آندھرا پردیش میں بس چلانے والی ’پہلی‘ مسلمان خاتون

3

’بس ڈرائیونگ کو مردوں کا پیشہ سمجھنے کی دقیانوسی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایک عورت جہاز، ریل گاڑی، کار اور موٹر سائیکل چلا سکتی ہے تو بس بھی چلا سکتی ہے۔

’مہنگائی کے اس دور میں گھر چلانا اور بچوں کی پرورش کوئی آسان کام نہیں ہے لہٰذا مرد اور عورت دونوں کا کمانا ضروری ہے۔ میرے شوہر کی آمدنی بہت کم ہے۔ میں سرکاری ملازمت کرنا چاہتی ہوں تاکہ اپنا حصہ ڈال سکوں۔‘

یہ الفاظ بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع کڈپہ کی رہنے والی 33 سالہ نازینہ بیگم کے ہیں، جنہوں نے سرکاری ملازمت کے حصول کے لیے بس ڈرائیونگ کے پیشے کو اختیار کیا ہے۔نازینہ بیگم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ وہ اپنے شوہر شیخ محمد خواجہ الیاس کی حمایت سے آندھرا پردیش میں بس چلانے والی پہلی مسلمان خاتون بن گئی ہیں۔’سڑکوں پر بس چلاتی ہوں تو سبھی دیکھنے والے حیرت کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ انہیں ایک برقعہ پوش خاتون کا بس چلانا ایک حیرت انگیز کام اور عجوبہ نظر آتا ہے۔‘

مقصد سرکاری ملازمت کا حصول

نازینہ بیگم نے کڈپہ کی مشہور یوگی ویمانا یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں پوسٹ گریجویشن اور بیچلر آف ایجوکیشن کی ڈگری حاصل کی ہے۔ انہوں نے دو سال تک کڈپہ کے نجی ڈگری کالجوں میں طلبہ کو پڑھایا بھی ہے۔انہوں نے اسی ماہ آندھرا پردیش سٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (اے پی ایس آر ٹی سی) کی جانب سے منعقد کرائے جانے والے 32 روزہ بس ڈرائیونگ کورس میں داخلہ لیا تاکہ وہ ہیوی وہیکل ڈرائیونگ لائسنس حاصل کر کے اسی محکمے میں ڈرائیور کی ملازمت حاصل کر سکیں۔

’میرا واحد مقصد سرکاری ملازمت حاصل کرنا ہے۔ میں تو اپنی کوشش جاری رکھوں گی۔ اے پی ایس آر ٹی سی میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن حاصل ہے۔ یعنی کل کو اگر اس محکمے کو 100 ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کو ضرورت ہو گی تو ان میں سے کم از کم 33 نوکریاں خواتین کو ملیں گی۔

’ہمارے ہاں کی خواتین تو کنڈکٹر کی ملازمت کے لیے درخواست دیتی ہیں لیکن بس چلانے کے لیے نہیں۔ میرے پاس ملازمت پانے کا ایک اچھا موقع ہے۔ ریزرویشن کی وجہ سے ہی میں نے بس چلانی سیکھی ہے۔ مجھے انتظار ہے کہ کب ڈرائیور کی اسامیوں کے لیے نوٹیفکیشن آئے تاکہ میں درخواست دے سکوں۔

’جہاں تک میرے بس چلانے کی بات ہے تو مجھے سیکھنے میں کوئی دقت نہیں آئی اور میں ایک ہفتے کے اندر ہی سیکھ گئی۔ اے پی ایس آر ٹی سی یا انسٹریکٹرز میں سے کسی کو بھی میرے برقعہ پہن کر بس چلانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ یہاں کے ہندو تو برقعہ پوش خواتین کی عزت کرتے ہیں۔

’32 دنوں کا تربیتی کورس ہے۔ میرا بیچ 16 ٹرینیز پر مشتمل ہے اور میں واحد خاتون ٹرینی ہوں۔ ابھی تربیتی کورس مکمل نہیں ہوا ہے لیکن میں نے نہ صرف بس چلانا بلکہ معمولی نوعیت کی تکنیکی خرابیوں کو درست کرنا بھی سیکھا ہے۔

’میرا ڈرائیونگ کورس 7 دسمبر کو مکمل ہو رہا ہے۔ اس کی فیس چوبیس ہزار روپے کے قریب ہے جو میں نے ادا کی ہے۔ میں نے ہیوی وہیکل ڈرائیونگ لائسنس کے لیے درخواست دی ہے اور بہت جلد مجھے یہ لائسنس مل جائے گا۔‘

نازینہ بیگم کا ایک 13 سالہ بیٹا اور آٹھ سال کی دو جڑواں بیٹیاں ہیں۔ ہر ماں کی طرح وہ اپنے تینوں بچوں کو اچھی تعلیم دلوانا چاہتی ہیں۔

’میں نے اپنے ضلعے کے نجی ڈگری کالجوں میں دو سال تک بچوں کو پڑھایا ہے۔ میں نے پڑھانے کا پیشہ اس لیے چھوڑا کیوں کہ میرے بچے چھوٹے تھے اور انہیں ماں کی نگہداشت کی ضرورت تھی۔

’میں نے سرکاری ٹیچر کی ملازمت کے لیے دو بار درخواست دی لیکن مقابلہ سخت ہونے کی وجہ سے مجھے ملازمت نہ مل سکی۔ اب اگر مجھے بس ڈرائیور کی نوکری مل جاتی ہے تو مجھے اپنی تعلیمی اہلیت کی بنیاد پر جلد ترقی مل سکتی ہے۔‘

’مسلمان خاتون کا بس چلانا ٹھیک نہیں‘

نازینہ بیگم کا کہنا ہے کہ ان کے رشتہ داروں کو ان کا بس چلانا بالکل بھی گوارا نہیں ہے۔

’میرے رشتہ دار کہتے ہیں کہ یہ ایک غلط کام ہے۔ ایک مسلمان خاتون کا بس چلانا ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن مجھے میرے شوہر کی حمایت حاصل ہے۔ انہیں پورا بھروسہ ہے کہ میں محکمہ ٹرانسپورٹ میں ڈرائیور کی نوکری سے ایک بڑے عہدے تک پہنچ سکتی ہوں۔‘

درس و تدریس کا کام چھوڑ کر بس ڈرائیونگ کا پیشہ اختیار کرنے والی نازینہ بیگم کے شوہر شیخ محمد خواجہ الیاس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی دلی خواہش ہے کہ ان کی اہلیہ سرکاری بس ڈرائیور کی ملازمت پا سکے۔

’میری عمر 40 سال ہے اور میں ادویات کی مارکیٹنگ کے پیشے سے وابستہ ہوں۔ میں سرکاری ملازمت کے لیے درکار زیادہ سے زیادہ عمر کی حد پار کر چکا ہوں۔ میری بیوی کی عمر مجھ سے کم ہے۔ وہ سرکاری ملازمت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھ سکتی ہیں۔’میں نے نازینہ کو بس چلانے کی تربیت دینے والے انسٹریکٹرز سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ کی بیوی نے تو فوراً بس چلانی سیکھی اور ان میں کوئی ڈر و خوف بھی نہیں ہے۔

’نازینہ نے مصروف ترین سڑکوں پر بس دوڑا دی ہے اور معمولی نوعیت کی تکنیکی خرابیوں کو از خود درست کرنا سیکھ چکی ہیں۔ پورے آندھرا پردیش میں محض پانچ خواتین نے بس چلانے کی تربیت حاصل کی ہے جن میں سے میری بیوی واحد مسلمان خاتون ہے۔‘