نئی دہلی: حکومت کے ایک اعلیٰ طبی ماہر ڈاکٹر جے پرکاش ملیل کا کہنا ہے کہ کورونا کا نیا ویرینٹ اومیکرون تقریباً ناقابل تسخیر ہے اور اس سے ہر ایک متاثر ہوگا۔ این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا اب کوئی خوفناک بیماری نہیں رہی، نئے اسٹرین کا اثر بہت ہلکا ہے اور بہت کم لوگوں کو اسپتال میں داخل کرانے کی نوبت آ رہی ہے۔آئی سی ایم آر کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایپی ڈیمیولاجی میں سائنٹیفک ایڈوائیزری کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر جے پرکاش ملیل نے کہا، ’’اومیکرون ایسی بیماری سے جس پر ہم قابو پا سکتے ہیں۔ ہم لوگوں میں سے بہت سے تو یہ بھی نہیں جان پائیں گے کہ وہ اس سے متاثر ہو گئے ہیں۔ ممکنہ طور پر 80 فیصد سے زیادہ افراد کو یہ معلوم بھی نہیں چلے گا کہ یہ انہیں کب لگا۔‘‘

ڈاکٹر ملیل نے مزید کہا کہ کسی بھی طبی ادارے نے بوسٹر ڈوز کا مشورہ نہیں دیا کیونکہ اس وبا کی فطرتی تاثیر کو روکنا صحیح نہیں ہے۔ غیر علامتی شخص کے قریبی رابطے کے ٹیسٹ کے خلاف رائے دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وائرس کا انفیکشن صرف دو دن میں دوگنا ہو رہا ہے، اس لیے جب تک ٹیسٹ اس کی موجودگی ظاہر کرے گا، اس سے پہلے شخص کئی لوگوں کو متاثر کر چکا ہوگا۔ انہوں نے کہا، لہذا جب آپ ٹیسٹ کراتے ہیں تو آپ کافی ‘پیچھے’ ہوتے ہیں اور اس سے وبا کے پھیلاؤ میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

سخت لاک ڈاؤن کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ ہم مدت طویل تک گھر میں بند نہیں رہے سکتے، اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اومیکرون کا اثر ڈیلٹا ویرینٹ کے مقابلہ بہت ہلکا ہے۔ ڈاکٹر ملیل نے کہا کہ جب تک ملک میں ویکسین آئی اس سے پہلے ہی تقریباً 85 فیصد ہندوستانی متاثر ہو گئے تھے۔ ایسے میں ویکسین کی پہلی خوراک، پہلی بوسٹر ڈوز کی طرح تھی کیونکہ بیشتر ہندوستانیوں میں قدرتی قوت مدافعت موجود تھے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں