کانگریس کے منیش تیواری اور جے ڈی (یو) کے راجیو رنجن سنگھ کا لوک سبھا میں حکومت پر الزام

نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ ملک میں کووڈ ویکسین کا عمل ٹھیک طرح سے نہیں چل رہا ہے اور اب تک بہت کم لوگوں کو ٹیکہ لگا ہے لیکن حکومت اپنے لوگوں کی ان دیکھی کر کے غیر ملکوں میں کووڈ کا ٹیکہ بھیج کر واہ واہی لوٹ رہی ہے ۔لوک سبھا میں کانگریس کے منیش تیواری نے چہارشنبہ کو سال 2021 – 22کے لئے صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے گرانٹ مطالبات پر بحث کی شروعات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ٹیکہ کاری کا عمل ٹھیک طرح سے نہیں چل رہا ہے ۔ لوگ کورونا کا ایک ہی ٹیکہ لے رہے ہیں جبکہ دوسرے ٹیکے میں کئی لوگ ندارد ہیں۔ اس سے کورونا نہیں رکے گا اور ٹیکہ کاری کا بھی کوئی جواز نہیں رہ جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کووڈ کی ٹیکہ کاری میں بھی حکومت کی پالیسی واضح نہیں ہے اس لئے ٹیکہ کاری کا عمل ٹھیک طرح سے نہیں چل رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی آبادی کے حساب سے ابھی تک ہمارے یہاں محض 0.045فیصد لوگوں کی ٹیکہ کاری ہوئی ہے جبکہ پانچ کروڑ ٹیکے غیر ملکوں کو دئے گئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت اپنے لوگوں کی جان پر کھیل کر ٹیکہ سفارت کو اہمیت دے رہی ہے ۔کانگریس رہنما نے کہا کہ صحت مشن پر حکومت کم توجہ دے رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال کے بجٹ میں اس کے لئے جو رقم الاٹمنٹ کیا گیا تھا اس کے مقابلے اس سال کم رقم کا الاٹمنٹ اس منصوبے کے لئے ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی وبا نے ایک سال کے دوران میں سکھایا ہے کہ قدرت کے مایا جال کے سامنے کسی کی نہیں چلتی ہے ۔جنتا دل یو کے راجیو رنجن سنگھ نے کہا کہ کورونا عالمی وبا ہے اور اس کے سلسلے میں کسی کو سیاست نہیں کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ 30 جنوری کو پچھلے سال پہلا معامہ آیا اور حکومت نے اس پر فوراً کارروائی شروع کردی تھی اس میں کہیں تاخیر نہیں ہوئی ۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے پچھلے سال 25 مارچ کو لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا اور لوگوں میں کورونا کے سلسلے بیداری پیدا کی تھی جس کی وجہ سے وبا کا اثر کچھ کم ہو سکا اور لوگوں میں بیداری پیدا ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کی سبھی سیاسی پارٹیوں کا فرض ہے کہ وہ لوگوں میں کورونا کے سلسلے میں ڈر پیدا نہ کریں بلکہ لوگوں کورونا سے بچاؤ کی معلومات دین اور کورونا کو روکنے میں اپنا تعاون دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان نے کورونا کو ہرانے میں جو کامیابی حاصل کی ہے اس کا پیغام دنیا میں جانا چاہئے اور یہ پیغام دینے کی ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں