انٹرویو کار:ڈاکٹرغضنفر اقبال

ڈاکٹر جاوید حسین پالوجی شارب کی ادبی جہتیں افسانہ،افسانچہ اور غزل ہیں۔ان کا مہانگر ممبئی کے اعلیٰ اورتجربہ کار اطباء میں شمار ہوتاہے۔ یہی سبب ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے افسانوں کی کتاب’’سہمتی سلگتی تعبیریں‘‘ میں علمِ نفسیات اورانسانی صحت کی تعبیر سے افسانے کا قاری متعارف ہوتاہے۔ پیش ہیں ڈاکٹر جاوید حسین پالوجی شارب کی باتیں رنگ رنگ۔(غ الف)
غضنفر اقبال : آپ کی اولین تخلیق کیا تھی اوراس کی اشاعت کے بعد آپ کا کیا احساس تھا؟
ڈاکٹر جاوید حسین پالوجی : میری اولین تخلیق ، ایک مذہبی مضمون تھا۔ یوم عاشورہ جو میں نے چھٹی کلاس میں لکھا تھا اور اسکول کے سالانہ رسالے میں ترتیب کے لحاظ سے پہلا تھا۔ اشاعت کے بعد بہت اچھا لگا اوریہ محسوس ہوا کہ اورئوں کی طرح میں بھی لکھ سکتا ہوں۔

غضنفر اقبال : آپ کے پسندیدہ فکشن رائٹرکون کون ہیں اور وہ آپ کو کیوں پسند ہیں؟
ڈاکٹر جاوید حسین : محترم، اگر بے باک کہوں تو میں نے کبھی کسی فکشن رائٹر کا ایک دوسرے سے موازنہ نہیں کیا، میں سوچتا ہوں ہر رائٹر کی سوچ اور مشاہدہ کرنے کی نظر الگ الگ ہوتی ہے۔ ایک ہی چیز کو دو لوگ الگ الگ نظریے سے دیکھتے ہیں۔دونوں کی آرا بھی مختلف ہوتی ہے، دونوں کے پرکھنے کا انداز بھی الگ ہوتا ہے۔ ویسے میں منشی پریم چند اورخواجہ احمد عباس کو پڑھنا پسند کرتا ہوں۔

غضنفراقبال: ’’بے ساختہ‘‘ آپ کے افسانچوں کا مجموعہ ہے۔ افسانچہ رقم کرتے وقت کن لوازمات کوملحوظ رکھنا ناگریز ہے؟
ڈاکٹر جاوید حسین : پہلی بات تو یہی ہے کہ افسانچہ کے معنی ہی مختصر کہانی ہے، پوری بات کو چند سطروں میں بڑی ہنر مندی سے ادا کرنا اس کی خاص خاصیت ہے۔ افسانچہ میں اکثر کچھ باتیں دو سطروں کے درمیان کہی جاتیں ہیں ان باتوں کو اس طرح کہنا کہ قاری آسانی سے سمجھ جائے اس ہنر اور خوبی کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔

غضنفر اقبال: کیا افسانچہ کی تعریف ممکن ہے؟
ڈاکٹر جاوید حسین : بالکل ممکن ہے، جب اور تخلیق کی ممکن ہے تو پھر افسانچہ اس حق سے کیسے خارج ہو سکتا ہے؟

غضنفراقبال: کیا واقعی جوگندر پال کی افسانچہ نگاری کے بعد افسانچہ نگار سنجیدہ ہیں یا افسانچے کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں؟
ڈاکٹر جاوید حسین : اس بارے میں کہنا زرا مشکل امر ہے۔ کچھ لوگ سنجیدہ ہوسکتے ہیں۔آج جو افسانچوں کا دور چل رہا ہے ان میں کئی تو سرے سے افسانچہ لگتے ہی نہیں۔کچھ پر کبھی نثر کا گمان ہوتا ہے تو کبھی انشا کا۔ افسانچہ نگار کسی نہ کسی واقعہ کو افسانچہ میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں اور نتیجہ……اصل مقصد سے بچھڑ جاتے ہیں۔میرے خیال میں افسانچہ کے ساتھ مذاق کرنا ادب کی بے حرمتی کرنے جیسا ہوگا۔

غضنفراقبال: ڈاکٹر صاحب ’’سہمتی سلگتی تعبیریں‘‘ آپ کا افسانوی مجموعہ ہے آپ کے نزدیک افسانے کی کیا معنویت ہے؟
ڈاکٹر جاوید حسین : میرے نزدیک افسانے صرف خالی وقت گذارنے یا پھر دل بہلانے کے لیے بالکل بھی نہیں ہیں۔ افسانے زندگی کی وہ سچائیاں بھی ہیں جنھیں بخوبی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ سبھی افسانے تصوراتی ہی ہوں، کبھی کچھ باتوں کوکسی چیز کی آڑ لے کر کہا جاتا ہے، ہوسکتا ہے یہی افسانوں کا روپ بھی ہو؟

