اگنی پتھ اسکیم سے مایوس نوجوانوں کی خودکشی کا سلسلہ شروع، 2 دنوں میں 2 اموات

اگنی پتھ اسکیم کو لے کر پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ نوجوان مایوس ہیں کہ انھیں چار سال کے بعد فوج سے نکال دیا جائے گا، اور وہ بے روزگار ہو جائیں گے۔ اس مایوسی کی وجہ سے نوجوانوں میں خودکشی کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ہے جو فکر انگیز ہے۔

راجستھان میں دو دنوں میں دو نوجوانوں نے اگنی پتھ اسکیم سے مایوس ہو کر موت کو گلے لگا لیا۔ تازہ معاملہ جھنجھنو کے 19 سالہ نوجوان سے جڑا ہے جو اگنی پتھ اسکیم لانچ ہونے کے بعد سے ہی تناؤ کی زد میں تھا۔ منگل کو اس نے پھانسی لگا کر اپنی زندگی ہی ختم کر لی۔ اس سے قبل پیر کے روز بھرت پور میں بھی ایک نوجوان نے خودکشی کر لی تھی۔پولیس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق واقعہ جھنجھنو کے چڑاوا شہر کے اسٹیشن روڈ علاقے کا ہے۔ یہاں رہنے والے انکت نے اپنی بہن کے گھر میں پھانسی لگا لی۔

اس کی بہن پونم جھانجھوت کے سرکاری اسکول سے منسلک ہے۔ گھر والوں نے پولیس کو بتایا کہ انکت پیر کے روز ہی اپنی بہن کے گھر گیا تھا۔ یوگا ڈے کے سبب منگل کو اس کی بہن اسکول گئی تھی۔ اس دوران انکت نے خودکشی کر لی، اور جب پونم کو یہ خبر ملی تو وہ بھاگی بھاگی اسکول سے گھر پہنچی۔

پولیس کو دی گئی تحریری رپورٹ میں گھر والوں نے بتایا کہ انکت نے گزشتہ مہینے راجستھان پولیس کانسٹیبل کا امتحان دیا تھا، لیکن پیپر لیک ہونے کی وجہ سے اسے رد کر دیا گیا۔ اس کا بھی اس پر اثر ہوا تھا۔ اس کے بعد اس نے فوج میں بھرتی کی تیاری شروع کی، لیکن اگنی پتھ اسکیم کے اعلان کے بعد سے وہ تناؤ میں آ گیا تھا۔ گھر والوں کا کہنا ہے کہ اسی کی وجہ سے اس نے خودکشی کی ہے۔ پولیس نے پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد لاش کو کنبہ کے حوالے کر دیا اور ساتھ ہی اس معاملے کی جانچ بھی شروع کر دی ہے۔

اس سے قبل پیر کو بھرت پور ضلع کے چکسانا تھانہ علاقہ کے بلوٹھی گاؤں باشندہ کنہیا گوجر (22 سال) نے کھیت میں پیڑ سے پھانسی کا پھندا لگا کر خودکشی کر لی تھی۔ نوجوان کبڈی کا قومی سطح کا کھلاڑی تھا۔ بارہویں کے بعد سے ہی وہ فوج میں جانے کی تیاری کر رہا تھا۔

گھر والوں کا کہنا ہے کہ جب سے اگنی پتھ اسکیم کا اعلان ہوا، تبھی سے اس نے دوڑنا بند کر دیا تھا۔ بار بار سمجھانے پر بھی وہ فوج کی تیاری کے لیے صبح دوڑنے نہیں جا رہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اب فوجی بننے کا خواب پورا نہیں ہو پائے گا۔ چار سال بعد آ کر بھی جب کچھ اور کام کرنا ہے تو ابھی سے کیوں نہ کیا جائے۔