اورنگ آباد پولیس نے رات دیر گئے کرناٹک کی حجاب گرل بی بی مسکان خان کے اعزاز میں شہر کے عام خاص میدان میں ونچت بہوجن اگھاڑی اور مسلم اتحاد فرنٹ کے مشترکہ طور پر منعقدہ ایک شاندار استقبالیہ جلسہ کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ اتوار کی رات دیر گئے، پولیس نے منتظمین کو اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے ایک خط جاری کیا۔ بعد ازاں آج وی بی اے صدر پرکاش امبیڈکر نے اورنگ آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس معاملہ پر تبصرہ کرتے ہوئے مہاراشٹر حکومت پر جم کر تنقید کی۔

اورنگ آباد، 14 مارچ (ایجنسیز) کرناٹک میں حجاب کے حامی مظاہروں کے دوران مشہور ہونے والی مسکان خان کو اورنگ آباد میں منعقدہ ایک تہنیتی جلسہ میں شرکت سے انکار کے بعد ونچیت بہوجن اگھاڈی نے بمبئی ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے۔ اس طرح کی معلومات وی بی اے لیڈر پرکاش امبیڈکر نے پیر کو میڈیا کو دی۔

امبیڈکر نے نامہ نگاروں کو بتایا، "اگرچہ پولیس نے ہمیں اورنگ آباد میں بی بی مسکان خان کے اعزازی جلسہ کو اجازت دینے سے انکار کر دیا، لیکن ہم امید کر رہے ہیں کہ 22 مارچ کو ہائی کورٹ انصاف کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سنائے گا اور ہم اسکی تعظیم کریں گے۔”

انہوں نے کہا کہ ونچیت بہوجن اگھاڑی اور مسلم اتحاد فرنٹ اورنگ آباد میں مسکان خان اور ان کے خاندان کے افراد کو مبارکباد دینا چاہتے تھے لیکن پولیس نے ہمیں اجازت نہیں دی۔

امبیڈکر نے کہا، "پولیس کی طرف سے اجازت دینے سے انکار کرنے کے بعد وی بی اے نے بمبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔”

اورنگ آباد پولیس مسکان کے گھر گئی

"میں سمجھتا تھا کہ مہاراشٹر حکومت سیکولر ہے، لیکن انہوں نے ظاہر کیا کہ اس نے سیکولرازم چھوڑ دیا ہے۔ میں نے کمشنر سے ذاتی طور پر بات کی تھی، جنہوں نے کہا کہ انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے ہمیں اجازت بھی دے دی، لیکن کل پولیس نے اچانک کردار تبدیل کر دیا اور ہمیں اجازت نہ دینے کا خط دیا۔ اس کے علاوہ اورنگ آباد کی کچھ پولیس میسور میں مسکان کے گھر گئی اور اسے آرٹیکل 144 سے ڈرا دھمکا کر سے اورنگ آباد پروگرام میں نہ جانے کو کہا۔ یہ پہلا موقع ہے جب پولیس نے کسی سے کہا ہے کہ کسی کے گھر نہ جائیں اور استقبالیہ پر نہ آئیں،’

انہوں نے کہا کہ پولیس کو 22 مارچ تک ہائی کورٹ میں اپنا موقف پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

کرناٹک کی ایک طالبہ مسکان خان پورے ہندوستان میں حجاب کے حامی مظاہروں کا چہرہ بن گئی۔ وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں، وہ نعرہ تکبیر لگاتے ہوئے دیکھی گئی تھی جب زعفرانی لباس میں ملبوس طالب علموں کے ایک گروپ نے حجاب پہننے کی وجہ سے ان کا راستہ روکنے اور ڈرانے کی کوشش کی تھی۔