اورنگزیب کے سامنے جھکنے سے انکار کرنے والے گرو تیغ بہادر جن کی موت مغلوں کے زوال کا باعث بنی

1,116

11 اگست 1664 کو دہلی سے سکھوں کا ایک گروپ پنجاب کے گاؤں بکالا پہنچا۔ اپنی موت سے چھ ماہ قبل سکھ مذہب کے آٹھویں گرو ہرکشن نے اعلان کیا تھا کہ ان کا جانشین بکالا میں ملے گا۔بکالا میں سکھوں کا ایک خصوصی اجلاس بلایا گیا اور گرو کا رتبہ اور تخت تیغ بہادر کو سونپنے کا اعلان کیا گیا۔ ایک روایتی تقریب میں گرودیتا رندھاوا نے گرو کے ماتھے پر زعفران کا تلک لگایا، انھیں ایک ناریل اور پانچ پیسے پیش کیے اور انھیں گرو کے تخت پر بٹھایا۔

خشونت سنگھ لکھتے ہیں کہ ’گرو تیغ بہادر بکالا چھوڑ کر امرتسر چلے گئے، جہاں ہرمندر صاحب کے دروازے بند تھے۔ وہاں سے وہ اپنے والد کے بسائے ہوئے شہر کیرت پور چلے گئے۔ اس کے بعد انھوں نے کیرت پور سے پانچ کلومیٹر دور ایک نیا گاؤں آباد کیا، جس کا نام انھوں نے آنند پور رکھا۔‘

یہ جگہ اب آنند پور صاحب کے نام سے مشہور ہے، لیکن یہاں بھی ان کے دشمنوں نے انھیں سکون سے رہنے نہیں دیا۔

ْ
گرو تیغ بہادر 1621 میں پیدا ہوئے۔ وہ چھٹے سکھ گرو ہرگوبند کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ کچھ دن آنند پور میں رہنے کے بعد، گرو تیغ بہادر نے مشرقی ہندوستان جانے کا فیصلہ کیا۔ راستے میں انھیں الام خان کی سربراہی میں مغل فوجیوں نے گرفتار کیا اور دہلی لے گئے۔

مؤرخین اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ انھیں کیوں گرفتار کیا گیا تھا۔ خشونت سنگھ لکھتے ہیں کہ ’ایسا مغل دربار میں رہنے والے رام رائے کے اکسانے پر کیا گیا تھا۔ گرو تیغ بہادر پر نقصِ امن کا الزام تھا۔‘

مؤرخ فوجا سنگھ اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ رام رائے نے تب تک تیغ بہادر کو اپنا گرو مان لیا تھا اور ان کے لیے اس کے ذہن میں کوئی برے ارادے نہیں تھے۔
سربپریت سنگھ اپنی کتاب ’سٹوری آف سکھز‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ان کی گرفتاری کی وجوہات کچھ بھی ہوں، گرو تیغ بہادر کو گرفتار کر کے آٹھ نومبر 1665 کو دہلی لے جایا گیا۔ گرو تیغ بہادر کو مغل بادشاہ اورنگزیب کے سامنے پیش کیا گیا۔¬

گرو تیغ بہادر نے شہنشاہ اورنگزیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ہندو مذہب سے نہیں ہوں، میں ویدوں کی برتری، بتوں کی پوجا اور دیگر رسومات پر یقین نہیں رکھتا، لیکن میں ہندو مذہب اور ان کے مذہبی عقائد کا احترام کرتا ہوں اور ان کے ساتھ اچھے انداز سے رہوں گا۔ میں اپنے حقوق کے لیے لڑتا رہوں گا۔‘

لیکن گرو تیغ بہادر کے ان الفاظ کا مغل شہنشاہ اورنگزیب پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اورنگزیب کے دربار میں موجود بہت سے علما نے انھیں بتایا کہ گرو کا بڑھتا ہوا اثر اسلام کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔

ایک وقت میں اورنگزیب نے گرو تیغ بہادر کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس کے ایک راجپوت وزیر راجہ رام سنگھ نے انھیں زندہ چھوڑنے کی درخواست کی جسے اورنگزیب نے قبول کر لیا۔

ایک ماہ بعد، دسمبر میں، گرو تیغ بہادر کے خلاف تمام الزامات واپس لے لیے گئے اور انھیں رہا کر دیا گیا۔ جیسے ہی وہ رہا ہوئے، انھوں نے مشرق کی طرف اپنا سفر دوبارہ شروع کیا اور وہ متھرا، آگرہ، کانپور، الہ آباد، وارانسی، بودھ گیا سے ہوتے ہوئے پٹنہ پہنچے۔

وہاں گرو تیغ بہادر کی بیوی ماتا گجری نے قیام کا فیصلہ کیا لیکن گرو تیغ بہادر اپنے پیروکاروں سے ملنے ڈھاکہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ ڈھاکہ میں رہتے ہی انھیں خبر ملی کہ ان کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے جس کا نام گوبند رائے رکھا گیا جو بعد میں سکھ مذہب میں گرو گوبند سنگھ کے نام سے مشہور ہوئے۔

تین سال تک آسام میں رہے

اس دوران شہنشاہ اورنگزیب نے کامروپ کے بادشاہ کی بغاوت کو کچلنے کی ذمہ داری راجہ رام سنگھ کو سونپ دی۔ ان دنوں، کامروپ کو ایک خطرناک جگہ سمجھا جاتا تھا، جو اپنے بہادر جنگجوؤں اور ’کالے جادو‘ کے لیے مشہور تھی۔

راجہ رام سنگھ کو گرو تیغ بہادر کی روحانی طاقت پر مکمل اعتماد تھا۔ راجہ رام سنگھ نے گرو تیغ بہادر سے درخواست کی کہ وہ کامروپ کی مہم میں ان کا ساتھ دیں۔ گرو ان کی درخواست کو رد نہ کر سکے۔

سربپریت سنگھ لکھتے ہیں کہ ’لڑائی کے دوران گرو نے تقریباً تین سال آسام میں گزارے، اس دوران انھوں نے بعض اوقات ثالث کا کردار ادا کیا۔ واپسی پر وہ پٹنہ میں رہنے والی اپنی بیوی سے نہیں مل سکے کیونکہ انھیں مسلسل پیغامات مل رہے تھے کہ ان کی پنجاب میں ضرورت ہے۔ وہ مارچ 1672 میں چک نانکی کے تخت پر واپس آئے۔ ان کے سفر نے انھیں ان جگہوں تک پہنچایا جہاں گرو نانک کے علاوہ کوئی دوسرا سکھ گرو نہیں گیا تھا۔‘

کشمیر کے پنڈت

25 مئی 1675 کو جب گرو تیغ بہادر آنند پور صاحب میں ایک سنگت میں بیٹھے تھے، کشمیر سے لوگوں کا ایک گروہ ان سے ملنے آیا۔ اس گروہ کی قیادت پنڈت کرپا رام بیچ کر رہے تھے۔ انھوں نے ہاتھ جوڑ کر گرو سے کہا کہ ان کے آباؤ اجداد کا مذہب، جو ہزاروں سالوں سے چلا آ رہا ہے، خطرے میں ہے۔

شہنشاہ اورنگزیب کی نمائندگی کرنے والے کشمیر کے گورنر افتخار خان نے حکم دیا ہے کہ وہ اسلام قبول کر لیں ورنہ انھیں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔

گرو تیغ بہادر نے فوری طور پر کرپا رام کی درخواست کا جواب نہیں دیا، لیکن ان کی تکلیف سن کr وہ دل شکستہ ہو گئے۔ ہری رام گپتا گرو تیغ بہادر کی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ ’گرو نے کشمیر کے برہمنوں سے کہا کہ وہ شہنشاہ کے نمائندوں کو بتائیں کہ اگر گرو تیغ بہادر اسلام قبول کر لیتے ہیں، تو وہ اپنا مذہب بھی بدل لیں گے۔‘

ہری رام گپتا لکھتے ہیں کہ ’اورنگزیب نے اس بات پر اعتراض کیا کہ تمام سکھ گرو کو ’سچا بادشاہ‘ کہتے تھے۔ اورنگزیب نے اس کا مطلب یہ لیا کہ گرو یہ پروپیگنڈا کرنا چاہتا ہے کہ وہ سچا شہنشاہ ہے اور ہندوستان کا حکمران جعلی شہنشاہ ہے۔

اورنگزیب گرو کے نام کے ساتھ ’بہادر‘ استعمال کرنے سے بھی گریزاں تھے کیونکہ یہ نام مغل دربار میں موجود معززین کو لقب کے طور پر دیا جاتا تھا۔

مغل بادشاہ اورنگزیب نے حکم دیا کہ گرو تیغ بہادر کو دہلی میں اس کے سامنے پیش کیا جائے اور اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے ورنہ انھیں جان سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔
مغل شہنشاہ کا یہ حکم ملنے کے بعد گرو تیغ بہادر نے اپنے خاندان اور ساتھیوں کو الوداع کیا اور اعلان کیا کہ ان کے بعد ان کے بیٹے گوبند رائے کو اگلا گرو بنایا جائے گا۔ 11 جولائی 1675 کو گرو تیغ بہادر اپنے پانچ پیروکاروں بھائی متی داس، ان کے چھوٹے بھائی ستی داس، بھائی دیالا، بھائی جیتا اور بھائی ادے کے ساتھ دہلی روانہ ہوئے۔

تھوڑی دور چلنے کے بعد انھوں نے بھائی ادے اور بھائی جیتا کو مزید خبر لینے کے لیے دہلی بھیج دیا۔

ایک دن بعد، انھیں ملک پور کے گاؤں رنگھڑاں میں روپڑ تھانے کے حاکم مرزا نور محمد خان نے گرفتار کر لیا۔ روپڑ سے گرو اور ان کے تین ساتھیوں کو سخت پہرے میں سرہند لے جایا گیا۔ اس کے بعد انھیں دہلی کے چاندنی چوک تھانے بھیج دیا گیا۔

ان چار مہینوں کی قید کے دوران گرو اور ان کے تین ساتھیوں کو بہت اذیتیں دی گئیں۔

گرو تیغ بہادر کے سوانح نگار ہربنس سنگھ ویردی اپنی کتاب ’ہندوؤں اور ہندوستان کے نجات دہندہ گرو تیغ بہادر‘ میں لکھتے ہیں کہ ’دہلی میں گرو کو ان کے تین ساتھیوں کے ساتھ لال قلعہ لے جایا گیا۔ وہاں گرو سے ہندو اور سکھ مذہب پر بہت سے سوالات کیے گئے۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ مقدس دھاگہ پہننے اور ماتھے پر ٹیکا لگانے والوں کے لیے اپنی جان کیوں قربان کر رہے ہیں؟

گرو کا جواب تھا کہ ہندو کمزور ہو گئے ہیں اس لیے نانک کے دربار میں پناہ لینے آئے ہیں۔ اگر مسلمانوں نے بھی ان سے اس طرح مدد طلب کی ہوتی تو وہ بھی ان کے لیے اپنی جان قربان کر دیتے۔‘

ڈاکٹر ترلوچن سنگھ اپنی کتاب ’گرو تیغ بہادر پیغمبر اور شہید‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اورنگزیب صبح نو بجے دیوان عام میں داخل ہوا اور اپنی بالکونی میں پہنچا۔ اس نے سفید ریشم کا لباس پہن رکھا تھا۔جواہرات سے جڑا خنجر کمر کے گرد بندھا ہوا تھا، اُن کے سر پر سفید پگڑی تھی، شہنشاہ کے دونوں طرف کھڑے خواجہ سرا، یاک کی دم اور مور کے پنکھوں سے بنے پنکھے سے انھیں ہوا دے رہے تھے۔

شہنشاہ کو سکھ مت کے بارے میں پہلے سے ہی علم تھا۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ سکھ بھی مسلمانوں کی طرح بت پرستی کے خلاف ہیں۔ انھیں بہت امید تھی کہ وہ گرو کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کریں گے کیونکہ دونوں مذاہب کے درمیان نظریاتی قربت تھی۔

بادشاہ اورنگزیب نے گرو تیغ بہادر سے کہا کہ آپ نہ تو بت پرستی پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی ان برہمنوں کو مانتے ہیں تو آپ ان کا مقدمہ لے کر ہمارے سامنے کیوں آئے ہیں؟

گرو تیغ بہادر شہشناہ اورنگزیب کو مطمئن کرنے اور منانے میں ناکام رہے۔ آخر میں عدالت کی طرف سے صاف صاف کہہ دیا گیا کہ وہ اسلام قبول کر لیں یا مرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ گرو تیغ بہادر کو لوہے کے پنجرے میں ڈال کر زنجیروں سے باندھ دیا گیا۔

شہشناہ اورنگزیب نے کئی قاصد گرو تیغ بہادر کے پاس بھیجے لیکن گرو اپنی بات پر اڑے رہے۔ ایک دن جیل کے سربراہ نے آقا سے کہا کہ بادشاہ چاہتا ہے کہ تم اسلام قبول کر لو۔ اگر آپ کے لیے ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ، تاکہ انھیں اندازہ ہو جائے کہ آپ ایک مقدس آدمی ہیں۔

