• 425
    Shares

انڈیا کے وزیر داخلہ اور حکمراں جماعت بی جے پی کے مرکزی رہنما امت شاہ کا وزیر اعظم نریندر مودی کو ’انڈیا کا آج تک کے سب سے بڑا جمہوریت پسند رہنما‘ کہنا لوگوں کو پسند آیا یا نہیں لیکن اس حوالے سے سوشل میڈیا پر لطائف کی ایک جھڑی سی لگ گئی ہے۔

اور اس کے پس پشت سابق ٹینس لیجنڈ مارٹینا نورا ٹیلووا رہیں جنھوں نے اس بیان کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے موضوع بحث بنا دیا۔

امریکی سابق ٹینس سٹار مارٹینا نوراٹیلووا نے ہندوستان ٹائمز کی اس کے متعلق ایک خبر کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ‘اور میرے اگلے لطیفے کے لیے۔۔۔’ اور اس کے ساتھ انھوں نے دو ایموجی کا استعمال کیا۔ پہلا ایموجی حیرت و استعجاب کی علامت ہے جبکہ دوسری جوکر کی۔

عام طور پر سٹینڈ اپ کامیڈین جب اپنا سب سے اہم لطیفہ یا لطیفے کا حصہ سناتے ہیں تو اس سے پہلے اس قسم کا ‘اینڈ فار مائی نیکسٹ جوک’ فقرہ کستے ہیں۔

اس خبر میں امت شاہ نے وزیر اعظم مودی کے متعلق کہا ہے کہ ‘وزیر اعظم نریندر مودی ڈکٹیٹر نہیں ہیں، بلکہ آج تک انڈیا نے ان سے زیادہ جمہوریت پسند لیڈر کبھی نہیں دیکھا۔’امت شاہ نے یہ باتیں سنسد (پارلیمنٹ) ٹی وی پر مودی کے 20 سالہ عوامی کیریئر پر بولتے ہوئے ایک انٹرویو میں کہیں۔

بہر حال تین دہائیوں تک ٹینس کی دنیا پر راج کرنے والی مارٹینا نوراٹیلووا اس سے قبل بھی انڈیا کے متعلق ٹویٹ کر چکی ہیں۔ سنہ 2016 میں انھوں نے نیویارک ٹائمز کی خبر کو ٹویٹ کرتے ہوئے انڈیا کے معروف ادارے جے این یو میں بعض طلبہ پر غداری کے الزامات پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ‘بلوئنگ ایٹ بیسٹ’ یعنی ‘ہراساں کرنے کی بہترین مثال’ قرار دیا تھا جبکہ گذشتہ سال انڈین وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ٹرمپ کو بھی اپنے ایک ٹویٹ میں نشانہ بنایا تھا۔

مارٹینا کا تازہ ٹویٹ اور اس پر رد عمل
بہت سے صارفین نے جہاں نوراٹیلووا کا شکریہ ادا کیا وہیں بہت سے لوگوں نے انھیں متنبہ کیا کہ انھیں بھی اداکارہ ریحانہ کی طرح ٹرول کا سامنا ہو سکتا ہے۔ خیال رہے کہ امریکی گلوکارہ اور اداکارہ ریحانہ نے انڈیا میں جاری کسان تحریک کی حمایت میں ٹویٹ کیا تھا۔

اے ایف پی کے صحافی عزیر رضوی نے مارٹینا کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا: ‘مارٹینا اب انڈیا کے دائیں بازو کا نشانہ بنیں گی۔ وہ اب غیر ملکی مشہور شخصیات کی فہرست میں آ گئی ہیں جنھیں انڈیا اور امریکہ میں دائیں بازو کی جانب سے ٹرول کا سامنا ہوتا ہے۔ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ کچھ ایسا ہی یا کچھ مختلف؟’

اس کے جواب میں مارٹینا نے لکھا: ‘یہاں بھی بالکل ویسا ہی دائیں بازو کے ٹرولز کی طرح ہے۔ میرے خیال سے یہ سب ایک ہی سکول میں جاتے ہیں۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔’

مارٹینا کے ٹویٹ کے جواب میں سدھیر بھاٹیا نامی ایک شخص نے لکھا کہ ‘کاموں میں فنا ایک ایسے شخص کے بارے میں آپ کیا جانتی ہیں جس نے گذشتہ 21 برسوں میں کبھی ایک دن کی چھٹی بھی نہ لی ہو اور کبھی بیمار بھی نہ پڑا ہو؟’

یہاں یہ امتیاز کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ بھی طنز کر رہے ہیں یا پھر وزیر اعظم مودی کی تعریف یا بات کچھ اور ہے۔

جبکہ اینگمیٹک مائنڈ نامی صارف نے ایک ہی شخص کی چار تصاویر مختلف انداز میں ڈال کر میم کے طور پر شیئر کیا اور لکھا کہ ‘ابھی آئی ٹی سیل۔۔۔’ یعنی ابھی بی جے پی کا آئی ٹی سیل یہ پتا لگانے کی کوشش کرہا ہے کہ آیا مارٹینا کے والدین مسلم تو نہیں؟ آیا اسے پاکستان سے فنڈ تو نہیں کیا جارہا ہے؟ قوم کے خلاف کوئی بیان تو نہیں دیا؟ مارٹینا کا کوئی ہندو مخالف بیان۔’

ملومک1 نامی ایک صارف نے لکھا کہ ‘مارٹینا نوراٹیلووا نے مودی کے خلاف ایک ایس ماری ہے۔ چیپیئن تو چیمپیئن ہی ہوتا ہے۔’

تینڈولکر اور کوہلی بھی نشانہ بنے

بہت سے صارفین نے لکھا کہ مارٹینا نے درست کہا لیکن کیا اب ‘مودی بھکت’ اسے انڈیا کے اندرونی معاملے میں مداخلت نہیں کہیں گے۔

ایک صارف نے نوراٹیلووا، مودی اور امت شاہ کی تصاویر ڈال کر لکھا کہ اسے کہتے ہیں ‘بین الاقوامی قدر شناسی’۔

جبکہ انڈیا کے معروف سیاست داں اور کانگریس رہنما دگ وجے سنگھ نے لکھا: ‘مودی جی مبارک ہو۔ اب آپ اپنے ‘جمہوری’ اقدار کے لیے عالمی سطح پر مشہور ہیں! شکریہ مارٹینا۔ آپ کے چبھتے ہوئے طنز کے لیے۔’

واضح رہے کہ انڈیا میں مودی کے حمایتی انھیں عالمی سطح پر انڈیا کا نام بلند کرنے والے اور مقبول ترین رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

چنانچہ اسی سلسلے میں گذشتہ دنوں جب وہ امریکہ کے دورے پر تھے تو نیویارک ٹائمز کے سرورق کی ایک فیک تصویر شیئر کی گئی جس میں انھیں دنیا کا مقبول ترین رہنما بتانے کی کوشش کی گئی لیکن اس کا بہت زیادہ مذاق اڑایا گیا۔

بہت سے صارفین نے نوراٹیلووا کے ٹویٹ کے بہانے سچن تنڈولکر اور وراٹ کوہلی کا بھی ذکر کیا۔ صحافی سواتی چترویدی نے لکھا: ‘ہوشیار ڈاکٹر جے شنکر (انڈیا کے وزیر خارجہ) سچن تینڈولکر اور وراٹ کوہلی کو جگائیں۔۔ اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔’

اسی طرح ستیش بی نامی ایک صارف نے لکھا: ‘مجھے انتظار ہے کہ کب تینڈولکر اور کوہلی مارٹینا کو بتائیں گے کہ یہ انڈیا کا ‘اندرونی معاملہ’ ہے اور کسی باہری کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔’

خیال رہے کہ ریحانہ کے کسان کی بات کرنے والے ٹویٹ کے جواب میں تینڈولکر اور کوہلی کے علاوہ اداکارہ کنگنا راناوت اور اداکار اکشے کمار نے اسے ‘انڈیا کا اندرونی معاملہ’ کہا تھا۔ٹویٹر پر صارفین کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جن کا کہنا ہے کہ نوراٹیلووا انڈیا کے بارے میں کچھ نہیں جانتیں۔ اس لیے وہ ‘خود مذاق’ ہیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