انڈین فین کا آئی فون 14 پرو خریدنے کے لیے دبئی کا سفر

212

جنوبی ریاست کیرالہ کے ایک شخص نے آئی فون کا نیا ماڈل خریدنے کے لیے ہزاروں میل دور دبئی کا سفر صرف اس لیے کیا تاکہ وہ انڈیا میں اس فون کے لانچ ہونے سے چند گھنٹے پہلے اسے خرید سکے۔

دھیرج پالیئل نے گذشتہ ہفتے آئی فون 14 پرو خریدنے کے لیے بیرون ملک کے لیے پرواز پکڑی تاکہ وہ نیا لانچ ہونے والے فون رکھنے والے دنیا کے پہلے چند افراد میں شامل ہو جائیں۔

انھون نے دبئی کے اپنے سفر کے ٹکٹوں پر لگ 40 ہزار انڈین روپے (تقریبا 500 ڈالر) خرچ کیے، اور نئے ماڈل کو خریدنے کے لیے مزید 129,000 انڈین روپے ادا کیے۔

آئی فون 14 دنیا کے سب سے پسندیدہ سمارٹ فونز میں سے ایک ہے۔ایپل کی طرف سے سنہ 2007 میں پہلی بار آئی فون لانچ کیا گیا تھا اور اس فون نے موبائل ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا کر دیا تھا اور کمپنی کی زبردست کامیابی کے پیچھے اسے ایک بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔

وقت کے ساتھ اس فون کے مداحوں نے اس کے جدید ترین ماڈلز خریدنے کے لیے بہت ساری کوششیں کی ہیں۔ بہت سے لوگ آئی فون رکھنے کو بھی سٹیٹس سمبل یا ’حیثیت کا مظہر‘ سمجھتے ہیں۔ فون کی لانچنگ کے دن فون خریدنے کے لیے لوگوں کے اپنے اعضا بیچنے اور ایپل سٹورز کے باہر سینکڑوں گھنٹے قطاروں میں کھڑے ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

لیکن 28 سالہ مسٹر پالیئل نے ایسا کام کوئی پہلی بار نہیں کیا ہے۔ انھوں نے انڈیا میں دوسروں سے پہلے آئی فون خریدنے کے لیے پہلے بھی دبئی کا سفر کیا تھا اور یہ ان کا چوتھا ایسا سفر جو انھوں آئی فون خریدنے کی غرض سے کیا۔
پہلی بار سنہ 2017 میں جب آئی فون 8 لانچ ہوا تھا تو انھوں نے دبئی جا کر اسے خریدا تھا۔ اس کے بعد سنہ 2019 اور 2021 میں بھی انھوں نے ایسا ہی کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں انتظار نہیں کر سکتا‘ اور یہ کہ انھیں ’فون حاصل کرنے والے پہلے لوگوں میں شامل ہونے کے لیے ایپل سٹور کے باہر انتظار کرنے کا جوش پسند ہے۔‘

مسٹر پالیئل نے 16 ستمبر کو دبئی کے ایک شاپنگ مال سے اپنا تازہ ترین آئی فون خریدا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’پچھلے آئی فون کے لانچ کے دوران، فون عام طور پر بیرون ملک فروخت کے 10-15 دن بعد ہی انڈیا میں لانچ کیے جاتے تھے۔ تاہم، اس بار انڈیا میں فروخت صرف چند گھنٹے بعد شروع ہونا تھی، لیکن دبئی مین جدید ترین فون خریدنا میری عادت بن گئی ہے۔‘
مسٹر پالیئل ایک سینمیٹوگرافر اور ایک کاروباری شخصیت ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے ٹیکنالوجی کے شوقین رہے ہیں اور ایپل کے سابق سی ای او سٹیو جابز سے بہت متاثر ہیں جو سنہ2011 میں وفات پا چکے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ اُن (سٹیو جابز) کے کام کو یاد کرنے کا میرا اپنا طریقہ ہے۔‘

جب ان کے دوروں کے بارے میں ان کے خاندان کے ردعمل کے بارے میں پوچھا گیا تو مسٹر پالیئل نے کہا کہ پہلے وہ بالکل نہیں سمجھتے تھے کہ میں نے ایسا کیوں کیا۔

انھوں نے کہا: ’وہ مجھے پرتعیش اشیا پر پیسہ ضائع کرنے والے شخص کی حیثیت سے چھیڑتے تھے۔ میں انھیں ہمیشہ کہتا ہوں کہ یہ صرف ایک مہنگی چیز خریدنے کے بارے میں نہیں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ آخرکار اُن کے خاندان والون نے نرمی اختیار کر لی اور اب وہ بھی اُن کی حمایت کرتے ہیں۔’در حقیقت اب وہی مجھے نئے فون لانچ کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں اور مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں اسے خریدنے کے لیے دبئی کب جانے والا ہوں۔‘ (بہ شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام)