’’اگر مدارس اسلامیہ نہیں ہوتے تو ہندوستانی مسلمانوں کا بھی اسپین جیسا حشر ہوتا‘‘:مولانا اعجاز عرفی قاسمی

105

نئی دہلی: مدارس کی تعلیم کی اہمیت پرزور دیتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علمائے حق کے قومی صدر مولانا اعجاز عرفی قاسمی نے کہا کہ اگر آج ہندوستان میں مدارس اسلامیہ نہیں ہوتے تو ہندوستانی مسلمانوں کا بھی اسپین جیسا حشر ہوتا۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ رات مدرسہ اشرف العلوم بٹلہ ہاؤس میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہاکہ مدارس اسلامیہ، علمائے کرام اور مدارس میں خدمات انجام دینے والے آج فرقہ پرستوں کے نشانے پراسی لئے ہیں۔

انہیں معلوم ہے کہ ان کو ختم کئے بغیر مسلمانوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ یہی وجہ ہے کہ آج کل ٹرینوں، بسوں، چوک چوراہوں اور دیگر مقامات پر علمائے کرام اور مدارس کے فارغین کو نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ ان میں خوف و دہشت پیدا کیا جاسکے یہ لوگ دہشت کے مارے دین اسلامیہ کی خدمت سے دست بردار ہوجائیں۔ انہوں نے کہاکہ جب جب قوم کو ضرورت پڑی ہے علمائے کرام نے آگے بڑھ کر قیادت کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ خواہ جنگ آزادی ہو اسلامی تشخص کے خلاف کوئی معاملہ علمائے کرام اور دینی مدارس سے وابستہ حضرات نے آگے بڑھ نہ صرف ملت کا ساتھ دیا ہے بلکہ قیادت بھی کی ہے ۔مولانا عرفی قاسمی نے کہا کہ آج مدارس کے سامنے چیلنج ضرور ہیں لیکن اگر چیلنج نہ ہو تو پھر مقابلہ کرنے میں مزہ نہیں آتا ہے ۔ ہمارے بزرگوں نے مدارس اسلامیہ کی خاطر قربانیاں دی ہیں۔

اگر مدارس نہ ہوتے تو آج مسلمانوں میں دینی تشخص نظر نہیں آتا۔ اس لئے آج مدارس کو عصری تعلیم سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ مضبوط بنانے کی سخت ضرورت ہے ۔ مدرسہ اشرف العلوم بٹلہ ہاؤس کے مہتم حافظ ثاقب نثار نے کہا کہ اس ادارہ کے قیام کا مقصد جہاں دینی تعلیم کا فروغ ہے وہیں طلبہ کو عصری تعلیم سے بھی آہنگ کرنا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مدارس میں اکثر غریب بچے پڑھتے ہیں جس کا پس منظر بہت اچھا نہیں ہوتا ہے ایسے بچوں کی پرورش اور تعلیم کا انتظام مسلم معاشرہ کے لئے نہایت ضروری ہے ۔ ورنہ ایک بڑا طبقہ تعلیم سے محروم رہ کر مسلم معاشرہ کے لئے ناسور بن جائے گا۔اس موقع پر شہزاد عالم قاسمی، حافظ غفران اور دیگر طلبہ نے نعت و حمد پیش کیا۔