اہم خَبریں: CAA کی آئینی حیثیت پر سوال، سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو جاری کیا نوٹس


سی اے اے-این آر سی کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو بھیجا نوٹس

شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور این آر سی کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکز کی مودی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے اس کے ساتھ ہی اس سے جڑے سبھی زیر التوا معاملوں پر بھی مرکز سے جواب دینے کے لیے کہا ہے۔ مذکورہ قوانین کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضی جمعیۃ علماء ہند نے داخل کی تھی۔


ڈاکٹر کفیل خان پر یو پی پولس نے لگایا این ایس اے

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اشتعال انگیز بیان دینے کے الزام میں اب تک جیل میں بند گورکھپور کے ڈاکٹر کفیل خان پر یوگی حکومت نے ایک بڑی کارروائی کی ہے۔ یو پی پولس اور انتظامیہ نے ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف قومی سیکورٹی قانون یعنی این ایس اے کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔ جمعہ کو ڈاکٹر کفیل خان ضمانت پر جیل سے باہر آنے والے تھے، لیکن ان پر این ایس اے لگائے جانے کے بعد مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔

پلوامہ حملہ کا ایک سال مکمل ہونے پر این سی پی لیڈر نواب ملک نے مرکز کی مودی حکومت سے ایک سوال پوچھا ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’پلوامہ حملے میں 40 سی آر پی ایف جوان شہید ہو گئے۔ آج تک یہ پتہ لگانے کے لیے کوئی جانچ نہیں کی گئی کہ آر ڈی ایکس آخر کہاں سے آیا اور گاڑی جائے وقوع پر کیسے پہنچی؟ گاڑی کا ڈرائیور جیل میں تھا، وہ باہر کیسے آیا؟ جانچ ہونی چاہیے کیونکہ لوگ سچائی جاننا چاہتے ہیں۔‘‘


راہل گاندھی نے پلوامہ کے شہیدوں کو کیا یاد، پی ایم مودی پر اٹھائے سوال

ایک سال قبل پلوامہ حملے میں شہید ہوئے 40 سی آر پی ایف جوانوں کو یاد کرتے ہوئے کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پی ایم مودی سے راہل گاندھی نے تین سوال پوچھے ہیں اور کہا ہے کہ اس حملے سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوا؟َ دوسرا سوال راہل گاندھی نے پوچھا ہے کہ حملہ سے متعلق جانچ کا حاصل کیا ہوا؟ راہل گاندھی کا تیسرا اور آخری سوال یہ تھا کہ بی جے پی حکومت میں سیکورٹی کی خامیوں سے متعلق ذمہ دار کون ہے جس کی وجہ سے یہ حملہ ممکن ہو سکا؟


نربھیا کے قصوروار ونے شرما کی عرضی پر آج سپریم کورٹ سنائے گا فیصلہ

سپریم کورٹ نے جمعرات کو نربھیا واقعہ کے چار قصورواروں میں سے ایک ونے شرما کی عرضی پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ اس عرضی میں صدر جمہوریہ کے ذریعہ اس کی رحم کی عرضی کو نامنظور کیے جانے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ جسٹس اشوک بھوشن اور اے ایس بوپنا کے ساتھ جسٹس آر بانومتی کی صدارت والی بنچ اس پر آج فیصلہ سنائے گی۔

دوسری طرف دہلی کی ایک عدالت نے جمعرات کو نربھیا عصمت دری معاملہ میں ڈیتھ وارنٹ جاری کرنے کی عرضی پر سماعت 17 فروری تک کے لیے ملتوی کر دی۔ عدالت نے مانا کہ قصوروار اپنے قانونی حقوق کا استعمال کرنے کے حقدار ہیں اور ان کے بنیادی اختیارات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔


یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

HAJJ ASIAN

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