!-- Auto Size ads-1 -->

ہندو مذہب کے تین خدا کے اہم روپوں میں سے ایک وشنو کا روپ ہے۔ وشنو جسے مورتی میں چار ہاتھوں والا دکھایا جاتا ہے۔ جس کے سیدھے ہاتھ میں تھالی ہوتی ہے۔ اور بایئں ہاتھ میں ناقوس یا سنکھ ہوتا ہے۔ اس کی بیوی کا نام لکشمی ہے۔ جسے دولت کی دیوی کہا جاتا ہے اور اس کے بیٹے کا نام کام دیو ہے۔

وشنو کے مندر میں آرتی کی جاتی یہ ہندو عبادت کی ایک رسم ہے۔ جس میں وشنو کی تعریف میں بھجن گایا جاتا ہے

وشنو کی تعریف میں پنڈت شاردا رام پھلوری پنجاب نے 1870 میں ایک دعائیہ گیت لکھا جو درج ذیل ہے۔

اوم جئے جگدیش ہرے

سوامی جئے جگدیش ہرے

بھکت جنوں کے سنکٹ

داس جنوں کے سنکٹ

لمحہ میں دور کرے

اوم جئے جگدیش ہرے

درج بالا گیت میں وشنو کو جگدیش یعنی دنیا کا بادشاہ اور سوامی یعنی مالک کہا گیا ہے۔ اور اس سے درخواست کی گئی اپنے بندوں اور عبادت کرنے والوں کی تکلیفوں اور غموں کو دور کرے۔ اسے سب کا پالنے والا اور پرورش کرنے والا(پالن کرتا) اور بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا مانا جاتا ہے۔

درج بالا صفات جو صرف اللہ میں پائی جاتی ہے۔

تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کارب ہے۔ (1:1)

جو رحمن اور رحیم ہے۔(1:2)
جو انسانوں کا بادشاہ ہے۔(114:2)
ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں(1:4)

تمام انسان اللہ کے بندے ہیں اور وہی انسانوں کی تکلیفوں اور غموں کو دور کرنے والاہے۔

اسلام غیراللہ کی عبادت کو (جس میں وشنو کی آرتی اور عبادت وغیرہ بھی شامل ہیں) شرک قرار دیتا ہے اور اس کی سزا ہمیشہ کی جہنم ہے۔

اللہ تعالی سے دعا ہیںکہ قومی یک جہتی کے نام پر شرکیہ اعمال وافعال سے ہمارے اداروں کی حفاظت فرمائے اور طلباء و طالبات اور معلمین ومعلمات کے ایمان کی حفاظت فرمائے آمین

حافظ محمد زبیر مفتاحی

8788299201