اٹلی دنیا کو پیغام دے رہا ہے۔۔۔۔!

(مترجم عبدالرحمن)

سنو اور ہدایات پر عمل کرو قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے!اٹلی سے ایک مراسلہ(خط)

♨️Join Our Whatsapp 🪀 Group For Latest News on WhatsApp 🪀 ➡️Click here to Join♨️

سلامتی ہو سب کے لئے، ہم اٹلی میں رہتے ہیں۔اٹلی کے شہر میلان میں۔۔۔میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں اور وضاحت کرتا ہوں کہ یہاں زندگی کیسی ہے؟ یہاں بہت تکلیف دہ حالات ہیں، میں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کسی قسم کی کوئی غلطی نہ کریں اور ہم سے جو غلطیاں ہوئی ہیں ان کے نتائج سے سبق حاصل کریں۔۔۔

ہم اس وقت مکمل قید میں ہیں۔ہم گلیوں میں نہیں جا سکتے۔ پولیس ہر جگہ الرٹ کھڑی ہے اور ہر اس شخص کو گرفتار کر رہی ہے جو اپنے گھر سے باہر نکلتا ہے۔
ہر چیز بند ہے۔کاروبار، بازار، دکانیں اور تمام گلیاں بالکل سنسان ہیں۔ دنیا کے اختتام جیسا محسوس ہو رہا ہے۔

اٹلی، جو کہ پر رونق زندگی کی علامت ہے، ایک روشن مرحلے سے اندھیرے اور تاریک مرحلے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ جنگ سے تباہ حال ملک ہو۔یہ ایک حقیقت ہے کہ میں کبھی نہیں چاہتا تھا کہ ایسے حالات میں زندگی گزاروں۔ لوگ یہاں پر بہت اداس ہیں، غمگین ہیں، شش وپنج میں ہیں، مضطرب ہیں اور بے یارومددگار ہیں۔اور وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ آفت اور یہ حقیقت ان پر کیسے مسلط کی گئی۔ اور وہ یہ بھی نہیں سمجھ سکتے کہ یہ ڈراؤنا منظر کب ختم ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمارا معاشرہ اور عدم برداشت کے مریض

سب سے بڑی غلطی جو اٹلی میں کی گئی تھی وہ یہ تھی کہ اس وائرس کے پہلے حملے کے وقت لوگوں نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ اپنی معمول کی زندگی میں مصروف رہے۔کام کاج کی خاطر گلیوں میں چلتے پھرتے رہے گھومتے رہےاور وہ سمجھتے رہے کہ یہ لطف اندوز ہونے کا موسم ہے۔دوستوں سے ملنا جلنا اور شادی وغیرہ کے اجتماعات میں شامل ہونے کی وجہ سے سب نے غلطی کی اور آپ بھی وہی غلطی کر رہے ہیں۔
میں آپ سے ہاتھ جوڑ کر فریاد کرتا ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ آپ احتیاط کریں، یہ نہ تو کوئی ہنسنے کی بات ہے اور نہ ہی کوئی مذاق کی بات۔ اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کریں، اپنے والدین اور دادا دادی اور نانا نانی کی حفاظت کریں۔ یہ بیماری ان کے لئے بہت خطرناک ہے۔

یہاں روزانہ دو سو لوگ مر رہے ہیں، اس کی وجہ یہ نہیں کہ اٹلی میں ادویات نہیں ہیں بلکہ اعلی قسم کی ادویات موجود ہیں، ان اموات کی وجہ یہ ہے کہ کسی کے لئے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر حضرات یہ طئے کرنے کی کوشش میں ہیں کہ کس کو بچائیں اور کس کو مرنے دیں۔ یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کہ لوگوں نے ابتداء میں حماقت کی اور اپنے شب و روز کو معمول کے مطابق رہنے دیا اور بیماری کے نئے ماحول کے مطابق حفاظتی اقدامات نہیں کئے۔

برائے مہربانی آپ ان غلطیوں سے سیکھیں، ہم ایک چھوٹے سے ملک میں رہنے والے ہیں اور ایک بہت بڑے سانحے سے گزر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مسلمان تعلیمی میدان میں کتنے پسماندہ؟ از: اشفاق احمد مومن۔ ‏پونا

اب غور سے سنو!

¶ ہجوم والی جگہوں میں مت جاؤ
¶ عوامی مقامات میں مت کھاؤ پیو
¶ زیادہ تر وقت اپنے گھر کے اندر گزارو
¶ محکمہ صحت کی ہدایات کو غور سے سنو اور ان پر سختی سے عمل کرو اور ان کو مذاق مت سمجھو
¶ ایک دوسرے سے بات کرتے وقت کم از کم ایک میٹر کا فاصلہ رکھو، قریب مت آؤ اور ایک دوسرے سے گلے نہ ملو
¶ احتیاطی تدابیر اختیار کرو اور دوسروں کی غلطیوں سے سبق حاصل کرو۔

ہم آپ کو مشورہ دیتے ہیں کہ وٹامن سی استعمال کر کے اپنے جسم کی قوت مدافعت کو مضبوط بناؤ۔

طبی عملہ کے ساتھ تعاون اس بیماری کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔اٹلی سارے کا سارا قید خانے میں تبدیل ہو چکا ہے جس کا مطلب ہے ساٹھ ملین لوگ قید میں ہیں۔ یہ سب کچھ روکا جا سکتا تھا اگر لوگ حماقت نہ کرتے اور ابتداء میں ہی احکامات پر عمل کر لیتے۔اپنا اور اپنے محبت کرنے والوں کا خیال رکھیں ❤❤

اس پیغام کو لوگوں تک پہنچائیں.

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me