نیوزی لینڈ کے خلاف انگلینڈ کی جانب سے ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے تیز گیندباز اولی رابنسن نے پہلے ہی میچ میں 7 وکٹ لے لیے اور پہلی اننگ میں 42 انتہائی اہم رن بھی بنائے۔ لیکن ان کا یہ قابل قدر کارنامہ اس وقت بے کار ثابت ہو گیا جب انھیں فوری اثر سے بین الاقوامی کرکٹ سے معطل کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ دراصل ان کی بہترین کارکردگی پر تقریباً 8 سال قبل کیا گیا وہ ٹوئٹ بھاری پڑ گیا جس میں مسلمانوں اور خواتین کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کیا گیا تھا۔ مسلمانوں کے خلاف کیے گئے ایک ٹوئٹ میں انھوں نے یہاں تک لکھا تھا کہ ’’میرا نیا مسلم دوست بم (دہشت گرد) ہے۔‘‘

دراصل رابنسن کے ٹیسٹ ڈیبیو کے بعد سے ہی ان کے کچھ پرانے ٹوئٹس وائرل ہونے لگے تھے جس میں انھوں نے نسل پرستی اور خواتین کے خلاف فحش باتیں لکھی تھیں۔ اس کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلس کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے ڈسپلنری کارروائی شروع کر دی۔ جانچ کی رپورٹ آنے تک رابنسن کو بین الاقوامی کرکٹ سے معطل کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ 2012 اور 2013 میں کیے گئے قابل اعتراض ٹوئٹ کے وائرل ہونے پر رابنسن نے معافی مانگ لی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’میں شرمندہ ہوں اپنے فحش اور نسلی تبصروں کے لیے، جو میں نے ٹوئٹر پر آج سے 8 سال پہلے شیئر کیا تھا اور وہ آج سب کے سامنے آ رہا ہے۔‘‘تیز گیندباز اولی رابنسن نے انتہائی شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’میں اس طرح کی حرکت کے لیے معافی مانگتا ہوں اور اس طرح کے تبصروں کے لیے بے حد شرمندہ ہوں۔‘‘ انھوں نے ساتھ ہی بتایا کہ مذکورہ ٹوئٹ اس وقت کیے گئے تھے جب وہ اپنی زندگی کے برے دور سے گزر رہے تھے، کیونکہ انگلش کاؤنٹی یارکشائر نے انھیں نوعمری میں باہر کر دیا تھا۔