قاہرہ : صدیوں سے مصر میں الجیزا کے اہرام نے محققین کو نہ صرف اپنے پراسرار خالی جگہوں اور چھپے ہوئے حجروں کی وجہ سے حیران کر رکھا ہے بلکہ قدیم مصریوں کی جدید ٹیکنالوجی کے بغیر اس طرح کے شاندار ڈھانچے کی تعمیر کی صلاحیت بھی حیران کن ہے۔سب سے زیادہ مبہم سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ ان اھراموں کی دیواریں کس طرح مکمل طور پر سیدھی تعمیر ہوئیں۔ بعض مقامات پر ان میں کہیں عدم توازن بھی ہے۔جیزا کے 138.8 میٹر اونچے عظیم اہرام کو خوفو کہا جاتا ہے جو مربع شکل میں تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کی دیواریں کافی حد تک سیدھی ہیں۔ماہر آثار قدیمہ اور انجینیر جلین داش نے 2017 میں جرنل آف اینشیئٹ مصری آرکیٹیکچر میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں وضاحت کی کہ خوفو اہرام کے بنانے والوں نے بڑی درستگی اور مہارت کے ساتھ عظیم یادگار کو اہم نکات کے ساتھ ترتیب دیا۔