آر ایس ایس چیف بھاگوت کا ’مدرسہ تجوید القرآن‘ کادورہ ٗطلبا نے سوالات کے بے خوف انداز میں جواب دیئے

1,085

نئی دہلی :آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کا مسلم دانشوروں سے ملاقات کا معاملہ ابھی موضوعِ بحث تھا ہی، کہ اچانک 22 ستمبر کی صبح ان کی آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے چیف امام عمیر احمد الیاسی سے ملاقات نے ایک نئی ہلچل شروع کر دی۔ اس کے بعد اچانک وہ مدرسہ تجوید القرآن پہنچ گئے جہاں بچوں سے کافی دیر تک بات ملاقات کی۔ مدرسہ تجوید القرآن کے دورہ کو لوگ معنی خیز قرار دے رہے ہیں، کیونکہ ایک طرف یوپی میں مدارس کا سروے چل رہا ہے اور دوسری طرف آر ایس ایس چیف لگاتار اپنے اقدام سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے ’دشمن‘ نہیں ہیں۔

موہن بھاگوت آج بوقت دوپہر کستوربا گاندھی مارگ مسجد میں ڈاکٹر امام عمیر احمد الیاسی سے ملاقات کے بعد آزاد مارکیٹ واقع مدرسہ تجوید القرآن پہنچے تھے۔ یہاں انھوں نے مدارس کے بچوں سے ملاقات کی اور کچھ سوالات پوچھے جس کا طلبا نے بے خوف اور بلاجھجک انداز میں جواب دیا۔ ’آج تک‘ نیوز پورٹل پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق بھاگوت کافی دیر تک مدارس کے طلبا سے مخاطب رہے، اور غالباً یہ پہلی مرتبہ ہے جب وہ اچانک کسی مدرسہ کا دورہ کرنے پہنچے۔

مدرسہ میں جب آر ایس ایس چیف بچوں سے ملنے پہنچے تو ان کے ساتھ آر ایس ایس لیڈر اور مسلم راشٹریہ منچ کے سربراہ اندریش کمار بھی موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ آپسی محبت بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔ 70 سال سے تو لڑوا ہی رہے ہیں۔ جوڑنے والے لوگ طاقت سے لڑیں گے تو بانٹنے والے کمزور ہوں گے۔ ہندو-مسلم کرنا غلط ہے۔ موہن بھاگوت جی مسلمانوں سے پہلے ممبئی میں ملے، پھر 22 اگست کو کچھ مسلم دانشوروں سے ملے، پھر آج کا زیر غور دعوت نامہ تھا الیاسی جی کے یہاں سے اس لیے یہاں پہنچے۔‘‘

موہن بھاگوت کی مدارس کے طلبا سے ملاقات کے بارے میں اندریش کمار نے کہا کہ الیاسی کا باڑا ہندو راؤ کے پاس ایک مدرسہ ہے، وہاں بھی ہم گئے۔ بچوں سے پوچھا کیا پڑھتے ہو، کیا بنو گے؟ بچوں نے کہا کہ ڈاکٹر-انجینئر۔ بھاگوت جی نے کہا کہ صرف مذہبی تعلیم حاصل کر کے کیسے بنو گے؟ لیکن الیاسی جی جدید تعلیم کو لے کر بھی کام کر رہے ہیں۔ الیاسی جی نے بتایا کہ وہ سنسکرت کی بھی تعلیم مدرسہ میں دیں گے کیونکہ اس میں بہت علمی باتیں ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ موہن بھاگوت نے مدارس کے بچوں سے ’جئے ہند‘ کے نعرے بھی لگوائے۔ اس دورہ کے تعلق سے عمیر الیاسی کا بھی بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے بھاگوت کے اس دورے کو ’محبت کا پیغام‘ عام کرنے کی کوشش قرار دیا۔ ساتھ ہی انھوں نے مدارس کے سروے کے بارے میں بھی اپنی بات سامنے رکھی۔ انھوں نے مدارس کے سروے کو لے کر مولانا ارشد مدنی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جو سروے ہو رہا ہے وہ ٹھیک ہے۔ مدارس کا سروے ہو، جدید تعلیم دی جائے، یہ اچھی بات ہے۔

عمیر الیاسی نے کچھ ایسے بیانات بھی دیے جو ایک بڑے مسلم طبقہ کے لیے حیرت انگیز ہے۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ فتووں کی دنیا کو اب مسلمان مسترد کر رہے ہیں۔ اویسی، پی ایف آئی کو مسلم سماج خارج کر رہی ہے۔ اس دوران عمیر الیاسی نے پی ایف آئی جسی تنظیموں پر کارروائی کو مناسب ٹھہرایا اور آر ایس ایس کو ’محب وطن‘ تنظیم قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ پی ایف آئی تشدد کرتا ہے، توڑنے کا کام کرتا ہے، جب کہ آر ایس ایس سماج کو جوڑنے کا اور عوامی خدمت کے جذبہ سے کام کرتا ہے۔