بھونیشوار۔ریاستی اسمبلی میں اتفاق رائے کے ساتھ اڈیشہ اسمبلی میں ایک قرارداد کو منظوری دی گئی ہے جس میں ریاست کے سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں میں 15فیصد تحفظات کی بات کہی گئی ہے۔

چیف منسٹر نوین پٹنائک نے اس قرارداد کوپیش کیا۔ مذکورہ تجویز اعلی اقتدار والی کمیٹی کی سفارشات کے پس منظر میں پیش کی گئی ہے جس کا مشورہ ہے کہ ریاست میں سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو تحفظات فراہم کئے جانے چاہئے۔

پچھلے سال ڈسمبر میں مذکورہ ریاستی کابینہ نے میڈیکل او رانجینئرنگ کالجوں میں سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے لئے سیٹوں کے تحفظات کو منظوری دی تھی۔

حکومت نے ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی جس کی نگرانی اڑیسہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس اے کے مشرا کے سپرد کی گئی تھی تاکہ وہ سیٹوں کے تحفظات کے ضمن میں درکار ضروری سفارشات کو تیار کریں

اعلی سطحی کمیٹی کی بازیافت
کمیٹی نے پایاکہ اڈیشہ میں 86فیصد طلبہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور انہیں 23فیصد داخلہ میڈیکل اور21فیصد داخلہ انجینئرنگ کالجوں میں مل رہے ہیں۔

چیف منسٹر نے کہاکہ دوسری جانب 12فیصد طلبہ جو خانگی اسکولو ں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں انہیں میڈیکل او رانجینئرنگ دونوں کالجوں میں 60فیصد سیٹیں مل رہی ہیں۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ”اس سے صاف ظاہرہورہا ہے کہ قومی مسابقتی امتحانات میں کلیدی رول ادا کرنے والے کوچنگ اداروں تک رسائی میں جسمانی اور معاشی بڑھتی عدم مساوات حائل ہے“۔

قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے حزب اختلاف کے لیڈر پردیپتا کمارنائیک نے کہاکہ مذکورہ حکومت کو چاہئے کہ وہ سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے لئے کوچنگ کی سہولتوں کو یقینی بنائیں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں