معظم حسین اور سوامی ناتھن نتراجن
بی بی سی ورلڈ سروس

بھاسن چار کے جزیرے پر پہنچنے کے ایک دن بعد تقریباً آدھی رات کے وقت حاملہ حلیمہ کو دردِ زہ شروع ہو گیا۔

وہ اور ان کا خاندان روہنگیا پناہ گزینوں کے اس گروہ میں شامل ہیں جنھیں حال ہی میں بنگلہ دیش کی حکومت کے ایک پروگرام کے تحت نئی زندگی گزارنے کے لیے اس جزیرے پر لایا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ خوفزدہ تھیں اور بہت بے یار و مددگار محسوس کر رہی تھیں۔ ’میں نے اللہ سے رحم کی بھیک مانگی۔‘بنگلہ دیشی حکومت بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں، انسانی حقوق کے گروہوں اور صحافیوں کو اس جزیرے تک رسائی نہیں دیتی ہے۔

لیکن بی بی سی نے بنگلہ دیش کے ساحل سے کچھ پرے، اس جزیرے پر بنائے گئے نئے کیمپ کے کچھ پناہ گزینوں کے ساتھ فون کے ذریعے بات کی۔

ان انٹرویوز میں جزیرے پر بنیادی ضرورتوں کے فقدان اور ملازتوں کے مواقع نہ ہونے پر ان پناہ گزینوں میں بڑھتا ہوا غصہ صاف محسوس ہوتا ہے۔
جب حلیمہ یہاں پہنچی تو بھاسن چار جزیرے میں بہت سردی تھی۔ انھیں پتہ تھا کہ یہاں کسی ڈاکٹر یا نرس کو تلاش کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

’مجھے پہلے بھی بچوں کی پیدائش کا تجربہ ہے، لیکن اس مرتبہ یہ بہت برا تھا۔ میں آپ کو بتا نہیں سکتی کہ وہ کتنی تکلیف دہ تھی۔‘

ان کے شوہر، عنایت، اسی بلاک میں رہنے والی ایک روہنگیا خاتون کو لینے کے لیے بھاگے، جس کے پاس دائی کا کام کرنے کا کچھ تجربہ اور تربیت تھی۔

حلیمہ کہتی ہیں کہ ’خدا نے میری مدد کی۔‘ ان کے ہاں ایک بچی کی ولادت ہوئی جس کا نام انھوں نے فاطمہ رکھا۔
میانمار میں ظلم و ستم
روہنگیا مسلمانوں کو زبردستی میانمار سے اس وقت نکالا گیا تھا جب وہاں کی فوج نے رخائن سٹیٹ میں گھس کر ان کے کئی گاؤں جلا دیے تھے۔

تقریباً دس لاکھ روہنگیا مسلمانوں نے جان بچانے کے لیے بنگلہ دیش میں پناہ لی۔ ان میں سے اکثریت کوکس بازار ڈسٹرکٹ کے پرہجوم کوٹو پالونگ کیمپ میں گئی۔

بنگلہ دیش نے روہنگیا کو واپس بھیجنے کی ناکام کوششیں بھی کیں۔ اب اس کا منصوبہ تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو بھاسن چار کیمپ میں منتقل کرنے کا ہے تا کہ دوسرے کیمپوں میں رش کم کیا جا سکے۔

حلیمہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں نہیں پتہ کہ ہم یہاں کیسے بچیں گے۔‘
یہ بہت ویران جگہ تھی۔ ہمارے علاوہ، یہاں کوئی نہیں تھا۔‘ان کے شوہر نے انھیں بتائے بغیر چپ چاپ ہی بھاسن چار جانے کے لیے اندراج کروا لیا تھا۔

عنایت کہتے ہیں کہ انھوں نے بہتر زندگی کی امید میں اپنے خاندان کو یہاں منتقل کرنے کے لیے دستخط کیے تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انھوں (بنگلہ دیش کے عہدیداروں) نے ہم سے بہت سی چیزوں کا وعدہ کیا تھا کہ ہر خاندان کو زمین کا ایک ٹکڑا، گائے، بھینسیں اور کاروبار شروع کرنے کے لیے قرضے دیے جائیں گے۔‘

