اورنگ آباد:ملک گیر شہرت یافتہ فکشن نگار نورالحسنین کے جشن کے اختتامی اجلاس کی تیاریاں جاری

139

اورنگ آباد:13ڈسمبر(ورق تازہ نیوز) وارثان حرف و قلم و اٹس ایپ گروپ کی ایک اہم میٹنگ 12ڈسمبر کی شب منعقد ہوئی ۔ جس میں جشن نور الحسنین کے اختتامی اجلاس کی تفصیلات طئے کی گئیں۔ اجلاس میں بہ اتفاق رائے طئے پایا کہ اختتامی اجلاس میں شردپوار صاحب کو مدعو کیا جائے۔ ان کے علاوہ پی اے انعامدار، ظہیر قاضی، کمار کیتکر اور حسن کمال کے علاوہ دو یونیورسٹیوں کے چانسلر اور دو یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کو اس اختتامی اجلاس میں بحیثیت مہمان خصوصی مدعو کیا جائے۔ یہ اجلاس ایم جی ایم یونیورسٹی کے رکمنی ہال میں منعقد ہوگا۔

جبکہ اجلاس کے انعقاد کے لئے جنوری23ء کے تیسرے ہفتہ کی تاریخوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ میٹینگ سابق انکم ٹیکس آفیسر غوث محی الدین کی صدارت میں جشن نور الحسنین کمیٹی کے صدر شیخ ظہور خالد کے دفتر میں منعقد ہوئی۔ جس میں خالد سیف الدین نے جشن سے متعلق انکے ذہن میں موجود تفصیلی خاکہ پیش کیا۔ اس خاکہ پر غور و خوض اور گفتگو کرتے ہوئے اس میں ضروری مشورے شامل کئے گئے اور ضروری ترامیم کے بعد اس نشست کی تفصیلات جشن اور وارثان حرف و قلم کی سرپرست محترمہ فوزیہ خان کو روانہ کردی گئیں۔ ڈاکٹر شرف الدین صدر مدرس علامہ شبلی ہائی اسکول، شہزاد خان صدر مدرس معین العلوم ہائی اسکول اور سیدامجدالدین قادری کے ذمہ مختلف کام سونپے گئے۔

جبکہ شعیب صدیقی اور سمیر پٹھان کو مختلف ذمہ داریاں دی گئیں۔ اسی طرح کچہ کام خالد سیف الدین صاحب اور کچہ وصیل صاحب کے ذمہ کئے گئے اور کچہ ابوبکر رہبر کے ذمہ کئے گئے۔ نور الحسنین صاحب پر بنائی جانے والی ڈاکیومنٹری کے لئے نغمے لکھوانے کے لئے معروف شاعر خان شمیم صاحب اور ڈاکٹر سلیم محی الدین کے نام طئے کئے گئے۔ ان کے علاوہ اور بہت ساری باتیں طئے ہوئیں جن کا وقتاً فوقتاً اعلان کیا جائے گا۔ ایک اہم فیصلہ نور الحسنین صاحب کو کیسئہ زر دینے کا ہوا جو ایک لاکھ دس ہزار روپے پر مشتمل ہوگا۔ ان کے علاوہ مزید کچھ اعلانات بروقت کئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ اس اہم ترین نشست میں خالد سیف الدین صاحب، محمد وصیل صاحب، غوث محی الدین صاحب، ابوبکر رہبر، ڈاکٹر سلیم محی الدین، محمد اختر خان صاحب، سید کامل، ڈاکٹر شرف الدین، شہزاد خان، امجد قادری، شعیب صدیقی، سمیر خان کے علاوہ دیگر حضرات بہی موجود تھے۔

واضح ہو کہ ملک گیر سطح پر شہرت یافتہ افسانہ نگار اورناول نگار نورالحسنین کاجشن گزشتہ دو سالوں سے منایاجارہاتھا ۔ حال ہی جشن کے پروگراموں کااختتام عمل میں آیا۔ چونکہ نورالحسنین کاتعلق تاریخی ثقافتی اور ادبی شہر اورنگ آباد سے ہے اسلئے مراٹھواڑہ کے کئی شہروں جیسے ناندیڑ‘ بیڑ‘جالنہ وپربھنی میں مقامی احباب اور اردو دوستوں نے جشن کے ضمن میں سمینار ‘ مشاعرے ودیگر پروگرام منعقد کے جو بے حد کامیاب رہے۔ناندیڑ میں ادارہ روزنامہ ”ورق تازہ“ اورمدینتہ العلوم ایجوکیشن سوسائٹی کے باہمی اشتراک و تعاون سے نورالحسنین کے فن اور شخصیت پر سمینار رکھاگیاتھا ۔ اس موقع پر ”ورق تازہ“ نے نورالحسنین کی شخصیت ‘فن اور ادبی خدمات پرخصوصی سپلیمنٹ بھی شائع کیاتھا۔اس طرح مراٹھواڑہ کے اس سپوت کو تہہ دل سے خراج تحسین پیش کیاگیا۔ انکی عزت افزائی کی۔جنوری کے تیسرے ہفتہ میں اختتامی اجلاس ہورہا ہے جس کی تیاریاںشروع ہوچکی ہیں۔ خالد سیف الدین اور اُن کے رفقائے کار نے جشن نورالحسنین کوبڑی خوش اسلوبی اورکامیابی سے ہمکنار کیا۔انشاءاللہ اختتامی اجلاس بھی ایک نئی ادبی تاریخ رقم کرے گا۔