انکم ٹیکس کے ریٹرنس میں بہت سی قومی جماعتوں نے اپنی آمدنی میں کمی بتلائی

0 17

انڈین ایکسپریس ۔ Dec-19, 2018

ترجمہ و تلخیص : محمد بہاؤالدین ایڈوکیٹ

موبائل : 9890245367

ہندوستان کے 7 قومی جماعتوں میں سے 5 جماعتوں نے اپنے آمدنی کے ریٹرنس 2017-18 میں داخل کیئے وہ پچھلے سالوں کے مقابلے میںاُن کی آمدنی کم ہےں۔ اسوسی ایشن آف ڈیماکریٹک ریفارمس کے تجزیہ کے مطابق سی پی ایم نے اپنی بڑھتی آمدنی کو دکھایا جب کہ کانگریس نے اب تک اپنی ریٹرنس داخل ہی نہیں کیجب کہ آج کی تاریخ دسمبر 17ہوچکی ہے۔ اے ڈی آر کے کہنے کے مطابق ریٹرن داخل کرنے کی آخری تاریخ30اکتوبر تھی۔
بی جے پی نے اپنی آمدنی میں کمی بتاتے ہوئے کہا کہ دو تہائی رقم 137.58کروڑ سے گھٹ کر 51.69کروڑ ہوگئی ہے۔ جب کہ این سی پی کی آمدنی بھی سابقہ ریٹرن سے نصف حد تک کم ہوگئی ہے۔ اس لئے وہ 17.23کروڑ سے گھٹ کر 8.15کروڑ ہوگئی ہے۔ بی جے پی کی آمدنی گھٹ کر یعنی 1034.27کروڑ سے گھٹ کر 1027.34کروڑ ہوگئی ایسا اس تجزیہ میں پایا گیا۔

6جماعتوں نے آمدنی کی تفصیلات داخل کرتے ہوئے اضافہ بقدر 1198.76کروڑ تک بتایا۔ جس میں سے بی جے پی کے 1034.27کروڑ یعنی 86فیصد بی جے پی کی آمدنی ہے۔ بی جے پی نے اس بات کا بھی اعلان کیا ہے کہ اُن کا خرچ 74فیصد یعنی 758.47کروڑ ہوا ہے جو اُن کی آمدنی میں سے منہا ہوگا۔ جب کہ بی ایس پی نے 29فیصد (یعنی 14.78کروڑ) جو 51.69کروڑ میں سے کیا گیا۔ جب کہ اُس کی آمدنی 8.15کروڑ تھی‘ یعنی آمدنی سے خرچ زیادہ ہواہے۔ 1198.76کروڑ میں سے 86فیصد یعنی 1014.80کروڑ رضاکار تنظیموں کی طرف سے چندہ موصول ہوا۔ حصولِ آمدنی کے لئے جو الیکشن بانڈ انفرادی طور پر لوگوں کو دیئے گئے تھے اُس کے علاوہ الیکشن ٹرسٹ وغیرہ سے دیگر امداد بھی حاصل ہوئی ہے۔ اجیون سہیوگ ندھی کے ڈونیشنس بھی ارکان و مختلف مورچوں کے چندے کے ذریعہ حاصل ہوئے ہیں اور میٹنگوں میں ہونے والے دیگر چندوں کی سب سے زیادہ آمدنی یعنی 714.57کروڑ دیگر مدات سے حاصل ہوئے۔ اے ڈی آر کا تجزیہ بتاتا ہے کہ صرف بی جے پی نے اپنی معلنہ آمدنی کا 210کروڑ کو الیکٹرل بانڈ کے ذریعہ حصول بتایا گیا ہے۔ مذکورہ بالا معلومات اے ڈی آر نے شائع کی ہیں۔