اتواریہ: شکیل رشید
’اگنی پتھ‘ کے خلاف احتجاج میں اچھا ہی ہوا کہ پولس کی گولیاں نہیں چلیں۔ حالانکہ پولس کے پاس گولی باری کرنے کےلیے وافر جواز تھا۔ مظاہرین نے صرف پتھرائو ہی نہیں کیا،ان کے مظاہرے پرتشدد تھے اور تشدد ہنوزتھما نہیں ہے۔ ٹرینیں، گاڑیاں، اور سرکاری وغیر سرکاری املاک تباہ وبرباد کی گئیں۔ پولس چوکیاں تک پھونک دی گئی ہیں اور پولس پر حملے کیے گئے ہیں۔ لیکن گولی باری سے پولس رکی رہی اور اگر کہیں گولی باری کی بھی گئی تو وہ ہوائی تھی، مظاہرین اور احتجاجی محفوظ رہے۔ یہ اچھی بات ہے، کیو ںکہ اگر گولیاں چلتیں تو نہ جانے کتنے نوجوانوں کی جانیں چلی جاتیں او رکتنے ہی نوجوان شدید طور پر زخمی ہوجاتے۔ بعض حلقوں سے یہ سوال اُٹھایاجارہا ہے کہ آخر پولس نے خود پر کیوں قابو رکھا، جبکہ اس پر حملے بھی کیے جارہے تھے اور پولس والے زخمی بھی ہوئے تھے؟ اس سوال کا جواب کئی طرح سے دیاجاسکتا ہے، مثلاً یہ کہ احتجاجی اور مظاہرین مسلمان نہیں تھے اس لیے پولس کی بندوقیں خاموش رہیں یا اگر چلیں بھی تو سینوں پر نہیں چلیں۔ یہ جواب ایک حد تک درست ہے۔

یہ بالکل سچ ہے کہ مسلمان اگر معمولی پتھرائو بھی کردیں یا اگر مسلمانوں کے کسی احتجاج میں کوئی ’باہری‘ شامل ہوکر پتھرائو کردے جیساکہ سہارنپور اور رانچی میں ہوا، تو پولس کی بندوقیں چل پڑتی ہیں، لاٹھیاں نوجوانوں کے جسموں پر ٹوٹ جاتی ہیں، اور سلاخوں کے پیچھے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑدئیے جاتے ہیں، ان کے گھروں پر بلڈوزر چڑھا دئیے جاتے ہیں۔ لیکن اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پولس والوں کو اس کی اجازت ’اوپر‘ سے ملی ہوتی ہے، وہ جو ’تخت نشین‘ ہیں وہی پولس والوں کو ہرطرح کی چھوٹ دینے کے قصور وار ہیں۔ لہذا اگر یہ کہاجائے کہ مسلمانوں پر مظالم توڑنے کےلیے پولس اور اقتدار کی کرسیوں پر متمکن افراد دونوں ہی قصور وار ہیں تو زیادہ درست ہوگا۔ اور یہ کرسی پر بیٹھے لوگ ضروری نہیں کہ سنگھی ہی ہوں یہ سیکولر بھی ہوسکتے ہیں، کانگریسی، سپائی اور دوسری سیکولر پارٹیوں کے لیڈران۔ یقین کامل ہے کہ ’اگنی پتھ‘ کے خلاف مظاہرے جو ہوئے ہیں ان میں گرفتاریاں تو برائے نام ہوں گی لیکن کسی کے گھر پر بلڈوزر نہیں چلے گا۔اور نہ ہی کوئی گولی سے مرے گا یہ اچھا ہی ہے ، کیوں کہ کسی بھی ایک نوجوان کے مارے جانے کا مطلب ایک پورے خاندان کا ٹوٹ جانا ہوتا ہے ، ایک گھر گرائے جانےکا مطلب آشیانہ اجاڑنا ہوتا ہے۔ ’اگنی پتھ‘ کے احتجاج میں اس سے بچاگیا اس کےلیے بہت بہت شکریہ۔

اب آئیے دوسرے پہلو کی طرف۔ پولس اور سیاست دانوں کا یہ رویہ یا رخ یا پہلو یہ ثابت کرنےکے لیے کافی ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں پر دانستہ گولیاں چلائی جاتی اور ان کے گھروں کو دانستہ اجاڑا جاتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس ملک کا نہ ہی کوئی سیاست داں سیکولر ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی پارٹی، یہ سب کے سب متعصب ہیں، اگر یہ سیکولر ہوتے تو کم از کم رانچی میں گولی باری نہ ہوتی جہاں یو اے پی اے کی سرکار ہے، اور الہ آباد میں آفرین فاطمہ کے گھر کو بلڈوزر کی زد میںآنے سے بچانے کےلیے یہ تمام ہی سیاست داں سامنے آجاتے۔