ایران:’فسادات‘ میں حصہ لینے پرایک احتجاجی کوپھانسی اورپانچ کوقید کی سزا

154

ایران میں عدلیہ نے مہساامینی کی ہلاکت کے ردعمل میں احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں ایک شخص کوموت اور پانچ دیگر ملزمان کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا کی رپورٹ کے مطابق ایک شخص کو’فسادات‘ میں ملوّث ہونے کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ایرانی حکام فسادات کی اصطلاح کو حکومت مخالف مظاہروں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ارنا کے مطابق اس شخص نے صوبہ تہران میں ’فسادات‘کے دوران میں ایک سرکاری مرکزکوآگ لگا دی تھی۔

ارنانے مزیدکہا کہ صوبہ تہران کی عدالت نے پانچ دیگر’’فسادیوں‘‘کو’’قومی سلامتی کے منافی جرائم کے ارتکاب اورامن عامہ میں خلل ڈالنے،نقضِ امن کے لیے جمع ہونے اور قومی سلامتی کے منافی جرائم کے ارتکاب اور فساد فی الارض کے لیے ملی بھگت کے الزام میں پانچ سے 10 سال قید کی سزائیں سنائی ہیں‘‘۔

تاہم اتوارکوجاری کردہ عدالتی فیصلے ابتدائی ہیں اور ان کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔

بائیس سالہ کرددوشیزہ مہسا امینی کی پولیس کے زیرِحراست ہلاکت کے بعد ستمبرکے وسط سے شروع ہونے والے مظاہروں نےایران کو ہلاکررکھ دیا ہے۔مظاہرین سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کے خلاف بھی نعرے بازی کررہے ہیں اورشیعہ ملّائیت پرمبنی نظام کی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق مظاہروں کے آغازسے اب تک سکیورٹی فورسزکے ہاتھوں 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ہزاروں کو حراست میں لیاجاچکا ہے۔