اگسٹا معاملے میں وزیراعلیٰ کے الزامات چوری اور سینہ زوری کے متراداف: اشوک چوہان

0 14

کسانوں کی خودکشی، خشک سالی، وزیروں کی بدعنوانی، بھیماکوریگاؤں فساد اور سناتن سنستھا کے بارے میں بھی وزیراعلیٰ پریس کانفرنس بلائیں

ممبئی: ریاست میں17 ہزار سے زائد کسانوں نے خودکشی کرلی ہے۔ وزیروں پر حد سے زیادہ بدعنوانی کے الزامات ہیں، ریاست میں خشک سالی سنگین صورت اختیار کرچکی ہے، بھیماکوریگاؤں فساد، سمبھاجی بھڑے، ملند ایکبوٹے، سناتن سنستھا بم بنانے کی فیکٹری جیسے موضوعات پر ریاست کے وزیراعلیٰ نے کبھی پریس کانفرنس نہیں لیا۔ لیکن آج اگسٹا ویسٹ لینڈ سے متعلق پریس کانفرنس لے کر کانگریسی لیڈران پر بے بنیاد الزامات عائد کئے۔ وزیراعلیٰ کی پریس کانفرنس چوری اور اس پر الٹے سینہ زوری کے مترادف ہے۔ وہ ریاست کو درپیش مسائل اور رفائیل طیارہ خریداری معاملے میں بھی پریس کانفرنس لیں۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ممبر پارلیمنٹ اشوک چوہان نے وزیراعلیٰ نے کہیں ہیں۔

گاندھی بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اشوک چوہان نے ثبوت وشواہد کے ساتھ وزیراعلیٰ کے جھوٹے الزامات کوثابت کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے پیشِ نظر کانگریس قیادت کو بدنام کرنے کے لئے پریس کانفرنس لے کر جھوٹے الزامات عائد کرنے کا پروگرام بی جے پی نے شروع کیا ہے۔ آج کی وزیراعلیٰ کی پریس کانفرنس اسی کا حصہ ہے۔ کریشچین مشیل کے پسِ پردہ بی جے پی حکومت اپنی بدعنوانی وگھوٹالوں کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ اشوک چوہان نے اس موقع پر مودی سے سوال کیا کہ جب کانگریس حکومت ن اگسٹا ویسٹ لینڈ کو بلیک لسٹ کردیا تھا تو اس پر پابندی ہٹاکر اسے میک اِن انڈیا میں کیوں شامل کیا گیا؟

انہوں نے کہا کہ فروری2010 میں بین الاقوامی ٹینڈرنگ کے ذریعے12وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر خریدنے کا کنٹریکٹ اگسٹا ویسٹ لینڈ و اس کی کمپنی فین میکینیکا کو ملا، جس کی کل رقم3564 روپئے تھا۔ 12فروری2013 کو میڈیا میں آئی خبروں کے بعد شک پیدا ہونے پر یو پی اے حکومت نے اگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر کی خریداری معاملے کی تفتیش کرنے کا حکم سی بی آئی کو دیا۔27فروری2013 کو اس وقت کے وزیردفاع اے کے انٹونی نے راجیہ سبھا میں اگسٹا ویسٹ لینڈ معاملے کی تفتیش مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے کرائے جانے کی تجویز پیش کی تھی، جس کی اس وقت بی جے پی والوں نے ہی مخالفت کی تھی۔ یکم جنوری2014 کو یو پی اے حکومت نے اگسٹا ویسٹ لینڈ سے12ہیلی کاپٹر خریداری کا کنٹریکٹ رد کردیا۔ اس وقت تک اگسٹا ویسٹ لینڈ کو1620 کروڑ روپئے دیا جاچکا تھا اور ۳ ہیلی کاپٹربھارت سرکار کو مل چکا تھا۔ کٹریکٹ منسوخ کئے جانے کے ساتھ ہی یو پی اے حکومت نے اگسٹا ویسٹ لینڈ کی بھارت کے بینکوں میں جمع240 کروڑ رقم کی گارنٹی ضبط کرلیا واٹلی کی عدالت میں اگسٹا ویسٹ لینڈ کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ 23مئی2014 کو یو پی اے حکومت نے وہ مقدمہ جیت لیا اور اگسٹا ویسٹ لینڈ کی بینک گارنٹی ضبط کرلی۔ اگسٹا کو دیئے گئے1620کروز روپئے کے بدلے حکومت نے کل2954 کروڑ روپئے وصول کیا۔ اگسٹا کو جتنی رقم دی گئی تھی، اس سے دوگنی رقم وصول کی گئی، جس میں886 کروڑ روپئے کے تین ہیلی کاپٹربھی شامل ہیں۔