غضنفراقبال: اردو افسانے کی روایت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
ڈاکٹر جاوید حسین : اردو افسانے اگرچہ آج کل میرے اپنے خیال کے مطابق افسانچوں کا روپ لے رہے ہیں، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ کبھی بھی افسانے کا چلن ختم ہوسکتا ہے؟ منشی پریم چند سے لے کرآج کے لکھنے والوں تک یہ روایت اپنی ڈگر پر برابر رواں ہے۔ یہ ضرور ہے کہ وقت کے ساتھ اور زندگی کی گہما گہمی نے جس طرح لوگوں کو شارٹ کٹ اپنانے پر مجبور کیا ہے افسانہ نگار بھی افسانے سے افسانچہ کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ بہرحال افسانے پر کبھی زوال نہیں آسکتا۔

غضنفر اقبال : افسانوی ادب کے لیے تحریکات اور رحجانات کی ضرورت ہوتی ہے؟
ڈاکٹر جاوید حسین : جی، تبھی تو آپ اچھا افسانہ تحریر کر پائوگے۔

غضنفراقبال: جدیدیت ایک بڑا ادبی رحجان تھا اس کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟
ڈاکٹر جاوید حسین : متفق تو ہوں، ہر دور میں ہر چیز نے کروٹ لی ہے، چاہے پھر وہ زبان ہو یا کچھ اور، لیکن آج ہماری زبان کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ،اردو والے دوسری زبانوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں اس بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ جدیدیت کے نام پر ہماری اپنی ہی زبان کو اپنے ہی لوگوں سے جونقصان پہنچ رہا ہے اسے اردو ادب کبھی معاف نہیں کر پاے گا۔

غضنفراقبال : ممبئی میں اردو افسانے کا کیا مستقبل ہے؟
ڈاکٹر جاوید حسین : ممبئی میں اردو افسانے کے مستقبل سے مایوس تو نہیں ہوا جاسکتا، نئی نسل نے اردو کی بجائے دوسری زبانوں کو اپنانا شروع کردیا ہے، جو پرانے لکھنے والے ہیں آج بھی اپنی ڈگر پر قائم ہیں، اگر آج ہمارے اسکولوں میں ایک مضمون اردو ضروری رکھا جائے تو شاید ہم آنے والے وقتوں میں اردو اپنی مادری زبان لکھ پائیں گے۔

غضنفراقبال: آپ نے شعبۂ شاعری کے صحرا میں پھول کھلایا ہے۔ کیا غزل اردو زبان وتہذیب کا دفاع کری گی؟
ڈاکٹر جاوید حسین : جب تک ادبی رحجان کا سوال ہے بالکل دفاع کرے گی۔

غضنفر اقبال: غزل کے لیے آپ خیال ضروری سمجھتے ہیں یا وزن؟
ڈاکٹر جاوید حسین : غزل کے لیے خیال کے ساتھ وزن کا ہونا ضروری ہے۔
غضنفراقبال: کیا ممبئی بڑے شعرا سے خالی ہوگیا؟
ڈاکٹر جاوید حسین : یہ بے معنی سی سوچ ہے، میں نہیں سمجھتا ممبئی کبھی شعرا سے خالی ہوسکتا ہے۔ ہاں زندگی کی مصروفیات نے تھوڑا بہت اثر ضرور ڈالا ہے۔ یہاں ایک بات کہنا چاہوں گاکہ ہم بڑے اور چھوٹے شعرا میں فرق کیسے کرتے ہیں؟

غضنفراقبال: مہاراشٹر میں غزل کی رفتار اور سمت کیا ہے؟
ڈاکٹر جاوید حسین : مہاراشٹر میں غزل کا مقام و سمت آج بھی حوصلہ مند ہے۔ نئے نئے لکھنے والے بھی منظر پر آرہے ہیں اور سننے والوں کا حلقہ بھی وسیع ہو رہا ہے۔ ابھی چند ماہ پہلے ایک گروہ جو مہاراشٹر کے الگ الگ مقام سے تعلق رکھتا ہے، کچھ کوکن کے شعرا جو گلف میں بستے ہیں ، باقاعدہ اپنا ایک واٹس ایپ گروپ بنا کر کوکنی میں شاعری شروع کر دی ہے۔ ویڈیو بھی آرہے ہیں اور کتابیں بھی۔

غضنفراقبال: اردو سوسائٹی کا تشخص بحال کرنے کے لیے کیا اقدامات کرنے ہوںگے؟
ڈاکٹر جاوید حسین : پہلی بات تو ہمیں اپنی زبان کے ساتھ ایمانداری سے جڑنا ہوگا، حقیقت میں انصاف کرنا ہوگا، آپ نے دیکھا ہوگا واٹس ایپ پر بڑے بڑے شاعر و ادیب بھی پیغامات، یہاں تک کہ اردو غزل کو بھی دیوناگری میں لکھتے ہیں یہ سب سے پہلے بند ہونا چاہے، اگر ہم اپنی زبان کا تحفظ نہیں کریں گے توکون کرے گا؟ آج جو حالات پیش آرہے ہیں وہ اسی وجہ سے ہیں کہ ہم نہ اپنی چیزوںکا دفاع کر رہے ہیں نہ اس پر عمل کر رہے ہیں۔ اگر ایسے ہی سب چلتا رہا توبڑے بڑے جلسے اور سیمینار کرنے سے وہ مقام نہیں حاصل ہوگا کیوںکہ جب تک عملی کام نہیں ہوگا کاغذی عمل سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