ریاض : تیل پیدا اور برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم ’’اوپیک‘‘ اور ان کے اتحادیوں کا تیل کی پیدوار میں اضافے کے حوالے سے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو گیا۔گذشتہ ہفتے اوپیک پلس کے ممبران تیل کی پیدوار میں اضافے کے حوالے سے معاہدے میں توسیع پر کسی اتفاق رائے تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔روس اور سعودی عرب کے وزرائے توانائی سے مشاورت کے بعد اوپیک سیکرٹریٹ نے تمام ممبر ممالک کے وزرا کو پیر کے اجلاس کی منسوخی کے حوالے سے خط بھیجا ہے۔خط میں کہا گیا ہے اجلاس کے لیے نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔جمعہ کو اوپیک پلس گروپ کے ممبران نے خام تیل کی پیدوار میں 20 لاکھ بیرل ڈالر یومیہ اضافے کے حوالے سے رائے دی۔ اجلاس میں تیل کی پیداوار میں کٹوٹی کے موجودہ معاہدے کو 2022 کے آخر تک توسیع کی تجویز بھی دی گئی۔متحدہ عرب امارات نے تیل کی پیداوار میں اضافے سے اتفاق کیا تاہم موجودہ معاہدے میں 2022 تک توسیع کی مخالفت کی اور کہا کہ اسے اپنی پیداوار میں اضافے کی اجازت دی جائے۔تاہم دو روز تک جاری رہنے والے اجلاس میں پیداوار میں اضافے کے حوالے سے اتفاق رائے میں ناکامی سے احتتام ہفتہ تیل کی مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال رہیاتوار کو سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا تھا کہ تیل کی پیداوار کے حوالے سے معاہدے کو اپریل تک توسیع دینا ’موجودہ اوپیک پلس معاہدے کی بنیاد ہے نہ کہ اس کا کوئی جزو۔‘انہوں نے اپریل 2022 کو ختم ہونے کے بعد بھی تیل کی پیداوار کے معاہدے کو جاری رکھنے کے لیے اوپیک اور نان اوپیک ممالک کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں