گائیڈلائن سے مسلمانوں میں مایوسی پائی جارہی ہے خاص طورسے تاجر طبقہ بڑاپریشان ہے کیوں کہ امسال بھی سال گزشتہ کی طرح روایتی رمضان بازار نہیں لگ سکیں گے ۔

واضح رہے کہ مسلمانوں کےایک بہت بڑے طبقے نے اور علماکرام اور مسلم تنظیموں نے ریاستی حکومت سے درخواست کی تھی کہ رمضان المبارک کے دوران لگنے والے نائٹ کرفیومیں ڈھیل دی جائے اور بجائے رات آٹھ بجے سے کرفیوجاری ہونے کے اوقات میں تبدیلی کی جائے اوردس بجے سے کرفیونافذ کیاجائے تاکہ مسلمان تراویح کی نماز اداکرسکیں ۔اس ضمن میں جمعیت علماسمیت کئی ایک ملی تنظیموں نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت بھی داخل کی ہے اور حکومت سے درخواست بھی کی ہے کہ رمضان المبارک کے اس مہینے میں مسلمانوں کو کرفیوکے دوران رعایت دی جائے اور ان کے مذہبی فرائض کو اداکرنے کی اجازت دی جائے ۔عدالت نے اب تک اس عرضداشت کی سماعت نہیں کی ہے اور آج سے ہی چاند نظر آنے کے بعد نماز تراویح کااہتمام کیاجاتاہے۔

اہم جھلکیاں:

  1. افطار تراویح اور دیگر نماز اپنے گھروں پر ادا کرنے کی ہدایت
  2. جمعتہ الوداع اور شب قدر کیلئے بھی مسجد میں اجتماعی نماز کی اجازت نہیں ۔ اپنے اپنے گھروں میں ہی عبادت کرنے کی ہدایت
  3. رمضان مارکیٹ اور سڑک کنارے چھوٹی دوکانیں لگانے پر پابندی
  4. آن لائن بیان اور دیگر مذہبی پروگرامس کرنے کو ترجیح
  5. عوامی مقامات پر ایک ہی وقت میں پانچ سے زیادہ افراد کے مجمع پر پابندی
  6. افطار مارکیٹ کیلئے مقامی انتظامیہ جگہ اور وقت طئے کرے گی تاکہ بھیڑ نہ ہوسکے۔

رمضان 2021 کے رہنما خطوط: رمضان المبارک کے پس منظر میں ریاستی حکومت کے کووڈ 19 رہنما خطوط جاری کردیئے گئے ہیں۔ گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی رمضان المبارک کے دوران مسجد میں اجتماعی نماز نہیں ہوگی۔

ممبئی: 13 اپریل (ورق تازہ نیوز) مہاراشٹرا میں بڑھتی ہوئی کورونا وباء کے پس منظر میں ، تمام مذاہب کے تہواروں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ رویت ہلال کے مطابق مسلمانوں کا رمضان کا مقدس مہینہ 14 اپریل سے شروع ہوگا۔ ریاستی حکومت کے پہلے فیصلے میں لوگوں کو کسی بھی مذہبی مقام یا عبادت گاہ میں جانے سے روک دیا گیا تھا۔ لہذا ، پچھلے سال کی طرح ، امسال بھی رمضان المبارک کے دوران مسجد میں اجتماعی نماز نہیں ہوگی۔ ریاستی حکومت نے رمضان المبارک کے لئے ہدایات جاری کی ہیں۔

کورونا وائرس کے انفیکشن کی روک تھام کے لئے ، رمضان کے مقدس مہینے کے دوران ، مسلمانوں کو مسجد اور عوامی مقامات پر ایک ساتھ نماز ، تراویح اور افطار نہ کرتے ہوئے اپنے اپنے گھروں میں ہی عبادات کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ مقامی انتظامیہ کو افطار مارکیٹ کیلئے مخصوص جگہ اور وقت دئے جانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

ایک وقت میں 5 سے زیادہ افراد کو عوامی مقامات پر جمع نہیں ہونا چاہئے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ رمضان کا مہینہ معاشرتی فاصلے کے قواعد پر عمل کرتے ہوئے نہایت آسان انداز میں منایا جانا چاہئے۔

گائیڈلائنس:

1: کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے رمضان کے مقدس مہینے کے دوران ، مسلمانوں کو مساجد یا عوامی مقامات پر جمع ہوئے بغیر اپنے گھروں پر تمام مذہبی تقاریب کے لئے باقاعدگی سے نماز ، تراویح اور افطار کرنا چاہئے۔ مسجد میں نیز نماز کے لئے کھلی جگہ پر جمع نہ ہوں۔

