اگر روس نے ایٹمی ہتھیار استعمال کیے تو کیا ہو گا؟

366

روسی صدر نے یوکرین میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ماہرین ان کی اس دھمکی کو کیسے دیکھتے ہیں اور اگر ایسا ہوا، تو مغرب اس کے رد عمل میں کیا کر سکتا ہے؟

پوٹن کے اس بیان پر مغرب میں بحث چھڑ گئی ہے کہ اس کے رد عمل میں کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ولادیمیر پوٹن اس سلسلے میں پہل کریں گے۔ امریکہ نے سن 1945 میں جاپان کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کیے تھے اور اس کے بعد سے اب تک کسی بھی ملک نے ایسا نہ کیا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی نے کئی ماہرین اور متعلقہ حکام کے ساتھ روس کے ممکنہ جوہری حملے کی صورت حال کے بارے میں بات کی۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماسکو کی فورسز ممکنہ طور پر ایک یا ایک سے زیادہ ‘ٹیکٹیکل‘ یا میدان جنگ والا جوہری بم استعمال کر سکتی ہیں۔ یہ چھوٹے اور کم شدت والے بم ہوتے ہیں، جن میں 0.3 کلوٹن سے لے کر 100 کلوٹن دھماکہ خیز طاقت ہوتی ہے۔روایتی جوہری ہتھیاروں کے مقابلے میں ٹیکٹیکل بم میدان جنگ میں محدود سطح پر نقصان پہنچاتے ہیں۔ امریکہ نے سن 1945 میں ہیروشیما پر جو ایٹم بم گرایا تھا وہ 15 کلوٹن کا تھا۔ جب کہ روس سن 1961 میں 58 میگاٹن کے بم کا تجربہ کر چکا ہے۔

واشنگٹن میں CSIS انٹرنیشنل سکیورٹی پروگرام سے وابستہ عسکری ماہر مارک کینسیئن کے مطابق روس ممکنہ طور پر اگلے مورچوں پر جوہری ہتھیار استعمال نہیں کرے گا۔ 32 کلومیٹر کے علاقے پر قبضہ کرنے کے لیے 20 چھوٹے ‘ٹیکٹیکل‘ بموں کی ضرورت پڑ سکتی ہے، اس میں خطرہ کافی زیادہ ہے۔ اس کے برعکس ماسکو پانی کے اوپر یا یوکرین کے اوپر کافی اونچائی میں ایسا بم استعمال کر سکتا ہے، جس سے جانی نقصان کم ہو گا مگر ایک الیکٹرانک پلس جاری ہو گی، جس سے بجلی سے چلنے والے آلات بند ہو سکتے ہیں۔ اس سے ایک سخت پیغام بھیجا جا سکتا ہے۔

مگر یہ بھی ممکن ہے کہ پوٹن کسی یوکرینی فوجی اڈے یا کییف جیسے شہر کو نشانہ بنائیں، جس سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہو سکتی ہیں اور ممکنہ طور پر ملک کی سیاسی قیادت بھی ہدف بن سکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے جوہری پالیسی کے سابق ماہر جون وولفسٹل نے جمعے کو ‘سب اسٹیک‘ پر لکھا کہ اس طرح کے حالات ‘ممکنہ طور پر نیٹو اتحاد اور پوٹن کے خلاف عالمی اتفاق رائے کو تقسیم کرنے کے لیے تیار کیے جائیں گے۔

مغرب فی الحال اس بارے میں ابہام کا شکار ہے کہ ممکنہ جوہری حملے کا کس طرح جواب دیا جائے۔ امریکہ اور نیٹو جوہری خطرے کے آگے کمزور دکھنا نہیں چاہتے۔ لیکن وہ اس سے بھی بچنا چاہیں گے کہ یوکرین مین جاری جنگ ایک وسیع تر، تباہ کن عالمی ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مغرب کے پاس جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا اور یہ کہ جواب صرف امریکہ کی بجائے نیٹو کی طرف سے ایک گروپ کے طور پر آنا چاہیے۔ امریکہ نے اس وقت نیٹو ممالک میں اپنے 100 کے قریب ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار رکھے ہوئے ہیں اور وہ روسی افواج کے خلاف جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔ ‘اٹلانٹک کونسل‘ کے میتھیو کرونگ کے مطابق، یہ ممکنہ امریکی قدم ماسکو کی اس کے اقدامات سے منسلک خطرات کی طرف توجہ دلائے گا۔ تاہم ‘یہ روس کا جانب سے انتقامی کارروائی کو بھڑکا بھی سکتا ہے، جس سے بڑے تنازعے اور بھاری تباہی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ایک اور خطرہ یہ ہے کہ نیٹو کے کچھ ارکان جوہری ردعمل کو مسترد کر سکتے ہیں، اور یہ ممکنہ صورتحال نیٹو اتحاد کو کمزور کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ روسی جوہری حملے کی صورت میں روایتی فوجی یا سفارتی انداز میں جواب دینا اور یوکرین کو روس پر حملہ کرنے کے لیے مزید ہتھیار فراہم کرنا زیادہ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔

حال ہی میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے دھمکی دی کہ اگر روس کی ‘علاقائی سالمیت‘ کو خطرہ لاحق ہوا، تو یوکرین میں جوہری ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ پوٹن نے کہا تھا، ”جو ہمیں جوہری ہتھیاروں سے بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہوا کا رخ تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر روسی صدر نے باور کرایا کہ ‘یہ محض دھمکی نہیں‘۔