انڈین ویمنز لیگ کی فروخت نے آئی پی ایل کو پیچھے چھوڑ دیا

437

بی سی سی آئی کے سیکرٹری جے شاہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ آج تاریخی دن ہے۔ ویمنز لیگ نے مینز آئی پی ایل کا ریکارڈ توڑ دیا ہے(تصویر: بی سی سی آئی) کرکٹ کی دنیا میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) نے نئے زاویے اور رجحان قائم کیے ہیں اور کرکٹ کو ایک انڈسٹری کی شکل دے دی ہے۔ اس کا حجم دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور بڑے کاروباری ادارے اب اپنا سرمایہ اس سدا بہار فصل میں لگانا چاہتے ہیں۔

انڈین کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی مارچ سے پہلی ویمنز پریمیئر کرکٹ لیگ کا آغاز کر رہا ہے۔ اس لیگ کے فارمیٹ کے مطابق پانچ ٹیموں کو نیلامی کے ذریعے فروخت کیا جانا ہے اور اس کے لیے خواہش مندوں سے پیش کش طلب کی گئی تھی۔

بدھ کو جب انڈیا کی ویمنز لیگ کی نیلامی کے لیے پیشکش کھولی گئی تو کرکٹ کے ذمہ دار حیران رہ گئے، کیوں کہ اس لیگ کے لیے کوئی بنیادی قیمت مقرر نہیں کی گئی تھی اور دلچسپی رکھنے والے اداروں کو اپنی پیشکش دینے کی کھلی اجازت تھی۔

بی سی سی آئی نے ویمنز لیگ کے لیے پانچ ٹیموں کا اعلان کیا تھا اور خریداری کے خواہش مندوں کو اپنی پسند کی ٹیم کے لیے پیشکش دینی تھی۔

جب ٹیموں کے لیے نیلامی ہوئی تو پانچوں ٹیمیں ایک ریکارڈ رقم چار ہزار چھ سو 70 کروڑ روپے میں فروخت ہوئیں۔

یہ آئی پی ایل کے افتتاحی سال میں نیلامی سے بہت زیادہ ہے۔ آئی پی ایل کی چھ ٹیمیں 2008 میں 72 کروڑ 30 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی تھیں۔

بی سی سی آئی کے سیکرٹری جے شاہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’آج تاریخی دن ہے۔ ویمنز لیگ نے مینز آئی پی ایل کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔‘

اس لیگ کا نام کیا ہو گا؟

اکثریت کا خیال تھا کہ اس ویمنز لیگ کا نام آئی پی ایل ویمنز ہوگا لیکن جے شاہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کا نام ویمنز پریمیئر لیگ (ڈبلیو پی ایل) ہوگا۔

اس کا مطلب ہے کہ یہ آئی پی ایل کا عکس نہیں بلکہ متوازی لیگ ہو گی۔

کون خریدار کامیاب رہا؟

بی سی سی آئی نے پانچ شہروں کے نام پر بنگلور، دہلی، احمد آباد، ممبئی اور لکھنؤ کی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔

ان ٹیموں کو خریدنے کے لیے آئی پی ایل کی تمام دس فرنچائز نے کوشش کی تھی۔ اس کے علاوہ مشہور کاروباری ادارے اور کچھ بینکوں نے بھی پیشکش جمع کروائی تھیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مٹھائی اور نمکو بنانے والے معروف ادارے ہلدی رام نے بھی اس نیلامی میں حصہ لیا تھا تاہم وہ ناکام رہے۔

ویمنز لیگ کی سب سے مہنگی ٹیم احمدآباد رہی، جسے انڈیا کے سب سے امیر ادارے آڈانی گروپ نے 12 سو 89 کروڑ روپے میں خریدا ہے۔

ریلائینس گروپ کے ممبئی انڈینز نے ممبئی کی ٹیم کو 919 کروڑ میں حاصل کیا ہے۔

رائل چیلینجرز بنگلور بھی پیچھے نہیں رہی اور اس نے 900 کروڑ میں بنگلور کو خریدا ہے۔ دہلی کیپیٹلز کے مالک جی ایم آر گروپ نے 810 کروڑ میں دہلی کو خریدا ہے۔ لکھنؤ جائینٹس کے مالک کیپری ہولڈنگز نے لکھنؤ کو 757 کروڑ میں خریدا ہے۔

ویمنز لیگ ٹیمیں خریدنے میں بہت کوشش کے باوجود شاہ رخ خان کی کلکتہ نائٹ رائیڈرز اور پریتی زنٹا کی پنجاب سپر کنگز سمیت دوسری فرنچائزز ناکام رہیں۔