ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرم بیرسنگھ کا سنسنی خیز انکشاف
ممبئی : ۔ سابق پولیس کمشنر ممبئی پرم بیر سنگھ نے الزام عائد کیا کہ مہاراشٹرا کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے معطل شدہ ممبئی پولیس آفیسر سچن ویزے کو ہر ماہ ان کے لیے 100 کروڑ روپئے جمع کرنے کے لیے کہا تھا ۔ پرم بیر سنگھ نے یہ سنسنی خیز انکشاف چیف منسٹر مہاراشٹرا اُدھو ٹھاکرے کو روانہ

کردہ اپنے مکتوب میں کیا ہے ۔ اپنے مکتوب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران انیل دیشمکھ نے سچن ویزے کو اپنی سرکاری رہائش گاہ پر کئی مرتبہ طلب کیا تھا اور بارہا یہ ہدایت دی تھی کہ ان کے لیے فنڈس جمع کرنے میں تعاون کرے ۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس موقع پر وزیر داخلہ ایک یا دو عملہ کے ارکان بشمول پرسنل سکریٹری پلاندے بھی موجود تھے ۔ وزیر داخلہ نے سچن ویزے کو بتایا تھا کہ ہر ماہ 100 کروڑ روپئے جمع کرنے کا انہوں نے نشانہ رکھا ہے۔ سچن ویزے کو یہ بتایا گیا کہ

ممبئی میں تقریبا 1,750 بارس ، ریسٹورینٹ اور دیگر ادارے ہیں ۔ اگر ہر مقام سے دو تا تین لاکھ روپئے جمع کئے جائیں تو ماہانہ 40 تا 50 کروڑ روپئے جمع کئے جاسکتے ہیں ۔ پرم بیر سنگھ نے اپنے مکتوب میں یہ بھی لکھا کہ وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے یہ بھی کہا تھا کہ ماباقی رقم دوسرے ذرائع سے حاصل کی

جاسکتی ہے۔ پرم بیر سنگھ کے سنگین الزامات پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے ان کو جھوٹ اور دروغ گوئی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ پولیس عہدیدار کی خود کو بچانے کی یہ ایک کوشش ہے ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں