• 425
    Shares

ظفر آغا
لیجیے، اب شاہ رخ خان نشانے پر ہیں۔ جی ہاں، وہی شاہ رخ خان جن کو بالی ووڈ کا ’بادشاہ‘ کہا جاتا ہے۔ اور انھوں نے اپنی شاندار اداکاری سے پچھلی تین دہائیوں میں کروڑوں ہندوستانیوں کو ہنسایا اور رلایا ہے۔ وہ اب بھی ہندوستانی ہندی سنیما کے سب سے مشہور اداکار ہی نہیں بلکہ غیر ممالک میں بھی ان کے کروڑوں پرستار ہیں۔ کہتے ہیں جیسے کبھی راج کپور سوویت یونین میں مشہور تھے، ویسے ہی جرمنی، ترکی اور نہ جانے کتنے بیرون ممالک میں ان کے پرستار ان کی اداکاری پر سر دھنتے ہیں۔ بھلے ہی وہ اپنی اداکاری کے فن سے ہندوستان اور دنیا بھر میں مشہور ہیں تو ہوا کریں، لیکن وہ مودی جی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہیں۔

شاہ رخ خان، سلمان خان کی طرح مودی جی کے ساتھ پتنگ اڑانے کو تیار نہیں۔ وہ آئے دن وزیر اعظم کے گن گان اپنی ٹوئٹ کے ذریعہ نہیں کرتے۔ ہاں، انھوں نے مودی جی کے ساتھ سیلفی ضرور کھنچوائی اور اس کو سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی کیا، لیکن مودی جی کے اقتدار میں آنے سے قبل ہی ان کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ سیاسی اعتبار سے ان کا جھکاؤ کانگریس کی جانب ہے۔ سب ہی واقف ہیں کہ وہ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سے کھل کر ملتے رہے ہیں۔ بس یہی شاہ رخ خان کا سب سے بڑا گناہ ہے۔ ان کے بیٹے اس وجہ سے گرفتار نہیں ہوئے کہ وہ ایک سمندری جہاز پر ڈرگ (غالباً چرس) لے رہے تھے۔ ان کا جرم تو یہ ہے کہ وہ شاہ رخ کے بیٹے ہیں اور ان کا باپ مودی جی کے آگے سجدہ ریز ہونے کو تیار نہیں ہے۔ اسی لیے آرین خان ابھی حراست میں ہے، اس کو ریا چکرورتی کی طرح ضمانت بھی نہیں مل رہی ہے اور ابھی آرین کب تک حراست یا جیل میں رہے، یہ کہنا مشکل ہے۔ لیکن آرین خان پہلے شخص نہیں جن کا تعلق بالی ووڈ سے ہے اور ان کو ڈرگ معاملے میں یہ سب کچھ جھیلنا پڑ رہا ہے۔ سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد سے اور بہت سارے اسٹار بھی اس معاملے میں گرفتار ہوئے یا ان کو سوال جواب کے لیے طلب کیا گیا۔ ٹی وی پروگراموں کے ذریعہ بالی ووڈ کی امیج کچھ ایسی بنا دی گئی گویا ہندی سنیما جگت گنجوڑیوں بھنگوڑیوں کا ایک اڈہ ہے۔ تب ہی تو کبھی ریا چکرورتی تو کبھی بھارتی سنگھ اور اب آرین خان کے ذریعہ شاہ رخ کا نام ڈرگ سے جوڑا جا رہا ہے۔

لیکن بالی ووڈ کے بڑے چھوٹے اداکاروں کو ڈرگ سے جوڑ کر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ محض چند اداکاروں کو بدنام کرنے کا ہی معاملہ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ایک بڑا سیاسی مقصد بھی ہے۔ دراصل بالی ووڈ ابھی تک ہندوستان کا سب سے سیکولر پلیٹ فارم ہے۔ تب ہی تو شاہ رخ، سلمان اور عامر جیسے خانوں کی تگڑی بالی ووڈ میں عرصے سے راج کر رہی ہے۔ بھلا اس ہندوتوا سیاست کے دور میں ابھی بھی یہ کیسے اور کیوں ہو رہا ہے۔ تب ہی تو کبھی شاہ رخ، کبھی دیپکا پادوکون، کبھی ریاچکرورتی تو کبھی جاوید اختر جیسوں کو سرکاری نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس طرح بالی ووڈ فلموں میں پیسہ لگانے والوں کو یہ اشارہ کیا جا رہا ہے کہ اگر شاہ رخ اور دیپکا پادوکون جیسے سیکولر مزاج اداکاروں پر پیسہ لگایا تو تمھاری بھی خیر نہیں۔ یعنی بالی ووڈ کے ذریعہ جو ابھی تک ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور ہندو مسلم اتحاد کا شور رہتا تھا، وہ ختم ہو اور ہندوتوا نظریہ کی ہی فلمیں بنیں جو لوگوں کا ذہن ہندوتوا کی طرف مائل رکھیں۔ پھر دوسرا مقصد چناؤ میں ٹی وی پروگراموں کے ذریعہ ہندوتوا سیاست کا ماحول گرم رکھا جا سکے۔ راجپوت معاملہ بہار چناوی ہنگامے تک ابلتا رہا، اب آرین معاملہ کون جانے چند ماہ بعد اتر پردیش چناؤ تک ٹی وی کی زینت بنا رہے۔ لب و لباب یہ کہ آرین تو ایک بہانہ ہے، اصل نشانہ شاہ رخ ہے۔

لکھیم پور کھیری: آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا!
اتر پردیش میں ابھی حال میں جو کچھ ہوا، وہ تو ہونا ہی تھا۔ کیونکہ ضلع لکھیم پور کھیری میں پچھلے ہفتے جو واقعہ پیش آیا وہی ہندوتوا سیاست کا اصل رنگ روپ ہے۔ لیکن لکھیم پور کھیری میں کیا ہوا، اس کی یاد دہانی ضروری ہے۔ وہاں پیش آنے والے واقعات کا سلسلہ کچھ یوں تھا کہ وہاں کسان ایک عرصے سے کسانی قانون کے خلاف احتجاج چلا رہے تھے۔ اسی بیچ وہاں سے منتخب ممبر پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی نے ایک جلسے کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔ اس جلسے سے قبل انھوں نے ضلع میں ایک میٹنگ بلائی اور اس میں لکھیم پور کے کسانوں کو یہ وارننگ دی کہ ’’سدھر جاؤ ورنہ سدھار دیے جاؤ گے۔‘‘ آپ نے بھی ان کی اس تقریر کا ویڈیو دیکھا ہوگا جو خوب وائرل ہوا۔ اس دھمکی کا سبب یہ تھا کہ مشرا جی یعنی منتری جی ضلع کے ایک گاؤں میں کشتی دنگل کا پروگرام کر رہے تھے جس میں شرکت کے لیے اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشور پرساد موریہ وہاں تشریف لانے والے تھے۔ کسانوں کو جب یہ پتہ چلا تو انھوں نے بھی یہ اعلان کر دیا کہ وہ موریہ جی کو کالے جھنڈے دکھائیں گے۔ اور ہوا بھی بس کچھ یوں ہی۔ بس اس کے بعد کسانوں پر وہ قہر ٹوٹ پڑا جس کا ویڈیو آپ نے دیکھا ہی ہوگا۔ چار ایس یو وی گاڑیاں جن میں سے ایک خود ان کی تھی، وہ کسانوں پر چڑھا کر ان کو کچل دیا گیا۔ منتری جی کے بیٹے پر یہ الزام ہے کہ انھوں نے بھی کسانوں پر گاڑی چڑھائی اور اس کے بعد فرار ہو گئے۔ بس کسانوں کا بھی غصہ پھوٹ پڑا جنھوں نے بی جے پی کارکنان پر دھاوا بول دیا، جس میں تین بی جے پی ورکر اور ایک صحافی مارا گیا۔

اس اکیسویں صدی اور وہ بھی ایک جمہوری نظام میں معصوم انسانوں کو کچل کار مر دیا جائے، یہ حیرت ناک ہی نہیں بلکہ شرمناک واقعہ ہے۔ کیونکہ اس قسم کے واقعات راجے-رجواڑوں کے دور میں ہوا کرتے تھے، جب کہ غریب کسانوں کو غلام سمجھا جاتا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس واقعہ کے فوراً بعد حزب مخالف کے اہم لیڈران احتجاجاً لکھیم پور کھیری کے لیے دوڑ پڑے۔ پرینکا گاندھی، راہل گاندھی، اکھلیش یادو، جینت چودھری سب ہی چل پڑے۔ کچھ کو تو لکھنؤ میں ہی روک دیا گیا، لیکن پرینکا گاندھی رات میں ہی لکھیم پور کھیری سے بہت نزدیک سیتاپور تک پہنچ گئیں۔ بس یوگی حکومت نے ان کو وہیں قید کر نظربند کر دیا۔ پھر یہ اعلان کیا کہ پرینکا کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مگر جیسا پرینکا گاندھی نے اعلان کیا کہ ان کو ایف آئی آر کی کاپی تک نہیں دی گئی۔ حد تو یہ ہے کہ ان کے وکیل کو ان سے ملنے بھی نہیں دیا گیا۔

