او آئی سی ہنگامی اجلاس میں افغانستان پر موثر

0 4

قراردادیں منظور کرے،سعودی کابینہ کا ورچول اجلاس
ریاض: سعودی کابینہ نے صنعا میں امریکی سفارتخانے پر حوثی دہشت گردوں کے حملے اور کئی اہلکاروں کو حراست میں لینے کے واقعہ کی پھر مذمت کی ہے۔کابینہ کا ورچوئل اجلاس منگل کو شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صدارت میں منعقد ہوا ہے۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ ’عالمی برادری حوثیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کا سختی سے نوٹس لے‘۔ میڈیا کے مطابق کابینہ نے برادر اور دوست ممالک کے ساتھ سعودی عہدیداروں کی ملاقاتوں اور میٹنگوں میں زیر بحث آنے والے موضوعات کا جائزہ لیا۔کابینہ نے اسلامی دنیا اور روس حکمت عملی وژن گروپ کے جدہ اجلاس کے نام شاہ سلمان کے پیغام پر پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیغام میں سعودی عرب کے اس موقف کو اجاگر کیا گیا کہ عالمی امن و استحکام کا فروغ چاہتا ہے۔ مختلف تہذیبوں اور تمدنوں کے درمیان یکجہتی اور مکالمہ پر توجہ مرکوز کرنے کا خواہاں ہے۔وزیر مملکت و قائم مقام وزیر اطلاعات ڈاکٹرعصام بن سعد نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ سعودی کابینہ کے اجلاس میں خطہ کے حالات پر غور وخوض کیا گیا۔ سعودی کابینہ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ افغانستان کی انسانی صورتحال پر بحث کیلیے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس موثر قرار دادیں منظورکرے۔سعودی عرب نے او آئی سی کے موجود سربراہ کی حیثیت سے افغانستان کی انسانی صورتحال پر بحث کیلئے اجلاس طلب کیا ہے۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ افغان عوام کی انسانی مدد کا طریقہ کار طے ہو اور یہ کام اقوام متحدہ کے تعاون سے کیا جائے۔او آئی سی کا اجلاس افغانسان کے امن و استحکام، اس کی خودمختاری اور اتحاد و سالمیت کی اہمیت جاگر کرنے کا باعث بنے۔