15فروری2013 کو حکومت نے اگسٹا ویسٹ لینڈ و فین میکینکا کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے کی کارروائی شروع کی اور ۳ جولائی2014 کو اس کمپنی کو بلیک لسٹ کردیا۔ اگسٹا ویسٹ لینڈ کی تفتیش کانگریس حکومت نے شروع کیا۔ اس کے خلاف ایف آئی آر داخل کیا، کنٹریکٹ رد کیا، کمپنی کو بلیک لسٹ کیا،1620 کروڑ روپئے کے بدلے2954 کروڑ روپئے وصول کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے بعد22اگست2014 کو بی جے پی حکومت نے اگسٹا ویسٹ لینڈ و فین میکنیکا پر عائد پابندی کیوںختم کردی۔ بلیک لسٹ کی گئی کمپنیوں کی فہرست سے اس کا نام کیوں نکالا۔ مقدمہ شروع رہتے ہوئے بھی بلیک لسٹ کمپنیوں کی فہرست سے اگسٹا ویسٹ لینڈ کا نام نکال کر ۳ مارچ2015 کو اگسٹا ویسٹ لینڈ فین میکنیکا ایرو انڈیا2015 میں میک ان انڈیا میں اسے کیوں شامل کیا؟ اکتوبر2015 میں مودی سرکار نے فارین انویسٹمنٹ پرموشن بورڈ کے ذریعے اگسٹا ویسٹ لینڈ اور ٹاٹا کے درمیان جوائنٹ وینچر انڈیا روٹو کرافٹ لمیٹیڈ کو بھارت میں AW-199 فوجی ہیلی کاپٹر بنانے کی منظوری دیا اور2017 میں100 نیوی ہیلی کاپٹر خریداری معاملے میں اسے شامل کیا۔ اشوک چوہان نے سوال کیا کہ بلیک لسٹڈ کمپنی پر مودی سرکار اتنی مہربانی کیوں دکھا رہی ہے؟

اشوک چوہان نے کہا کہ مودی سرکار نے اگسٹا ویسٹ لینڈ کے خلاف تمام مقدمات ہارگئی لیکن ایک بھی مقدمے میں اپیل نہیں کیا۔ ۸ جنوری2018 کو اٹلی کی عدالت نے اس معاملے میں اگسٹا ویسٹ لینڈ کے ایکزیکیٹیو آفیسر جیئے سیپے اورسی، وسابق ایکزیکیٹیو آفیسر کو بری کردیا۔ 17ستمبر2018 کو اٹلی کے مِلان میں ہائی کورٹ نے اس معاملے میں ہندوستانی حکام کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں کوئی بدعنوانی نہیں ہوئی ہے۔ یہاں بھی مودی سرکار ہاری لیکن اس نے اپیل نہیں کیا۔ کریشچین مشیل نام کی جھوٹی کہانی مودی سرکار اور ای ڈی نے جولائی2018 میں گڑھی۔ خود کی بدعنوانی وگھوٹالوں پر پردہ ڈالنے کے لئے مودی سرکار اپوزیشن پارٹیوں پر جھوٹے الزامات عائد کرنے کی گھناؤنی سیاست کررہی ہے۔ جولائی2018 میں کریشچین مشیل کے وکیل روز میری پیٹریجی ایجنوس واس کی بہن ساشا اوج میل نے مختلف میڈیا ہاؤس کو دیئے گئے انٹرویو میں مودی سرکار کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا تھا کہ مودی سرکار و ای ڈی نے کریشچین مشیل کو اس معاملے سے بری کرنے کے لئے کانگریس لیڈران کانام لینے کا آفر دیا تھا ۔ اس کے باوجود ایک منصوبہ بند طریقے سے کریشچین مشیل پر دباؤڈال کر اس کا استعمال کرکے کانگریس لیڈران کو بدنام کرنے کی گندی سیاست بی جے پی کررہی ہے۔

اگسٹا ویسٹ لینڈ معاملے میں کانگریس کا نریندرمودی سے سوال

۱- اگسٹا ویسٹ لینڈ و فین میکینکا کمپنی کو بلیک لسٹ کمپنیوں کی فہرست سے کیوں نکالا گیا؟

۲- بلیک لسٹیڈ کمپنی اگسٹا ویسٹ لینڈ و فین میکینکا کو میک اِن انڈیا میں کیوں شامل کیا گیا؟

۳-بلیک لسٹیڈ کمپنی اگسٹا ویسٹ لینڈ کو فارین انویسٹمنٹ پرموشن بورڈ کے ذریعے سرمایہ کاری کی منظوری دے کر AW119 فوجی ہیلی کاپٹر بنانے کی منظوری کیوں دی؟

۴- بلیک لسٹیڈ کمپنی اگسٹا ویسٹ لینڈ کمپنی کو نیوی کے100 ہیلی کاپٹر کے لئے بولی لگانے کی منظوری کیوں دی گئی؟

۵- مودی سرکار اگسٹا ویسٹ لینڈ و فین میکینکا کے خلاف تمام مقدمات ہارنے کے باوجود اپیل کیوں نہیں کیا؟

۶- کریشچین مشیل کا استعمال کرکے اور جھوٹی کہانیاں گڑھ کر مودی سرکار خود کی بدعنوانی وگھوٹالوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کیوں کررہی ہے؟

اشوک چوہان نے کہا کہ پہلے وزیراعلیٰ دیوندر فڈنویس، وزیراعظم نریندرمودی اور بی جے پی ان سوالوں کے جواب ملک کی عوام کو دیں۔ سہارا ڈائری میں بی جے پی لیڈران کے نام ہیں، اس تعلق سے معلومات دیں اور پھر اس کے بعد ہی کانگریس لیڈران سے اس معاملے میں وضاحت طلب کریں۔