آپ یہ سوال کریں گے کہ ان باتوں کا ہندوتوا سیاست سے کیا لینا دینا۔ جناب اس پورے واقعہ سے دو اہم سیاسی نکات ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اگر عوام اپنے جمہوری حقوق کا استعمال کر حکومت کے خلاف احتجاج کریں گے تو ان کو لکھیم پور کھیری کے کسانوں کی طرح ’سدھار‘ دیا جائے گا۔ اس کے دوسرے معنی یہ ہوئے کہ عوام کو بی جے پی حکومت میں احتجاج کا کوئی حق ہے ہی نہیں۔ یہ جمہوریت کا قتل نہیں تو پھر اور کیا ہے۔ بس جمہوری حقوق کے قتل کا ہی دوسرا نام ہندوتوا ہے۔ ہندوتوا نظریہ جمہوریت کا استعمال خود اپنی پارٹی کو اقتدار پر قابض ہونے کا ایک ذریعہ تو مانتی ہے۔ لیکن ایک بار بی جے پی جیسی ہندوتوا نظریہ کی پارٹی برسراقتدار آ گئی تو پھر وہ عوام کے تمام جمہوری حقوق کو صلب کرنے میں یقین رکھتی ہے۔ اور لکھیم پور کھیری میں یہی ہوا۔ اور اس واقعہ کے ذریعہ بی جے پی نے عوام کو یہ بھی اشارہ دے دیا کہ اگر کسی نے لکھیم پور کھیری کے کسانوں کی طرح پیش آنے کی کوشش کی تو ان کو سدھار دیا جائے گا۔ عوام تو عوام، ہندوتوا نظام میں حزب مخالف تک کو احتجاج کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ تب ہی تو پرینکا گاندھی سے لے کر نیچے تک ہر حزب مخالف لیڈر کو گرفتار یا نظر بند کر دیا گیا۔ وہ بھی ان کو کوئی ایف آئی آر تک کی کاپی بھی نہیں دی گئی۔ اور بس یہی ہے ہندوتوا سیاست۔ گودھرا میں جب ایک مسلم بھیڑ نے ایک ٹرین کے ڈبے کو جلا کر وشو ہندو پریشد کے کارکنان کو مار دیا تو پورے گجرات کے مسلمانوں کو سدھارنے کے لیے وہاں مسلم نسل کشی ہوئی، اور مودی جی نے یہ کہا کہ ’ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے‘۔ اسی طرح لکھیم پور کھیری میں کسانوں کو کچل کر یہ اعلان کر دیا کہ اگر کسی نے احتجاج کی جرأت کی تو اس کو لکھیم پور کھیری کی طرح سدھار دی اجائے گا۔ جناب لکھیم پور کھیری تو ایک ٹریلر ہے، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

اللہ ہی بچائے پاکستان سے
صاحب کبھی کبھی تو یہ شک ہوتا ہے کہ پاکستانی نظام درپردہ بی جے پی کا دشمن نہیں دوست زیادہ ہے۔ تب ہی تو جب جب چناؤ نزدیک ہوتے ہیں اور بی جے پی کی ناؤ منجدھار میں ہوتی ہے تب تب کشمیر میں کوئی ایسی حرکت پاکستان کرتا ہے جس سے بی جے پی چناؤ جیت جاتی ہے۔ سنہ 2019 میں عین لوک سبھا چناؤ کے وقت پاکستان نے آر پی ایف کے جوانوں کو مار کر مودی جی کی وہ مدد کی کہ چناؤ آرام سے جیت گئے۔ ادھر جب یو پی میں چناؤ سر پر ہیں تو پاکستانی دہشت گردوں نے کشمیر میں پانچ اقلیتی افراد کو مار کر پھر یو پی چناؤ میں مودی اور یوگی کو ہندو-مسلم منافرت کو سلگانے کا موقع دے دیا۔ دیکھیے کہیں لوک سبھا چناؤ کی طرح بی جے پی اس طرح منافرت کی سیاست کر کہیں یو پی کی ہاری بازی جیت نہ جائے۔ بس اللہ ہی بچائے پاکستان سے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