اورنگ آباد:15نومبر۔(ورق تازہ نیوز)وارثان حرف وقلم اورنگ آباد کے زیراہتمام منعقدہ ”میرا صحافتی سفر“ پروگرام میں مراٹھواڑہ کے سینئرصحافی اورروزنامہ ورق تازہ ناندیڑ کے مدیراعلی محمدتقی کی 40سالہ صحافتی خدمات کے اعتراف میں انھیںاعزاز سے نوازاگیا ۔ ان کی شال پوشی گلپوشی کی گئی اورتحفہ پیش کیاگیا ۔ معروف فکشن نگار نورالحسنین کے جشن کے ضمن میں 14نومبر2021 بروز اتوار کودوپہر مولانا آزاد ریسرچ سنٹر ‘ مجنوںہل اورنگ آباد میں معمرصحافی اورموظف سرکاری آفیسر یونس عالم صدیقی کی صدارت میں یہ پُروقار پروگرام منعقد ہوا ۔ اس موقع پر صاحب جشن نورالحسنین بھی موجودتھے ۔

جشن نورالحسنین تقاریب کےروح رواں خالد سیف الدین نے ابتدائ میں جشن اورپروگرام کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آج کاپروگرام جس کاعنوان ٗمیراصحافتی سفر ٗ ہے دراصل اس پروگرام کے ذریعہ مراٹھواڑہ کے اردو اخبارات کے صحافیوں کو ایکجا کرنا تھا ۔اور ان کی صحافتی خدمات کااعتراف کرتے ہوئے انھیں اعزازسے نوازنا تھا ۔ محمدتقی نے اپنے خیالات کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ انھوںں نے 1981ءمیںروزنامہ ”اورنگ آبادٹائمز“ کے نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے اپنے صحافتی سفرکاآغاز کیاتھا ۔وہ خودکو خوش نصیب سمجھتے ہیں کہ اس سفر میں اورنگ آباد ٹائمز کے مدیراعلیٰ مرحوم عزیز خسرو اورنائب مدیر مرحوم قمراقبال اُنکے رہبر رہے ہیں ۔

ا س طرح ان کا یہ سفر40 سال پر محیط ہے ۔محمدتقی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ہم عصروں میں غضنفرجاوید ‘سعیدخاں زیدی ‘ تحسین احمدخاں ‘ حمید ملک وغیرہ تھے۔1982ءمیںانھوں نے مراٹھواڑہ کالج آف ایجوکیشن اورنگ آباد سے بی ۔ایڈ پاس کیاتوا ن کاتقرر تناگیری ضلع کے ایک ہائی اسکول میںہواتھا پھر وہاں سے ان کاتقرر پربھنی کے جونیئر کالج آف ایجوکیشن میںہوا ۔یہ 1986 کی بات ہے ۔پھر انھوں نے 1994ءمیں ملازمت سے استعفیٰ دے دیااور پربھنی سے اپنے دوستوں کے تعاون سے اردو روزنامہ ”ورق تازہ“ جاری یا۔پھر 2006ءمیں ناندیڑ سے اخبار کا ایڈیشن جاری کیا ۔آج دونوں اخبار پابندی سے نکل رہے ہیں۔ یہ دور ارد و اخبارات کے لئئے بڑا مشکل دور تھا ۔ پیشہ وارانہ‘تکنیکی اورمالی مسائل کافی تھے اس کے باوجود وہ ثابت قدمی سے اخبار نکالتے رہے ۔کبھی زرد صحافت نہیں کی۔ جودیکھا‘سنااُسے لکھا ۔ انھوں نے ممتاز راشدکا ایک خوبصورت شعر پڑھا ۔
ہم تو جدت کے بھی قائل ہیں مگرکیا کیجئے
ہم سے ممکن ہی نہیں جھوٹ کو سایہ لکھیں
محمدتقی نے کہاکہ کئی مصائب ‘آلام اور مالی بحران کے باوجود صحت مند وتعمیری صحاف کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ۔پھر حالات بدلے‘اچھے دن آئے۔انھوں نے پُراعتماد لہجے میں کہا کہ وہ آج ایک کامیاب صحافی ہیں۔ اردو عوام نے اُن کا ہمیشہ ساتھ دیا۔انھیںعزت ‘شہرت اور وقار صحافت کے باعث ہی ملے ہیں۔ یہ اللہ ر ب العزت کابڑا کرم ہے ۔انھوں نے کہا کہ سرکاری ملازمت ہو یا خانگی اداروں کی ملازمت ایک عمر کوپہونچنے کے بعد ملازمین خدمات سے سبکدوش کردئےے جاتے ہیں۔لیکن صحافت کا پیشہ ہی ایک ایسا پیشہ ہے جہاں سبکدو شی نہیںہے ۔صحافی کو اپنی آخری سانس تک خدمت کرنی پڑتی ہے۔محمدتقی نے آخر میں وارثان ِ حرف و قلم ‘کڈس آئی ٹی ورلڈایجوکیشن سوسائٹی و مسلم گریجویٹس فورم مہاراشٹر کے ذمہ داران کاتہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔پروگرام کی کاروائی ابوبکر رہبر نے بحسن و خوبی چلائی ۔ اس پروگرام میں شعیب خسرو (مدیراعلیٰ اورنگ آباد ٹائمز)‘شارق نقشبندی (مدیراعلیٰ ایشیاءایکسپریس) ‘ نایاب انصاری (مدیر ہندوستان ) ‘سینئر صحافی غضنفرجاوید‘حمید ملک‘سعیدخاں فریدی‘ نواب پٹیل‘اظہرشکیل اوردیگر صحافیوں کو بھی اعزازسے نوازاگیا ۔ پروگرام میں بڑی تعداد میں خواتین و حضرات نے شرکت کی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