Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

ان سچے ستاروں کی قدر کریں : از محی الدین غازی

IMG_20190630_195052.JPG

(میں نے جامعہ کے مظاہروں کے دوران آصف تنہا کی آواز اپنے کانوں سے سنی اور حیران رہ گیا، اس دبلے نوجوان کی آواز میں بہت طاقت ہے، اللہ اسے اور اس کے سب ساتھیوں کو اپنی امان میں رکھے، اس کی آواز میں امت کے روشن مستقبل کی نوید سنائی دیتی ہے۔)

لاک ڈاؤن کے دوران سرکاری ظلم کے خلاف احتجاج میں پیش پیش رہنے والے مسلم طلبہ اور طالبات کی گرفتاری کی خبریں سب کو بے چین کردینے والی ہیں۔کیوں کہ ان گرفتاریوں سے کروڑوں لوگوں کے باعزت جینے کے حق اور حوصلے کو کچلنے کے برے ارادوں کی بو آرہی ہے۔

مسلمانوں کو سنگین ترین خطروں سے دوچار کرنے والا شہریت ترمیم قانون (سی اے اے) بنا، اس قانون کی آڑ میں سیاسی کھیل کھیلنے کے لیے ملک کے آئین کو بری طرح مجروح اور پامال کیا گیا، مسلم طلبہ اور طالبات نے آگے بڑھ کر اس قانون کے خلاف آواز اٹھائی، ان پر پولیس نے بے رحمی سے لاٹھیاں برسائیں، آواز نہیں دبی تو مسلم کش فسادات کراکے مسلمانوں کو شدید جانی اور مالی نقصان پہونچایا گیا، اور پھر بڑی تعداد میں مسلم نوجوانوں کے خلاف ہی ایف آئی آر بھی درج کی گئی، اور اب انتہائی گراوٹ اور پستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کے مشکل حالات میں ان کی گرفتاری شروع کردی۔

ہندوستان کی جیلوں میں مسلمانوں کا تناسب کئی سالوں سے بہت زیادہ رہا ہے، سچر کمیٹی کی رپورٹ نے اس پر بہت پہلے تشویش کا اظہار کیا تھا، بعد میں بھی اس سلسلے کی تشویشناک رپورٹیں آتی رہی ہیں، کہ ملک میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے بہت کم ان کا تناسب تعلیم اور روزگار کے مواقع میں ہے، اور بہت زیادہ تناسب جیلوں میں ہے۔ لیکن ایک بات نوٹ کرنے کی ہے وہ یہ کہ اب تک جو مسلمان جیل میں تھے وہ یا تو کوئی جرم کرکے گئے تھے، یا انھیں جھوٹا الزام لگا کر جیل میں بند کردیا گیا تھا۔

تاہم اب جو طلبہ اور طالبات گرفتار ہوکر جیل جارہے ہیں وہ دوسرے قیدیوں سے بالکل مختلف ہیں، یہ وہ ہیں جن کا قصور یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ملک کی سالمیت اور اپنی قوم کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ یہ ملک اور ملت کے ہیرو ہیں، یہ اس دور کے ستارے ہیں، فلمی ستارے نہیں، حقیقی ستارے۔ ان کی قدر ضروری ہے، راتوں کو جاگ کر ان کے لیے دعائیں کرنا واجب ہے، انھوں نے جو آواز اٹھائی ہے اس کو دبنے نہیں دینا فرض ہے۔

جب ملک کے سیاسی حالات کچھ سازگار تھے تو بھاشن دینے والے بہت تھے، مگر وہ زیادہ تر آواز اٹھانے والے نہیں، اپنا سیاسی کاروبار چمکانے والے تھے، انھوں نے اپنی بھاشنوں کے دام وصول کیے، اور شانت ہوگئے، بعد میں جب حالات سخت ہوئے، مودی امت شاہ اور یوگی جیسے تاناشاہوں نے شکنجے کسے تو وہ سب اپنی اپنی دوکانوں سمیت غائب ہوگئے۔

اب دوکانیں چمکانے کا وقت ختم ہوا اور آواز اٹھانے کا وقت آگیا۔ ملت کو ان حالات میں ایسے جیالوں کی ضرورت تھی جو کسی لال پیلے جھنڈے تل آئے بغیر اخلاص کے ساتھ جان ہتھیلی پر رکھ کر آواز اٹھائیں۔ یہ کام آسان نہیں تھا، مگر بہت سے طلبہ اور طالبات نے آگے بڑھ کر بہادری کے ساتھ کیا۔

آج ہندوستان کے اصل ہیرو وہی ہیں جو موجودہ حالات میں آواز اٹھانے کی جرأت رکھتے ہیں، ایسے لوگ اگر جیلوں میں ٹھونسے جارہے ہیں تو یہ تعجب کی بات نہیں ہے کیوں کہ موجودہ تاناشاہی حکومت کو سب سے زیادہ دشمنی آواز سے ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ ان گرفتاریوں سے مسلمانوں میں خوف اور ہراسانی نہیں پھیلے، بلکہ جوش بڑھے، اور زیادہ قوت کے ساتھ آواز اٹھانے کا جوش۔

ساری دنیا نے دیکھا اور دن کے اجالے میں راجدھانی کی سڑکوں پر مہینوں تک دیکھا کہ ان طلبہ اور طالبات نے ہتھیار نہیں اٹھائے اور ہتھیار اٹھانے کی بات بھی نہیں کی، اگرچہ ان پر ہتھیار اٹھائے گئے اور انھیں ہراساں اور مشتعل کیا گیا، لیکن وہ نہ ہراساں ہوئے اور نہ مشتعل ہوئے، انھوں نے کوئی توڑ پھوڑ بھی نہیں کی، بس آواز اٹھائی، اور حق وانصاف کی آواز اٹھائی۔

دیش کےخلاف نہیں دیش کے حق میں آواز اٹھائی، پھر آخر انھیں کیوں جیلوں میں ڈالا جارہا ہے؟ اخلاقی گراوٹ کے اس زمانے میں انصاف کے تقاضوں کو پیروں تلے روندتے ہوئے انسانیت کے ان محسنوں کو گرفتار کیا جاسکتا ہے، مگر ان کی آواز کو نہیں دبایا جاسکتا ہے۔ یہ آواز بار بار اٹھے گی، لاک ڈاؤن میں بھی اٹھے گی اور لاک داؤن کے بعد بھی اٹھتی رہے گی۔ کیوں یہ انصاف اور بہادری کی آواز ہے۔