ایران سے واپس جوڑے کوماہور پولس نے دیہی اسپتال میں نگرانی میں رکھا

ماہور:7مارچ ۔(اکرم چوہان)ایران۔عراق کے مقدس مقامات کی زیارت کرکے 2مارچ کو بھارت واپس آئے 14افراد کو ناگپور کے سیول اسپتال میں معائنہ کیلئے ڈاکٹروں کی نگرانی میں رکھاگیاتھالیکن دو مریض ڈاکٹر کو کچھ بھی بتائے بغیرروانہ ہوگیے تھے ۔یہ دونوں میاں بیوی ناندیڑضلع کے ماہور تعلقہ کے سوناپیر کی درگاہ کے عرس کے ضمن میں 5مارچ کوروانہ ہوگئے تھے ۔یہ لوگ ایران اور عراق سے واپس آئے تھے اور ان ممالک میں کرونا وائرس کی وباءپھیلی ہوئی ہے اسلئے انکی نگرانی کی جارہی تھی ۔ اشفاق احمد سوداگر (50 سال) اور ان کی اہلیہ سلطانہ بیگم سوداگر (45) ، ناگپور کے علاقے بڑا تاج باگ کے رہائشی ہیں ۔5 مارچ کو سونا پیر بابا درگاہ ماہور کے عرس میں شرکت کے لئے یہاں آئے تھے۔ اس جوڑ ے کے تعلق سے دوپہر 1 بجکر 36 منٹ پرناگپورضلع سیول سرجن سنجے جیسوال نے ضلع سیول سرجن ایوت محل کوای میل کرکے ایک پیغام روانہ کیا جس میں مذکورہ میاں بیوی ماہور (ضلع ناندیڑ) میں آنے کی اطلاع دی گئی اورانھیں طبی معائنہ کیلئے ناگپورواپس بھیجنے کی ہدایت دی ۔ان دونوں سے محکمہ صحت عامہ نے موبائل پرربط قائم کیااورانکی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کی تو انھوں نے بتایا کہ وہ بالکل اچھے ہے فی الحال میاں بیوی کو ڈپٹی انسپکٹر شرد گھوڈکے اور ساتھیوں نے دیہی اسپتال لے جایا اور علیحدہ کمروں میں رکھا۔ تاہم دیہی اسپتالوں کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر وینکٹیش بھوسلے نے کہا دونوں کے کمرے میں جانے کوکسی کواجازت نہیں ہے ۔