نئی دہلی۔مذکورسپریم کورٹ نے آج زراعی قوانین کو چیالنج کرنے والی /دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کررہے کسانوں کو ہٹانے پر مشتمل درخواستوں پر سنوائی کرتے ہوئے کہاکہ ”اگلے احکامات تک مذکورہ تین زراعی قوانین کے نفاذ کو ملتوی کررہے ہیں۔ ہم ایک کمیٹی بھی تشکیل دیں گے“۔

چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بابڈی نے زراعی ماہر معاشیات اشوک گولاٹی‘ بھوپیندر سنگھ مان‘ صدر بی جے یو اور ال انڈیاکوارڈانیشن کمیٹی پرمود کمار جوشی(ڈائرکٹر ساوتھ ایشیاء انٹرنیشنل فوڈ پالیسی)‘ انل گھناوت(شیتکھر سنگھاٹن) کے کمیٹی کے لئے ناموں کی تجویز پیش کی‘

جس سے حکومت اور احتجاج کررہے کسانوں کے درمیان پیدا شدہ تعطل کا حل متوقع ہے۔ شام تک عدالت نے کی جانب سے ایک مکمل آرڈر جاری کرنے کی توقع بھی کی جارہی ہے۔ عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ ”ہمیں کمیٹی پر یقین ہے اور اس کی تشکیل کرنے جارہے ہیں۔ یہ کمیٹی عدالتی کاروائی کا حصہ ہوگی“

حقیقت میں جو افراد مسئلہ کا حل چاہتے ہیں وہ کمیٹی کے پاس جائیں۔ مذکورہ بنچ جس میں جسٹس اے ایس بوپنا اور وی سبرامنیم بھی شامل ہیں نے یہ کہاکہ ایسی کوئی دلیل وہ سننا نہیں چاہتے کہ احتجاج کررہے کسان کمیٹی کے ساتھ جانا نہیں چاہا رہے ہیں۔

سی جے ائی نے کہاکہ ”یہ کمیٹی نے تو آپ کو کوئی سزا دے گی اور نہ ہی کوئی حکم نامہ جاری کرے گی۔ وہ ایک رپورٹ ہمیں پیش کرے گی۔ مذکورہ تنظیموں سے ہم رائے حاصل کریں گے۔

واضح تصویر ہمیں مل جائے اس کے لئے ہم کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں“۔ سپریم کورٹ نے یوم جمہوریہ کے موقع پر ٹریکٹر مارچ پر روک کا قدم بھی اٹھایاہے۔

عدالت عظمی کی جانب سے زیر تجویز کمیٹی کے ساتھ بات چیت میں شامل نہیں ہونے کے متعلق احتجاج کررہے کسانوں کی منشاء کے اظہار کے پس منظر میں یہ تبدیلی سامنے ائی ہے

مذکورہ ”سمیوکتا کسان مورچہ“ نے پیر کی رات دیر گئے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ جبکہ تمام تنظیموں کی جانب سے سپریم کورٹ کی زراعی قوانین کے نفاذ پر روک کی تجویز کا خیر مقدم کیاجاتا ہے وہ مجموعی اور انفرادی طور پر سپریم کورٹ کی مقرر کردہ ایک کمیٹی کی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے۔

عدائت نے ایس جی جو بی سی ائی اور دیگر کسان یونینوں کے ذمہ داران کے ساتھ اپنے مشترکہ بیان میں میٹنگ کی ہدایت دی ہے۔

BiP Urdu News Groups

اپنی رائے یہاں لکھیں