اہم خبر:ہندو راشٹر کے آئین کا مسودہ تیار’ہندووں کو یہ اختیارات ملیں گے،مگر مسلمانوں کو کیا ملے گا جانئے

6,772

نئی دہلی: 15.اگست۔(ورق تازہ نیوز)ہندو راشٹر کے آئین کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اسے وارانسی کے 30 سنتوں اور اسکالروں نے تیار کیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو ووٹ کا حق نہیں دیا گیا ہے۔اسے ماگھ میلہ 2023 کے دوران منعقد ہونے والی مذاہب کی پارلیمنٹ (دھرم سنسد)میں پیش کیا جائے گا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ فروری 2022 میں منعقد ہونے والے ماگھ میلے کے دوران، مذہب کی پارلیمنٹ (دھرم سنسد)میں ہندوستان کو اس کے اپنے آئین کے ساتھ ایک ہندو قوم بنانے کی قرارداد منظور کی گئی تھی۔

تعلیم، دفاع وغیرہ کا ذکر ہے

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندو راشٹر کے آئین کے پہلے مسودے کے مطابق سربراہ مملکت کے حقوق تعلیم، امن و امان، دفاع، ووٹنگ سسٹم، دفاع کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ ہندو راشٹر کے آئین کے مطابق ملک کی راجدھانی وارانسی ہوگی۔ یہاں پر مذاہب کی پارلیمنٹ بنانے کی تجویز ہے۔

سب کو ملٹری ٹریننگ لینی پڑے گی

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندو راشٹر کے آئین میں کہا گیا ہے کہ تمام لوگوں کو فوجی تربیت لازمی طور پر دی جائے گی۔ کاشتکاری کو ٹیکس فری بنایا جائے گا۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کو ووٹ کا حق نہیں رہے گا ہندو، سکھ، بودھ، جین کو ووٹ کا حق ملے گا۔ ووٹ کا حق 16 سال کی عمر کے بعد دیا جائے گا۔

برطانوی راج ختم ہو جائے گا

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس آئین کے کور پیج پر اکھنڈ بھارت کا نقشہ لگایا گیا ہے۔ کور پیج پر کچھ مندروں پر زعفرانی جھنڈے لہراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ برطانوی راج کے قوانین کو ختم کر دیا جائے گا۔ سب کچھ ورنا سسٹم کی بنیاد پر چلے گا۔ ہر ذات کے لوگوں کو سہولت اور تحفظ ملے گا۔