2: رمضان المبارک کے مقدس مہینے کو عوامی مقامات پر ایک وقت میں 5 سے زیادہ افراد کو جمع کیے بغیر معاشرتی فاصلے اور حفظان صحت (ماسک ، سینیٹائزر وغیرہ) کے تمام اصولوں پر سختی سے عمل کرتے ہوئے انتہائی سادہ طریقے سے منایا جانا چاہئے۔

3: اس مقدس مہینے کے دوران مسلمان ہر صبح کی اولین ساعتوں سے روزے رکھتے ہیں اور شام کے وقت مغرب کی نماز سے کچھ وقت پہلے افطار کرتے ہیں۔ توقع کی جاتی ہے کہ اس سحری اور افطاری کے دوران بہت سے پھل اور دیگر کھانے پینے والے دکانداروں کی کثرت ہوگی۔ اسی مناسبت سے مقامی انتظامیہ کو اس ضمن میں مناسب اقدامات کرنے چاہیے ۔

4 : رمضان کے مقدس مہینے کے آخری جمعہ (جمعتہ الوداع) پڑھنے کا رواج ہے۔ اس کے لئے مسلمان بھائیوں کی ایک بڑی تعداد مسجد آکر تلاوت کرتی ہیں ۔لیکن اس بار کوویڈ 19 کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو دیکھ کر مسجد میں جمع نہ ہو۔ اپنے ہی گھر میں نماز پڑھیں۔ شب قدر ایک مقدس رات ہے جو ماہ رمضان کے 26 تاریخ کو منائی جاتی ہے۔ اس موقع پر نماز تراویح کے بعد مسلمان اپنے علاقوں کی مسجد میں تلاوت کلام پاک کرتے اور نفل نماز پڑھتے ہیں۔ لیکن اس سال تمام مسلمان اپنے مذہبی پروگراموں کو اپنے گھروں میں انجام دیں۔

6: رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران سامان خریدنے کے لئے بازار میں جمع نہ ہوں۔ نیز اگر مقامی انتظامیہ نے سامان خریدنے کے لئے ایک مقررہ مدت مقرر کردی ہے تو اس پر سختی سے عمل کیا جائے۔

7: چونکہ مذہبی مقامات کو بند کرنے کا حکمنامہ دیا گیا ہے ۔ مذہبی پروگراموں کو حکومتی قواعد و ضوابط کی تعمیل میں بند جگہوں پر آن لائن منعقد کرنا چاہئے۔

8:دکانداروں کو سڑک پر اسٹال نہیں لگانا چاہئے اور شہریوں کو بغیر کسی وجہ کے سڑک پر نہیں آنا چاہئے کیونکہ ریاست میں ایف ڈی اے کا سیکشن 144 لاگو ہے اور کوڈ 19 وائرس کے سلسلے میں رات کا کرفیو نافذ ہے۔

9: رمضان کے اس مقدس مہینے میں کوئی جلوس ، مذہبی ، معاشرتی ، ثقافتی یا سیاسی تقاریب کا انعقاد نہیں ہونا چاہئے۔

10:رمضان المبارک کے مقدس مہینے کو سادگی سے منانے کے لئے مسلم کمیونٹی میں مذہبی رہنماؤں ، سماجی کارکنوں ، سیاسی رہنماؤں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے آگاہی و بیداری پیدا کی جانی چاہئے۔

11: رمضان کے مقدس مہینے میں معاشرتی فاصلے کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا ضروری ہے۔ ماسک اور سینیٹائزر کے استعمال کے بارے میں بھی محتاط رہنا ضروری ہے۔

12 کووڈ ۔19 وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے سرکاری ریلیف ، بحالی ، صحت ، ماحولیات ، میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ساتھ متعلقہ میونسپل کارپوریشن ، پولس اور مقامی انتظامیہ کے مقرر کردہ قواعد پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔ نیز اگر اس سرکلر کے بعد اور رمضان کے آغاز اور اختتام کے درمیان مزید ہدایات جاری کی جاتی ہے تو اس کی تعمیل کی جانی چاہئے۔

اسطرح کا سرکلر ریاستی حکومت نے وزارت داخلہ کے نائب سیکرٹری سچن کھیڈکر کی دستخط سے مہاراشٹر حکومت نے آج جاری کیا ہے ۔