نیا جزیرہ
بھاسن چار کا جزیرہ 15 سال پہلے بنگلہ دیشی ساحل سے 60 کلومیٹر دور سمندر سے ابھرا تھا۔چالیس مربع کلومیٹر پر محیط یہ جزیرہ سطح سمندر سے دو میٹر سے بھی کم بلندی پر ہے، اور یہ پوری طرح سے گارے سے بنا ہوا ہے جو ہمالیہ سے ندیوں میں آتا ہے اور پھر سمندر میں اکٹھا ہو جاتا ہے۔

مقامی ماہی گیر اسے آرام کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے جزیرے پر کبھی بھی انسانوں کو آباد نہیں کیا گیا تھا۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے جزیرے میں ایک بڑے کمپلیکس کی تعمیر پر تقریباً 35 کروڑ ڈالر خرچ کیے ہیں۔

طوفان
کموڈور عبد اللہ المامون چودھری کہتے ہیں کہ ’اقوام متحدہ ک معیار کے مطابق ہر شخص کو تقریباً 3.5 مربع میٹر جگہ فراہم کی جاتی ہے لیکن یہاں ہم کیمپوں میں 3.9 مربع میٹر فراہم کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے بھاسن چار میں مہاجرین کی پناہ گاہوں کی تعمیر کی نگرانی کی ہے۔

حلیمہ کہتی ہیں کہ وہ جزیرے پر اپنی رہائش میں پانی، بنک بیڈز، گیس سٹو اور شیئرڈ ٹوئلٹ کی سہولت سے خوش ہیں۔

لیکن وہ کہتی ہیں کہ طوفانوں سے انھیں بہت ڈر لگتا ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں نے جزیرے کے منصوبے کی مخالفت کی تھی کیونکہ اس علاقے میں طوفانوں اور اونچی سمندری لہروں کا خطرہ ہر وقت موجود ہے۔

اس علاقے کو تاریخ کے سب سے مہلک طوفانوں میں سے کچھ نے کئی مرتبہ تباہ کیا ہے۔

سنہ 1970 میں تقریباً پانچ لاکھ افراد اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب تمام ساحلی علاقہ سمندری طوفان کی زد میں آ گیا تھا۔

سنہ 1985 میں، ایک اور طوفان میں تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے اور بھاسن چار سے نزدیک ہی ایک اور جزیرے اُرویر چار کی پوری آبادی ختم ہو گئی تھی۔

طوفانوں سے بچنے کے شیلٹر
ویسے تو روہنگیا لوگوں کو طوفانوں کی عادت ہے، لیکن جزیرے پر اپنے نئے گھروں میں وہ اپنے آپ کو زیادہ غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔

بنگلہ دیشی حکام اسے اتنا زیادہ خطرہ نہیں سمجھتے۔

کموڈور عبداللہ المامون چودھری کہتے ہیں کہ ’جزیرہ نو فٹ اونچے بند سے اچھی طرح محفوظ ہے اور گذشتہ مون سون میں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا۔‘

’ہم اپنے طوفان کے شیلٹروں میں بھی ایک لاکھ بیس ہزار افراد کو شیلٹر مہیا کر سکتے ہیں۔‘

بھاسن چار میں خاندانوں کو بنیادی کھانے کی چیزیں جیسا کہ چاول، دالیں اور ککنگ آئل فراہم کیا گیا ہے۔
لیکن پناہ گزینوں کو سبزیاں، مچھلی اور گوشت جیسی دیگر اشیا خریدنے کی بھی ضرورت ہے۔ یہاں کوئی مارکیٹ تو نہیں ہے، لیکن کچھ بنگلہ دیشی شہریوں نے جزیرے میں اپنی دکانیں کھولی ہیں۔

حلیمہ کہتی ہیں کہ ’ہم غریب لوگ ہیں، ہمارے پاس کھانا اور دوسری اشیا خریدنے کے لیے کوئی آمدنی نہیں ہے۔‘اس خاندان کو صحت کی پریشانیوں کا سامنا بھی ہے۔ حلیمہ بچے کی پیدائش کے بعد سات دن تک بستر پر رہیں۔

’میں نے دو ہفتوں تک اپنی بچی کو دودھ پلایا۔ پھر میری چھاتی کا دودھ سوکھ گیا۔‘

جزیرے کے کلینک میں ڈاکٹر نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی بچی کو فارمولا کا دودھ پلائیں، جو وہاں دستیاب نہیں تھا۔

