چنئی: لیفٹ آرم اسپنر جیک لیچ (76 رن پر چار وکٹ) اور تیز گیند باز جیمس انڈرسن (17 رن پر تین وکٹ) کی خطرناک گیند بازی سے انگلینڈ نے ہندوستان کو پہلے ٹیسٹ کے پانچویں اور آخری روز منگل کو 227 رنوں کے بڑے فرق سے ہرا کر چار میچوں کی سیریز میں 0-1 کی برتری قائم کرلی۔ اس شکست سے ہندوستان کی آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں جگہ بنانے کی راہ مشکل ہوگئی۔

انگلینڈ نے ہندوستان کے سامنے 420 رنوں کا بے حد مشکل ہدف رکھا تھا اور اس نے میزبان ٹیم کی اننگ آخری دن دوسرے سیشن میں 192 رن پر سمیٹ دی۔ انگلینڈ نے اس طرح غیرملکی سرزمین پر اپنی مسلسل چھٹی جیت درج کی۔ انگلینڈ نے اپنے کپتان جو روٹ کو ان کے 100ویں ٹیسٹ میں جیت کا شاندارتحفہ دیا۔ روٹ نے اس مقابلے میں پہلی اننگ میں 218 رنوں کی ریکارڈ اننگ کھیلی اور اس اننگ کے لئے مین آف دی میچ بنے۔

اس شکست سے ہندوستان کی آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں جگہ بنانے کی راہ مشکل ہوگئی ہے۔ ہندوستان کو فائنل میں جگہ بنانے کے لئے یہ سیریز1-2 یا 1-3 کے فرق سے جیتنی تھی جبکہ انگلیڈ کو 1-3، 0-3 یا 0-4 سے جیت حاصل کرنی ہے۔

ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے جدوجہد سے بھری 72 رنوں کی پاری کھیلی اور سلامی بلے باز شبھمن گل نے 50 رن بنائے لیکن وہ ٹیم کو ہار سے نہیں بچاسکے۔ ہندوستان کے دیگر بلے باز غیرمعمولی اور ٹرن لیتی پچ پر انگلینڈ کے گیند بازوں کا سامنا نہیں کر پائے۔ انگلینڈ کی جانب سے لیچ نے چار، انڈرسن نے تین، جوفراآرچر، بین اسٹوکس اور ڈومینک بیس نے ایک ایک وکٹ حاصل کیا۔

ہندوستان نے صبح ایک وکٹ پر 39 رن سے آگے کھیلنا شروع کیا تھا، لیکن اگلے دو سیشن کے اندر ہندوستانی اننگ سمٹ گئی۔ گل 50، چیتیشورپجارا15، وراٹ 72، نائب کپتان اجنکیا رہانے صفر، رشبھ بنت 11، واشنگٹن سندر صفر اور روی چندرشون نو رن بناکر آوٹ ہوئے۔ روہت شرما کل 12 رن بناکر آوٹ ہوئے۔

جب صبح کے وقت ہندوستان نے اپنی اننگ کو آگے بڑھایا تو توقع کی جا رہی تھی کہ ہندوستانی بلے باز جدوجہد کریں گے اور میچ کو ڈرا کرانے کی کوشش کریں گے، لیکن کرشمائی تیز گیند باز اینڈرسن نے صبح کے سیشن میں تین وکٹ لے کر ہندوستانی بلے بازی کی کمر توڑ دی۔

گل نے 15 اور پجارا نے 12 رنز سے ہندوستانی اننگ کو آگے بڑھایا۔ ہندوستان کو پہلا جھٹکا جلد ہی لگ گیا۔ پجارا کو لیچ نے سلپ میں بین اسٹوکس کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔ ہندوستان کا دوسرا وکٹ 58 کے اسکور پر گرا۔ پجارا نے 38 گیندوں میں ایک چوکا کی مدد سے 15 رن بنائے۔

گل اور وراٹ نے دوسرے وکٹ کے لئے 34 رنز کی شراکت قائم کی، لیکن اینڈرسن ایک خوبصورت ان سونگر سے گل کو بولڈ کر دیا۔ گل نے 83 گیندوں میں 50 رنز میں سات چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ گل کا وکٹ 92 کے اسکور پر گرا۔

رہانے نے تین گیندوں کا سامنا کیااور اینڈرسن نے ایک اور عمدہ ان سونگر سے رہانے کا آف اسٹمپ اکھاڑدیا۔ رہانے نے اپنے ڈفینس میں زیادہ گیپ چھوڑا تھا۔ رہانے کا کھاتہ نہیں کھل سکا اور ان کا وکٹ 92 کے اسکور پر گرا۔

ہندوستان کو پنت سے کافی امیدیں تھیں، جو مسلسل اچھا کھیل رہے تھے اور پہلی اننگز میں انہوں نے 91 رن بنائے تھے، لیکن اینڈرسن کی گیند پر وہ روٹ کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ پنت نے 19 گیندوں میں دو چوکوں کی مدد سے 11 رنز بنائے اور ان کا وکٹ 110 کے اسکور پر گرا۔

پہلی اننگز میں ناٹ آوٹ 85 رنز بنانے والے سندر دوسری اننگز میں کھاتہ نہیں کھول سکے۔ سندر آف اسپنر ڈومینک بیس کی گیند پر وکٹ کیپر جوس بٹلر کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ سندر نے پانچ گیندوں کا سامنا کیا اور بھارت کا چھٹا وکٹ 117 کے اسکور پر گرا۔ ہندوستان کی شکست یہیں طے ہوگئی تھی۔ تاہم وراٹ اور اشون نے جدوجہد کرتے ہوئے ہندوستان کے اسکور کو لنچ تک 144 تک لے گئے۔