیں اور پھر گھوم کر اپنے بالوں کو پونی میں باندھ رہی ہیں۔گذشتہ ہفتے ایک پوسٹ میں انھوں نے ایرانی حکومت کو’بچوں کی قاتل‘قراردیا تھا اور اس پر 50 سے زیادہ بچّوں کو’قتل‘ کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

عدلیہ کی میزان آن لائن نیوز ویب سائٹ کے مطابق غازیانی ان آٹھ افراد میں شامل تھیں جنہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے’اشتعال انگیز‘مواد کی بناپر استغاثہ نے طلب کیاتھا۔ان میں تہران کی فٹ بال ٹیم پرسی پولس ایف سی کے کوچ یحییٰ گول محمدی بھی شامل تھے۔انھوں نے ایران کے قومی اسکواڈ کے کھلاڑیوں کو’’حکام کے کانوں تک مظلوم عوام کی آواز نہ پہنچانے‘‘پرکڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ان کا یہ بیان قومی فٹ بال ٹیم کی گذشتہ ہفتے قطر میں اتوار سے شروع ہونے والے عالمی کپ میں شرکت سے قبل صدرابراہیم رئیسی سے ملاقات کے بعد سامنے آیاتھا۔میزان کی اطلاع کے مطابق مطرا ہجراور باران کوثری سمیت دیگر معروف اداکاروں کو بھی طلب کیا گیا ہے۔ رواں ماہ کے اوائل میں ایران کی معروف اداکاراؤں میں سے ایک ترانہ علی دوستی نے سوشل میڈیا پربغیراسکارف کے اپنی ایک تصویر پوسٹ کی تھی۔

علی دوستی نے’’کسی بھی قیمت‘‘پراپنے وطن میں رہنے کا عہد کرتے ہوئے کہاکہ وہ کام بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں اوراس کے بجائے احتجاجی کریک ڈاؤن میں ہلاک یا گرفتار ہونے والوں کے اہل خانہ کی مدد کریں گی۔واضح رہے کہ مہساامینی کی موت سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے آغاز سے پہلے ہی ایرانی سنیما کی شخصیات دباؤمیں تھیں۔انعام یافتہ ہدایت کار محمد رسولوف اورجعفر پناہی کو اس سال کے اوائل میں گرفتارکرلیا گیا تھا اوروہ ہنوززیرِحراست ہے۔