حلیمہ کی بچی کو ڈبے کا دودھ دیا گیا جو عموماً بڑے بچوں کو دیا جاتا ہے، لیکن وہ اسے ٹھیک طریقے سے ہضم نہیں کر پائی۔حلیمہ کو یہ بھی پریشانی ہے کہ وہ اپنی بچی کو ضروری ویکسینز بھی نہیں لگوا سکیں۔لیکن اس دوران ان کے شوہر عنایت کو دمہ کے مرض نے آ لیا ہے۔

حلیمہ نے کوٹوپالونگ جزیرے پر اپنے بھائی نور کو فون کیا کہ وہ کسی طرح ان کے شوہر کے لیے دوائی کا بندوبست کرے۔نور کسی کے ہاتھ دوائی نہیں بھیچ سکے، اس لیے ان کو خود ہی یہ لے کر آنا پڑا۔

نور کہتے ہیں کہ ’میں نے یہاں آنے کے لیے اپنا نام رجسٹر کرایا، تاکہ میں وہ ادویات یہاں لے کر آ سکوں جن کی ان کو ضرورت ہے۔‘

یک طرفہ سفر
لیکن اب مصیبت یہ ہے کہ انھوں نے دوائیاں تو دے دی ہیں پر اب وہ واپس نہیں جا سکتے۔
تمام پناہ گزینوں کو بحریہ کی نگرانی میں جزیرے پر لایا جاتا ہے اور وہاں کوئی ایسی فیری سروس موجود نہیں ہے جو انھیں واپس مین لینڈ تک لے جا سکے۔

بنگلہ دیشی حکومت نے ابھی تک اس بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ مہاجرین جزیرے سے کیسے سفر کر سکتے ہیں۔

پناہ گزینوں کا احتجاج
جزیرے کے دور دراز ہونے اور سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے پناہ گزین نہیں سمجھتے کہ حکومت کی مدد کے بغیر یہاں کوئی پائیدار آمدنی ہو سکتی ہے۔

فروری کے دوسرے ہفتے کے دوران کھانے کی دی گئی مقدار پر ہونے والا جھگڑا بعد میں ایک احتجاج کی شکل اختیار کر گیا تھا۔

بی بی سی نے اس احتجاج کی ایک ویڈیو دیکھی ہے، جس میں غصے سے بھرے ہوئے روہنگیا مرد اور عورتیں چیختے ہوئے ڈنڈے لے کر بھاگ رہے تھے۔

حکام کہتے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

ریفیوجی ریلیف اینڈ ریپیٹری ایشن کمیشن (آر آر آر سی) کے سربراہ شاہ رضوان حیات کہتے ہیں کہ ’وہ کوئی احتجاج نہیں تھا۔‘
وہ عام طور پر گروہوں میں اپنا ماہانہ راشن لینے کے لیے آتے ہیں اور پھر انھوں نے وہاں اپنی معاش کا مسئلہ اٹھا دیا۔‘

حکومت کا کہنا ہے کہ آمدنی فراہم کرنے والی سکیمیں جلد ہی چلائی جائیں گی اور چالیس سے زیادہ مقامی غیر سرکاری تنظیموں نے پناہ گزینوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت کے لیے درخواستیں دی ہیں۔

حلیمہ اپنی رہائش گاہ میں چیزوں کے بہتر ہونے کے انتظار میں تھک چکی ہے اور ان کا آبائی وطن اب دور دراز کی یاد کی طرح لگتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’لوگ کہتے ہیں کہ میانمار کی حکومت ہمیں کبھی واپس جانے کی اجازت نہیں دے گی۔ لیکن مجھے اس کی پرواہ نہیں، میں وہاں نہیں جانا چاہتی۔‘

کھلی جیل
کوئی ایسی جگہ ہے جہاں وہ رہنا چاہیں۔

’میں کبھی بھی ایسی جگہ نہیں رہی، جس کے چاروں طرف سمندر ہو۔ ہم یہاں پھنس چکے ہیں۔ ہم کہیں نہیں جا سکتے۔‘

بی بی سی نے جن تمام پناہ گزینوں سے ٹیلیفون پر بات کی انھوں نے بتایا کہ اگر آپشن دیا گیا تو وہ کاکس بازار ہی واپس جانا چاہیں گے۔

عنایت کا کہنا ہے ’اگر آپ اپنے خاندان کے ساتھ کسی بڑی جیل میں رہنا چاہتے ہیں تو یہی وہ جگہ ہے۔‘

اس مضمون میں کچھ لوگوں کی شناخت محفوظ رکھنے کے لیے نام بدلے گئے ہیں۔