• 425
    Shares

آپ کو کیسا لگے گا اگر کوئی پراٹھے کی شکل اور ذائقہ بدل دے اور اسے پراٹھا ہی پکارے؟ نہاری میں گوشت گلا ہوا نہ ہو یا پھر سالن تو پائے کا ہو لیکن اس میں پائے نہ ہوں۔۔۔۔ کیا آپ اپنے پسندیدہ ناشتے کی برسوں پرانی ساکھ کے ساتھ یہ چھیڑ چھاڑ جھیل پائیں گے؟

ایسا ہی کچھ انڈیا کے ایک مرغوب ناشتے کے پکوان کے ساتھ ہوا ہے جس کی وائرل تصویر نے ٹوئٹر پر کھانے کے حوالے سے ایک دلچسپ جنگ چھیڑ دی ہے۔اس تصویر میں ایک اڈلی دکھائی دے رہی ہے جو عمومی طور پر بھاپ سے پکنے والے چاول کا ایک گول کیک ہوتا ہے۔ لیکن اس تصویر میں اسے آئس کریم کی سٹک پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ روایتی سامبر ہے جس میں اسے ڈبو کر کھایا جاتا ہے جو کہ یہ دال اور سبزیوں کا ایک شوربہ ہوتا ہے۔

اگرچہ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے اس پیش کرنے والے شخص کی تخلیقی صلاحیتوں کو پسند کیا ہے جس نے جنوبی انڈیا کے روایتی ناشتے کی شکل بدل دی جبکہ کچھ اس تخلیق پر خوفزدہ ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ تصویر جنوبی شہر بنگلور کی ہے۔

انڈین کمپنی آف مہندرا اینڈ مہندرا کے سی ای او آنند مہندرا نے اس تصویر کو ٹویٹ کرتے ہوئے پوچھا کہ وہ ‘تخلیقی صلاحیت’ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

اڈلی اور سامبر کے ساتھ عام طور پر ناریل کی چٹنی بھی پیش کی جاتی ہے جس پر سرسوں کے بیج ڈالے جاتے ہیں۔ یہ جنوبی انڈین باشندوں کا ہر دل عزیز ناشتہ ہے۔

آنند نامی صارف نے نے صرف تخیر کا اظہار کیا بلکہ اڈلی کھانے کا طیقہ بھی سکھایا ان کا کہنا تھا ’کیا ؟؟؟ ادلی کون ڈبوتا ہے ؟؟؟ یہ مجرمانہ ہے .. سامبر اور چٹنی کو اڈلی کے ٹکڑوں پر ڈالیں اور پھر کھانے سے پہلے انہیں انگلیوں سے پیستے ہوئے مسلیں۔‘

ایک صارف نے تو صرف اتنا لکھا ’صرف ایک سوال ہے، کیوں؟‘
شدندے کو اعتراض ہے کہ ’دوسری طرف سے لوگ درختوں کو بچانے اور متبادل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں ، یہاں یہ لوگ ان لکڑیوں کو غیر ضروری طور پر تخلیقی صلاحیتوں کے نام پر ضائع کر رہے ہیں!‘
وہیں کچھ صارفین چیزوں میں تجربات کے حق میں دکھائی دیے۔ امرتیا گھوش کا کہنا تھا ’آج کی دنیا میں سب کچھ بدل رہا ہے اور تجربات اور ترامیم ہو رہی ہیں، یقینا گاہکوں کے اطمینان کے لیے۔ تو اس میں غلط کیا ہے؟ ہمیں نسلی پرستی چھوڑنا چاہیے اور عقائد سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے۔‘

پچھلے سال برطانیہ میں مقیم ایک اکیڈمک کے ایک ٹویٹ نے اڈلی کو ‘دنیا کی سب سے بورنگ چیز’ قرار دینے کے بعد کھانے سے متعلق شدید بحث کو جنم دیا تھا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