اک تماشہ ہوا گلہ نہ ہوا

0 14
مراسلہ
بابری مسجدکی بازیابی کیلئے قبا مسجد کے سامنے احتجاج!!!
مکرمی،شہادت بابری مسجد کی چھبیسویں برسی کے موقع پر ’مسلم متحدہ محاذ‘کی جانب سے دیگلور ناکہ پر مسجد قباء کے روبرو منظم کیا گیا احتجاجی دھرنا اپنی نوعیت کا اب تک کا سب سے عجیب و غریب ’احتجاج‘ مانا جارہا ہے۔عام طور پرکسی مسئلہ یا زیادتی کاشکارکوئی قوم انتظامیہ یا حکومت کو توجہ دلانے کے لئے سرکاری دفاتر کے سامنے اپنا احتجاج درج کرواتی ہے ۔لیکن محاذ نے  عین وقت پر اپنا احتجاج ضلع کلکٹر دفتر کے باہر کرنے کے بجائے دیگلور ناکہ منتقل کردیا ۔جس سے مسلم تنظیموں اور جماعتوں میں نا اتفاقی پیدا ہوگئی ۔اور محاذ کے ارادوں پر شکوک ظاہر کیے گئے ۔اس فیصلے سے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کئی تنظیمیں اور جماعتوں نے محاذ سے اپنی حمایت واپس لینے کا بھی اعلان کیا۔حکومت کے خلاف کیے گئے اس احتجاج کو مسلم علاقے میں کرنے کی کسی کو کوئی وجہ نظر نہیں آئی ۔جبکہ ضلع کلکٹر دفتر کے باہر 144لگنے کا بہانہ بنانے کی قلعی بھی اس وقت کھل گئی جب سکھ سماج نے ضلع کلکٹر دفتر کے باہر اپنا احتجاج کیا اور انہیں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔اتنا ہی نہیں کئی نامور دینی و سماجی تنظیموں و جماعتوں کو بھی محاذ میںشامل نہیں کیا گیا۔اس طرح ایک سنجیدہ احتجاجی جلسہ کو مینا بازار بنادیا گیا۔اس جلسہ میں محاذ اور تائیدی تنظیموں کے ذمہ داران نے جو تقریریں کیںوہ بھی غیر متعلق اور ٖغیر معقولیت پر مبنی تھیں۔اکثر مقررین علمی و فکری حیثیت سے پیدل تھے۔محاذ کے احتجاج کے اسٹیج کو حجام کا آئینہ بنادیا گیا جہاں ہر کوئی اپنے بال سنوارنے کی فراق میں تھا۔سب سے مزے دار بات تو یہ رہی کہ جلسے میںانتظامیہ اور فرقہ پرستوں کے خلاف بیان دینے کے بجائے مسلم ملی اور سماجی تنظیموں کے خلاف ہی زہر اگلا گیا۔جس کی وجہ سے اس اسٹیج نے اپنا اعتماد عوام میں کھودیا۔اس کا اظہار سوشیل میڈیا پر بھی کیا جارہا ہے ۔سوشیل میڈیا پر مسلم متحدہ محاذ کو کانگریس کا ہی مسلم محاذ قراردیا جارہا ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ محاذ کے اس پلیٹ فارم پر کئی ملی تنظیمیں آنے سے کترارہی ہیں۔جس وقت محاذ کو تشکیل دیا گیا تھا اس وقت اس میں ناندیڑ کی ہر تنظیم اور جماعت شامل تھی لیکن دھیرے دھیرے محاذ کے پلیٹ فارم سے معیاری اور کیڈر بیس تنظیمیں اور جماعتیں  دور ہوتی گئیں۔اب صرف تین چار تنظیمیں یا سوسائٹیاں ہی محاذ کا حصہ رہ گئی ہیں۔جبکہ شہر کی بڑی تنظیمیں اور جماعتیں اس محاذ کو سیاسی قراردیتے ہوئے اس سے دور رہنے کو ہی عافیت سمجھ رہی ہیں۔جن تنظیموں اور جماعتوں نے محاذ سے دوری اختیار کرلی ہیں وہ بالکلیہ طور پر کیڈر بیسڈ تنظیمیں ہیں۔محاذ سے دور ہونے والی تنظیموں اور جماعتوں میں خصوصاََ جماعت اسلامی، پاپولر فرنٹ آف انڈیا ،امام کونسل،خادمین امت،اورالخیر گروپ کے نام شامل ہیں۔اب بچے ہوئے محاذ کو غیر موثر اورسماج پر اثرانداز ہونے کی طاقت نہ رکھنے والامحاذ مانا جارہا ہے ۔ علمائے کرام جیسی محترم شخصیات کو اس ہنگامے کاحصہ نہیں بننا چاہئے تھا۔
عبدالرحمٰن عبدالستار،دیگلور ناکہ ،ناندیڑ
(نوٹ:مراسلہ نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔(ورق تازہ آن لائن ٹیم)