ہاربنس سنگھ ویرڈی لکھتے ہیں کہ ’گرو نے جواب دیا میرے دوست، معجزے کا مطلب خدا کا فضل اور احسان ہے۔ وہ جادو کو دنیا کے سامنے دکھانے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اگر اس کے فضل کو غلط استعمال کیا تو وہ ناراض ہو جائے گا۔ اسے ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ ہر روز معجزے ہمارے سامنے ہو رہے ہیں۔ کیا یہ کوئی معجزہ نہیں ہے کہ شہنشاہ دوسروں کو سزائے موت دے رہا ہے لیکن اسے اندازہ نہیں ہے کہ ایک دن اسے بھی مرنا ہے۔‘
جب یہ دیکھا گیا کہ گرو تیغ بہادر اپنا ارادہ نہیں بدلیں گے تو ان کے ساتھیوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ہری رام گپتا گرو تیغ بہادر کی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ ’بھائی متی داس کو گرو تیغ بہادر کے سامنے چاندنی چوک میں فوارے کے قریب جہاں آج کوتوالی ہے، آرے سے کاٹ کر قتل کیا گیا، اس کا ذکر سکھ مذہب کی روزانہ کی جانے والی عبادت میں ملتا ہے۔

بھائی متی داس نے اپنی موت سے قبل ہاتھ جوڑ کر گرو تیغ بہادر کا آشیرباد لیا تھا۔ ستی داس کو ابلتے ہوئے تیل میں زندہ پھینک دیا گیا تھا اور دیالا سنگھ کے جسم کو روئی سے لپیٹ کر ایک کھمبے سے باندھ کر زندہ آگ لگا دی گئی تھی۔

وہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے یہ سب کچھ دیکھا تھا، یہ سب کچھ گرو تیغ بہادر کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا اور وہ لگاتار واہے گرو کا نعرہ لگا رہے تھے۔

وہاں موجود گرو کے ایک اور بھگت جیتا داس نے رات میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں قریب سے بہنے والی جمنا ندی میں بہا دیں تھیں۔

آخری دن

جس دن انھیں موت کی سزا سنائی جانی تھی، گرو تیغ بہادر جلدی بیدار ہو گئے۔ انھوں نے کوتوالی کے قریب ایک کنویں پر غسل کیا اور اپنی مذہبی عبادت کی۔

گیارہ بجے جب انھیں پھانسی گھاٹ لے جایا گیا تو قاضی عبدالوہاب بورا نے انھیں فتویٰ پڑھ کر سنایا۔ جلاد جلال الدین تلوار لیے ان کے سامنے کھڑا تھا۔ اس وقت آسمان پر بادل چھا گئے اور وہاں موجود عینی شاہدین رونے لگے۔

گرو تیغ بہادر نے انھیں اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر برکت دی۔ جیسے ہی جلال الدین نے سکھ گرو تیغ بہادر کا سر قلم کیا، مجمعے میں خاموشی چھا گئی، جس جگہ گرو تیغ بہادر کو قتل کیا گیا، اسی جگہ بعد میں سس گنج گردوارہ بنایا گیا۔

بھگت جیتا داس گرو تیغ بہادر کا کٹا ہوا سر دہلی سے 340 کلومیٹر دور آنند پور لے گئے اور ان کے نو سالہ بیٹے گووند رائے کو دے دیا۔ آنند پور صاحب میں سیس گنج گردوارہ اس جگہ بنایا گیا تھا جہاں گرو تیغ بہادر کا کٹا ہوا سر احترام کے ساتھ دفن کیا گیا تھا۔

ایک اور شخص لکھی شاہ نے گرو تیغ بہادر کی آخری رسومات کوتوالی سے آٹھ کلومیٹر دور رکاب گنج میں ادا کیں۔ اسی جگہ ان کی یاد میں ایک گرودوارہ بھی بنایا گیا ہے۔

مغلوں کے زوال کا آغاز

گرو تیغ بہادر کی قربانی کے بعد بہت سے پنڈتوں نے سکھ مذہب اختیار کیا۔ کشمیری برہمنوں کی قیادت کرنے والے کرپا رام نے بھی سکھ مذہب اختیار کر لیا۔

سکھ سکالر گرومکھ سنگھ نے اپنی کتاب ’گرو تیغ بہادر دی ٹرو سٹوری‘ میں لکھا ہے کہ ’گرو تیغ بہادر کی اس قربانی کا زبردست اثر ہوا جس نے برصغیر کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ یہ سب سے بڑی مثال بن گئی اور یہاں سے ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کا زوال شروع ہوا تھا

مصنف,ریحان فضل ,بی بی سی نامہ نگار